سنت وبدعت
کیا اہلِ بدعت کو اہلِ کتاب کہنا جائز ہے؟
سوال:۔
موجودہ مشرکین یعنی جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو عالم الغیب، مختارِ کل وغیرہ مانتے ہیں، جبکہ وہ پہلے ایمان پر بھی نہیں تھے اور یہود و نصاریٰ کی طرح دِینِ سماوی میں غلط تأویلات و تحریفات کرکے بنیادی اسلامی عقائد کو بدل ڈالنے کے مرتکب بھی ہوتے ہیں، تو کیا وجہ ہے کہ ان کو یہود و نصاریٰ وغیرہ اہلِ کتاب پر قیاس نہ کیا جائے، کیونکہ علت ان میں یکساں ہیں؟
جواب:۔
غلط تأویلات کے ذریعے عقائدِ حقہ سے اِنحراف کرنے والوں کو ’’اہلِ کتاب‘‘ نہیں کہا جاتا، بلکہ اہلِ بدعت کہا جاتا ہے۔ پھر بدعت کی دو قسمیں ہیں: بعض کفر کی حد تک پہنچتی ہیں، بعض نہیں۔ جس شخص کی بدعت حدِ کفر تک پہنچی ہوئی ہو، اس کا حکم زِندیق اور مرتد کا ہے،(۱) اور اس کے ساتھ کسی مسلمان کا نکاح جائز نہیں۔(۲) لیکن جس کی بدعت حدِ کفر تک پہنچی ہوئی نہ ہو، اس سے نکاح تو صحیح ہے، مگر منع ہے۔(۳) قیاس کا حق مجتہد کو ہوتا ہے، نہ میں مجتہد ہوں، نہ آپ۔۔۔!
- (۱) وان اعترف بہ ظاہرًا لٰکنہ یفسر بعض ما ثبت من الدِّین ضرورۃ بخلاف ما فسرہ الصحابۃ والتابعون وأجمعت علیہ الاُمّۃ فھو الزِّندیق۔ (المسویٰ لشاہ ولی اللہ ج:۲ ص:۱۳۰)۔
- (۲) الزندقۃ کفر ۔۔۔ حکم اموال الزنادقۃ حکم المرتدین فلا تقبل منھم جزیۃ ولَا تنکح نسائھم ۔۔۔ الخ۔ (موسوعۃ نضرۃ النعیم ج:۱ ص:۴۵۸۵، ۴۵۸۷)۔
- (۳) الصواب عند الأکثرین من علماء السلف والخلف انا لَا نکفر أھل البدع والأھواء إلّا أن اتوا بمکفر صریح لَا استلزامی لأن الأصح أن لَازم المذھب لیس بلازم ومن ثم لم یزل العلماء یعاملونھم معاملۃ المسلمین فی نکاحھم وانکاحھم ۔۔۔ الخ۔ دیکھیں: مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج:۱ ص:۱۴۸، باب الْإیمان بالقدر، الفصل الثانی۔

