سنت وبدعت
’’عہدنامہ‘‘ میّت کی قبر میں رکھنا بدعت ہے؟
سوال:۔
’’عہدنامہ‘‘ کی حقیقت کیا ہے؟ کیا یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردے کے ساتھ کفن میں اس طرح کا کوئی عہدنامہ رکھا؟ کیا یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سنت ہے؟ سلف صالحین سے اس کا کوئی ثبوت ملتا ہے؟
جواب:۔
’’عہدنامہ‘‘ میّت کی قبر میں رکھنا بدعت ہے، اور اس سے اللہ تعالیٰ کے نام پاک کی بے حرمتی ہوتی ہے، واللہ اعلم!(۱)
- (۱) وفی فتاوی المحقق ابن حجر المکی الشافعی: سئل عن کتابۃ العہد علی الکفن ۔۔۔ افتی بجواز کتابۃ قیاسًا علٰی کتابۃ: ’’ﷲ‘‘ فی إبل الزکٰوۃ ۔۔۔ وفیہ نظر، وقد أفتٰی ابن الصلاح بأنہ لَا یجوز ان یکتب علی الکفن یٰسٓ والکھف ونحوھا خوفًا من صدید المیّت، والقیاس المذکور ممنوع لأن القصد ثم التمیز، وھنا التبرک، فالأسماء المعظمۃ باقیۃٌ علٰی حالھا فلا یجوز تعریضھا للنجاسۃ۔ (شامی ج:۲ ص:۲۴۶ طبع ایچ ایم سعید، وأیضًا بہشتی زیور حصہ دوم ص:۵۰ طبع لَاہور)۔

