بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سنت وبدعت

جشنِ ولادت یا وفات؟

سوال:۔

ہمارے ہاں ۱۲؍ربیع الاوّل کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یومِ ولادت بڑے تزک واحتشام سے منایا جاتا ہے، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ نیز یہ جشنِ ولادت ہے یا وفات؟

جواب:۔

ہمارے یہاں ربیع الاوّل میں ’’سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کے جلوسوں کا اہتمام کیا جاتا ہے اور ’’جشنِ عید میلاد النبی‘‘ بھی بڑی دُھوم دھام سے منایا جاتا ہے، چراغاں ہوتا ہے، جھنڈیاں لگتی ہیں، جلسے ہوتے ہیں، جلوس نکلتے ہیں، ان تمام اُمور کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقِ محبت کی ادائیگی سمجھا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں اہلِ فکر کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخِ ولادت میں مشہور قول ۱۲؍ربیع الاوّل کا ہے،(۱) لیکن محققین کے نزدیک راجح یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ۸؍ربیع الاوّل کو ہوئی،(۲) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات شریفہ راجح اور مشہور قول کے مطابق ۱۲؍ربیع الاوّل کو ہوئی۔(۳) گویا ربیع الاوّل کا مہینہ اور اس کی بارہ تاریخ صرف آپ کا یومِ ولادت نہیں بلکہ یومِ وفات بھی ہے۔ جو لوگ اس مہینے اور اس تاریخ میں ’’جشنِ عید‘‘ مناتے ہیں، انہیں سو بار سوچنا چاہئے کہ کیا وہ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر تو ’’جشنِ عید‘‘ نہیں منارہے؟

مسلمان بڑی بھولی بھالی قوم ہے، دُشمنانِ دِین کے خوشنما عنوانات پر فریفتہ ہوجاتی ہے۔ صفر کے آخری بدھ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مرضِ وفات شروع ہوا،(۴) دُشمنوں کو اس کی خوشی ہوئی، اور اس خوشی میں مٹھائیاں بانٹنا شروع کیں، اِدھر مسلمانوں کے کان میں چپکے سے یہ پھونک دیا کہ اس دن آنحضور سروَرِ کون و مکاں صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’غسلِ صحت‘‘ فرمایا تھا اور آپ سیر و تفریح کے لئے تشریف لے گئے تھے۔ ناواقف مسلمانوں نے دُشمن کی اُڑائی ہوئی اس ہوائی کو ’’حرفِ قرآن‘‘ سمجھ کر قبول کرلیا اور اس دن گھر گھر مٹھائیاں بٹنے لگیں۔ جس طرح ’’یومِ مرض‘‘ کو ’’یومِ صحت‘‘ مشہور کرکے دُشمنانِ رسول نے خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی کہلانے والوں سے اس دن مٹھائیاں تقسیم کرائیں، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ’’یومِ وفات‘‘ کو ’’یومِ میلاد‘‘ مشہور کرکے مسلمانوں کو اس دن ’’جشنِ عید‘‘ منانے کی راہ پر لگادیا۔ شیطان اس قوم سے کتنا خوش ہوگا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرضِ موت پر مٹھائیاں تقسیم کرتی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے دن ’’جشن‘‘ مناتی ہے۔۔۔! کیا دُنیا کی کوئی غیرت مند قوم ایسی ہوگی جو اپنے مقتدا و پیشوا کے یومِ وفات پر ’’جشنِ عید‘‘ مناتی ہو؟ اگر نہیں، تو سوال یہ ہے کہ مسلمان ’’بارہ وفات‘‘ پر ’’جشنِ عید‘‘ کس کے اِشارے پر مناتے ہیں؟ کیا اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کام کا حکم دیا تھا؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دُنیا سے تشریف لے جاتے ہوئے فرماگئے تھے کہ میری وفات کے دن کو ’’عید‘‘ بنالینا؟ کیا خلفائے راشدینؓ، صحابہؓ و تابعینؒ اور اَئمہ مجتہدینؒ میں سے کسی نے اس دن ’’جشنِ عید‘‘ منایا؟ کیا حدیث و فقہ کی کسی کتاب میں مذکور ہے کہ ’’بارہ وفات‘‘ کا دن اسلام میں ’’عید‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے؟ اور یہ کہ اس دن مسلمانوں کو سرکاری طور پر چھٹی کرنی چاہئے اور ’’جشنِ عید‘‘ منانا چاہئے۔۔۔؟

’’جشنِ عید‘‘ منانا روافض کے ماتمِ محرّم کی تقلید ہے، اور کسی کی برسی منانا (خواہ پیدائش کی ہو یا وفات کی) خود خلافِ عقل ودانش ہے، حضرت شاہ عبدالعزیز صاحبؒ ’’تحفۂ اثنا عشریہ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:

’’نوع پانزدہم امثال متجددہ را یک چیز بعینہٖ دانستن، وایں وہم خیلے برضعیف العقول غلبہ دارد حتیٰ کہ آب دریا و شعلہ وچراغ و آب فوارہ را اکثر اشخاص یک آب و یک شعلہ خیال کنند، واکثر شیعہ در عادات خود منہمک ایں خیال اند، مثلاً روز عاشورا در ہر سال کہ بیاید آں را روزِ شہادت حضرت اِمامِ عالی مقام حسین علیہ السلام گمان برند و احکام ماتم و نوحہ وشیون وگریہ وزارے۔ وفغاں و بے قرارے آغاز نہند مثل زنان کہ ہر سال بر میّت خود ایں عمل نمایند، حالانکہ عقل بالبداہت میداند کہ زمان امر سیال غیر قارست ہرگز جز او ثبات و قرار ندا رد و اعادۂ معدوم محال و شہادت حضرت اِمام در روزے شدہ بود کہ ایں روز ازاں روز فاصلہ ہزار و دو صد سال دارد ایں روز را بآں روز چہ اتحاد وکدام مناسبت و روز عیدالفطر وعید النحر را بریں قیاس نباید کرد کہ در آں جا مایہ سرور و شادے سال بسال متجدد ست یعنی اداء روزہ رمضان و ادائے حج خانہ کعبہ کہ (شُكْرُ النِّعْمَةِ الْمُتَجَدِّدَةِ) سال بسال فرحت و سرور نو پیدا مے شود ولہٰذا اعیاد شرائع بریں وہم فاسد نیامدہ بلکہ اکثر عقلا نیز نوروز مہرجان و امثال ایں تجددات و تغیرات آسمانی را عید گرفتہ اند کہ ہر سال چیزے نو پیدا می شود و موجب تجدد اَحکام میباشد وعلیٰ ہذا القیاس تعید بعید بابا شجاع الدین وتعید بعید غدیر و امثال ذالک مبنی بر ہمیں وہم فاسد ست از ینجا معلوم شد کہ روز نزول آیۃ (ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ) و روز نزولِ وحی و شبِ معراج را چرا در شرع عید قرار ندادہ اند وعید الفطر وعید النحر را قرار دادہ اند و روز تولد و وفات ہیچ نبے را عید نگردانیدند و چرا صوم یوم عاشورا کہ در سال اول بموافقت یہود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بجا آوردہ بودند منسوخ شد دریں ہمہ ہمیں سرست کہ وہم را دخلے نباشد بدون تجدد نعمت حقیقۃ سرور و فرحت نمودن یا غم و ماتم کردن خلافِ عقل خالص از شوائب وہم است۔‘‘

(تحفہ اثنا عشریہ، فارسی، ص:۳۵۱)

ترجمہ:۔ ’’نوع پانزدہم نئی نئی اَمثال کو ایک چیز بعینہٖ جاننا اور یہ وہم کرنا ضعیف العقول پر بہت غلبہ رکھتا ہے، یہاں تک کہ دریا کے پانی اور شعلہ اور چراغ اور آب فوارہ کو اکثر لوگ ایک آگ اور ایک شعلہ خیال کرتے ہیں۔ اکثر شیعہ ان خیالات کے عادتوں میں ڈُوبے ہوئے ہیں، مثلاً ہر سال دسویں محرّم کی ہوتی ہے، ہر سال روزِ شہادت حضرت اِمامِ عالی مقام حسین علیہ السلام کا گمان کرتے ہیں اور احکامِ ماتم اور شیون اور گریہ وزاری اور فغاں و بے قراری شروع کرتے ہیں، عورتوں کی طرح کہ ہر سال اپنی میّت پر یہ عمل کرتے ہیں، حالانکہ عقل صریح جانتی ہے کہ زمانہ ہر سال کا غیر قار ہے، یعنی قرار نہ پکڑنے والا، کوئی جز اس کا ثابت و قائم نہیں رہتا، اور اس زمانے کا لوٹنا بھی محال ہے، اور شہادت حضرت اِمام رضی اللہ عنہ کی جس دن ہوئی اُس دن سے اِس دن تک فاصلہ گیارہ سو پچاس برس کا ہوا، پھر یہ اور وہ دن کیسے ایک ہوگیا اور کونسی مناسبت ہوگئی؟

عیدالفطر اور عیدِ قرباں کو اس پر قیاس کرنا نہیں چاہئے، کیونکہ اس میں خوشی اور شادی سال در سال نئی ہے، یعنی روزے رمضان کے ادا کرنا اور حج خانہ کعبہ کا بجا لانا کہ شکر النعمۃ المتجدّدۃ (یعنی شکر ہے نئی نئی نعمت کا) سال در سال فرحت و سرور نیا پیدا ہوتا ہے۔ اسی واسطے عیدین شریعت کی اس وہمِ فاسد پر مقرّر نہیں ہوئی ہیں، بلکہ اکثر عقلاء نے بھی نوروز اور مہرجان اور اَمثال اس کی نئی باتوں اور تغیرِ آسمانی کو خیال کرکے عید اِختیار کی ہے کہ ہر سال ایک چیز نئی پیدا ہوتی ہے، اس پر نئے نئے اَحکام کئے جاتے ہیں اور علیٰ ہذا القیاس بابا شجاع الدین کی عید منانا اور غدیر خم کی عید منانا اور مثل ان کے، سب کی بنا، وہمِ فاسد پر ہے، اور اسی موقع سے معلوم ہوا کہ جس روز یہ آیت نازل ہوئی: ’’ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ‘‘ اور جس دن وحی نازل ہوئی اور شبِ معراج، ان دنوں کو شرع میں کیوں نہیں عید ٹھہرایا ہے اور عید الفطر اور عیدِ قرباں کو عید ٹھہرایا، وہ دن بھی تو بڑی خوشی کے تھے، ایسے کسی نبی کے تولد اور وفات کے دن کو عید نہ ٹھہرایا اور روزہ عاشورا کا کہ اوّل سال یہود کی موافقت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا تھا، کیوں منسوخ ہوا؟ ان سب باتوں میں یہی بھید تو ہے کہ وہم کو دخل نہ ہونے پائے بغیر کسی نئی نعمت حقیقیہ کے فرحت اور سرور کا ہونا یا غم اور ماتم کرنا، اس عقل کے خلاف ہے جو آمیزش وہم سے خالص ہے۔‘‘ (ترجمہ تحفۂ اثنا عشریہ ص:۷۲۶)

علاوہ ازیں اس قسم کے جشنوں میں وقت برباد ہوتا ہے، ہزاروں روپیہ ضائع ہوتا ہے، نمازیں غارت ہوتی ہیں، نمود و نمائش ہوتی ہے، مردوں عورتوں کا اختلاط ہوتا ہے، بے حجابی و بے پردگی ہوتی ہے۔ ذرا غور کیجئے! کیا ان تمام باتوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوۂ حسنہ سے کوئی جوڑ ہے؟ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس نام پر ان تمام چیزوں کا روا رکھنا کتنا بڑا ظلم ہے۔۔۔؟

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ شریفہ اور آپ کا وجودِ سامی سراپا رحمت ہے (حق تعالیٰ شانہ کی مزید عنایت در عنایت یہ کہ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں شامل ہونے کا شرف عطا فرمایا، اَللّٰھُمَّ فَلَکَ الْحَمْدُ وَلَکَ الشُّکْر) مگر اس رحمت سے فائدہ اُٹھانے والے وہی خوش قسمت ہیں جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و سیرت کو اپنانے اور آپ کے مقدس اُسوۂ حسنہ پر گامزن ہونے کی توفیق ارزانی کی جاتی ہے کہ یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کا مقصدِ وحید ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوۂ حسنہ ہر اُمتی کے لئے مینارۂ نور ہے اور دِین و دُنیا کی فلاح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و عادات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اَحکام و اِرشادات کے اِتباع پر موقوف ہے اور اس کی ضرورت صرف نماز روزہ وغیرہ عبادات تک محدود نہیں، بلکہ عقائد و عبادات، معاملات و معاشرت، اخلاق و عادات اور شکل و شمائل الغرض! زندگی کے ہر شعبے کو محیط ہے۔

اُمتِ مسلمہ کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوۂ حسنہ کی پیروی کا التزام متعدّد وجوہ سے ضروری ہے۔

اوّل:۔ حق تعالیٰ شانہ نے بار بار تاکیداتِ بلیغہ کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرماںبرداری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشِ قدم کی پیروی کا حکم فرمایا ہے، بلکہ اپنی اطاعت و بندگی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اِتباع کے ساتھ مشروط فرمایا ہے، چنانچہ ارشاد ہے:

ﵟ مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدۡ أَطَاعَ ٱللَّهَۖ ﵞ (النساء٨٠)

دوم:۔ ہم لوگ ’’لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللهِ‘‘ کا عہد کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان لائے ہیں اور ہمارے اس ایمانی عہد کا تقاضا ہے کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایک فیصلے پر دِل و جان سے راضی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایک حکم کی تعمیل کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک سنت کو اَپنائیں، حق تعالیٰ شانہ کا ارشاد ہے:

ﵟ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤۡمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيۡنَهُمۡ ثُمَّ لَا يَجِدُواْ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ حَرَجٗا مِّمَّا قَضَيۡتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسۡلِيمٗا ٦٥ ﵞ (النساء ٦٥)

سوم:۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر اُمتی کے لئے محبوب ہیں اور یہ محبت شرطِ ایمان ہے، ارشادِ نبوی ہے:

’’وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ! لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی أَکُوْنَ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ أَجْمَعِیْنَ۔‘‘ (صحیح بخاری، کتاب الایمان، باب حب الرسول صلی اللہ علیہ وسلم من الایمان ج:۱ ص:۶)

اور محبت کا خاصہ ہے کہ ایک محبِ صادق اپنے محبوب کی ہر ہر اَدا پر مرمٹتا ہے، اور اسے محبوب کی تمام ادائیں محبوب ہوتی ہیں، یہ نہ ہو تو دعویٔ محبت محض لاف و گزاف ہے۔ پس ہماری ایمانی محبت کا تقاضا ہے کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوۂ حسنہ کے سانچے میں ڈَھل جائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک ادا پر مرمٹیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک سنت کو زندہ کریں، اس کے بغیر ہمیں بارگاہِ الٰہی سے محبتِ نبوی کی سند نہیں مل سکتی۔

چہارم:۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کمالِ انسانیت کا نقطۂ معراج ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ادائیں، تمام سنتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پورا اُسوۂ حسنہ مظہرِ کمال بھی ہے اور مظہرِ جمال بھی۔ پس جو شخص جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرے گا اور اسے جس قدر اُسوۂ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا و اِتباع نصیب ہوگی، اسی قدر کمالِ انسانیت سے بہرہ ور ہوگا، اور جس قدر اسے اُسوۂ نبوی سے بُعد ہوگا، اسی قدر وہ کمالاتِ انسانیت سے گرا ہوا ہوگا۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی ’’انسانِ کامل‘‘ کے لئے معیار اور نمونے کی حیثیت رکھتی ہے۔ پس نہ صرف اہلِ ایمان کو بلکہ پوری انسانیت کو لازم ہے کہ کمالِ انسانی کی معراج تک پہنچنے کے لئے اس ’’انسانِ کامل‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشِ قدم کی پیروی کرے، واللہ اعلم!

یہ اس اُمت پر حق تعالیٰ شانہ کا احسانِ عظیم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم محبوب رَبّ العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوۂ حسنہ کا مکمل ریکارڈ اُمت کے سامنے اس طرح موجود ہے کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چلتے پھرتے، اُٹھتے بیٹھتے اور سوتے جاگتے ہماری نظروں کے سامنے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ شمائل اور احادیث کا مستند ذخیرہ موجود ہے، اور ہر دور میں اکابرِ اُمت اور حضراتِ محدثینؒ نے اسے اپنے اپنے انداز میں مرتب فرمایا ہے، تاکہ اُمت ہر شعبۂ زندگی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات واِرشادات سے واقف ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کی پیروی کو اپنا مقصدِ زندگی بنائے اور اُسوۂ نبوی کے قالب میں اپنی زندگی کے تمام شعبوں کو ڈھالے۔

موجودہ دور میں جبکہ سروَرِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں سے مغایرت بڑھتی جارہی ہے اور مسلمان اپنے دِین کی تعلیمات اور اپنے مقدس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوۂ حسنہ کو چھوڑ کر غیروں کے طور طریقے اپنا رہے ہیں، اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ مسلمانوں کو چند روزہ جشن منانے کے بجائے ان کی متاعِ گم گشتہ کی طرف بار بار بلایا جائے اور انہیں اسلامی تعلیمات اور سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی دعوت دی جائے، کیونکہ مسلمانوں کی دُنیوی و اُخروی ہر طرح کی صلاح و فلاح اِتباعِ سنت ہی میں مضمر ہے۔

  1. (۱) والمشھور أنہ صلی اللہ علیہ وسلم ولد یوم الْإثنین ثانی عشر ربیع الأوّل وھو القول الثالث فی الکلام المصنف وھو قول محمد بن اسحاق بن یسار وإمام المغازی وقول غیرہ قال ابن کثیر وھو المشھور عند الجمھور وبالغ ابن الجوزی وابن الجزار فنقلا فیہ الْإجماع وھو الذی علیہ العمل۔ (المواھب اللدنیّۃ ج:۱ ص:۱۳۲ طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔
  2. (۲) وقیل لثمان خلت منہ قال الشیخ قطب الدین القسطلانی وھو اختیار أکثر أھل الحدیث ونقل عن ابن وجبیر بن مطعم وھو اختیار أکثر من لہ معرفۃ بھٰذا الشأن یعنی التاریخ واختارہ الحمیدی وشیخہ بن حزم وحکی القضاعی فی عیون المعارف إجماع أھل الزیج علیہ ورواہ الزھری عن محمد بن جبیر بن مطعم وکان محمد عارفًا بالنسب وأیام العرب أخذ ذٰلک عن أبیہ جبیر۔ (المواھب اللدنیّۃ مع شرحہ ج:۱ ص:۱۳۱-۱۳۲ طبع دار المعرفۃ بیروت)۔
  3. (۳) وکانت وفاتہ یوم الْإثنین بلا خلاف من ربیع الأوّل وکاد یکون إجماعًا ۔۔۔ ثم عند إسحاق والجمھور أنھا فی الثانی عشر منہ۔ (فتح الباری، باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاتہ ج:۸ ص:۱۲۹)۔ فتوفی علیہ الصلاۃ والسلام حین زاغت الشمس وذٰلک عند الزوال ۔۔۔ ثم الذی عند ابن اسحاق والجمھور ۔ أنہ مات لِاثنتی عشرۃ لیلۃ خلت من شھر ربیع الأوّل ۔۔۔ ثم ان وفاتہ علیہ الصلاۃ والسلام فی الیوم الْإثنین۔ (المواھب اللدنیّۃ مع شرحہ ج:۳ ص:۱۱۰-۱۱۱ طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔
  4. (۴) فصل فی حوادث السَّنَۃ الحادیۃ عشرۃ من الھجرۃ ۔۔۔ وفیھا مرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی آخر الأربعاء من صفر وکان ذٰلک الیوم ثلاثین من شھر صفر المذکور۔ (بذل القوۃ فی حوادث سنی النبوۃ ص:۲۹۶ طبع جامعۃ السند، حیدرآباد، پاکستان، أیضًا البدایۃ والنھایۃ ج:۳ ص:۱۹۷، تاریخ طبری ج:۳ ص:۱۸۴، تاریخ ابن کثیر ج:۲ ص:۱۲۱)۔