بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سنت وبدعت

میلاد کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید قرار نہیں دیا

سوال:۔

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے آیت: ’’ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ‘‘ تلاوت فرمائی، تو ایک یہودی نے کہا: اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی، تو ہم اس دن کو عید مناتے۔ اس پر حضرت ابنِ عباسؓ نے فرمایا: یہ آیت نازل ہی اُس دن ہوئی جس دن دو عیدیں تھیں، یومِ جمعہ اور یومِ عرفہ۔ (مشکوٰۃ شریف ص:۱۲۱) اس حدیث کی تفسیر میں اہلِ بدعت کا نامور مولوی ابو داؤد محمد صادق لکھتا ہے کہ:

’’مقامِ غور ہے کہ جلیل القدر صحابہؓ نے تو یہ نہیں فرمایا کہ: اسلام میں صرف عیدالفطر اور عیدالاضحی مقرّر ہیں، اور ہمارے لئے کوئی تیسری عید منانا بدعت و ممنوع ہے، بلکہ یومِ جمعہ کے علاوہ یومِ عرفہ کو بھی عید قرار دے کر واضح فرمایا کہ واقعی جس دن اللہ کی طرف سے کوئی خاص نعمت عطا ہو، خاص اس دن بطور یادگار عید منانا، شکرِ نعمت اور خوشی و مسرّت کا اظہار کرنا جائز اور دُرست ہے‘‘۔

جواب:۔

اگر بدعت و ممنوع نہ ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ضرور عید میلاد مناتے، جب انہوں نے نہیں بنائی اور نہ منائی تو کسی کو نئی شریعت تصنیف کرنے کا کیا حق ہے۔۔۔؟ اور جمعہ کو تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید قرار دیا، عیدمیلاد کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں عید قرار نہیں دیا؟ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس ’’خاص نعمت‘‘ کی خوشی نہیں تھی۔۔۔؟(۱)

  1. (۱) ومنھا إلتزام الکیفیات والھیئات المعینۃ کالذکر بھیئۃ الْإجتماع علٰی صوت واحد واتخاذ یوم ولَادۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدًا، وما اشبہ ذٰلک ۔۔۔الخ۔ (الْإعتصام ج:۱ ص:۲۹)۔