سنت وبدعت
بدعت کی قسمیں
سوال:۔
بدعت کی کتنی اَقسام ہیں اور بدعتِ حسنہ کون سی قسم میں داخل ہے؟ نیز بدعتِ حسنہ کی مکمل تعریف بھی بیان فرمائیں۔ اور بتلائیں کہ مدارس بنانا یا صلاۃ وسلام پڑھنا بدعت ہے؟ کیا ان دونوں کا ایک حکم ہے؟ جناب محترم مولانا صاحب! میں اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر آپ کو یہ بات بتانا چاہتا ہوں کہ اس فتویٰ سے میرا مقصود صرف اپنی اور اپنے دوستوں کی اصلاح ہے، لہٰذا آپ ضرور جواب باصواب تحریرفرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔
جواب:۔
بدعت کی دو قسمیں ہیں۔ایک بدعتِ شرعیہ، دُوسری بدعتِ لغویہ۔ بدعتِ شرعیہ یہ ہے کہ ایک ایسی چیز کو دِین میں داخل کرلیا جائے جس کا کتاب و سنت، اِجماعِ اُمت اور قیاسِ مجتہد سے کوئی ثبوت نہ ہو۔ یہ بدعت ہمیشہ بدعتِ سیئہ ہوتی ہے، اور یہ شریعت کے مقابلے میں گویا نئی شریعت اِیجاد کرنا ہے۔
بدعت کی دُوسری قسم وہ چیزیں ہیں جن کا وجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہیں تھا،(۱) جیسے ہر زمانے کی ایجادات۔ ان میں سے بعض چیزیں مباح ہیں جیسے ہوائی جہاز کا سفر کرنا وغیرہ، اور ان میں جو چیزیں کسی اور مستحب کا ذریعہ ہوں وہ مستحب ہوں گی، جو کسی اَمرِ واجب کا ذریعہ ہوں وہ واجب ہوں گی، مثلاً صرف و نحو وغیرہ علوم کے بغیر کتاب و سنت کو سمجھنا ممکن نہیں، اس لئے ان علوم کا سیکھنا واجب ہوگا۔
اسی طرح کتابوں کی تصنیف، مدارسِ عربیہ کا بنانا، چونکہ دِین کے سیکھنے اور سکھانے کا ذریعہ ہیں اور دِین کی تعلیم و تعلّم فرضِ عین یا فرضِ کفایہ ہے۔ تو جو چیزیں کہ بذاتِ خود مباح ہیں اور دِین کی تعلیم کا ذریعہ و وسیلہ ہیں، وہ بھی حسبِ مرتبہ ضروری ہوں گی۔ ان کو بدعت کہنا لغت کے اعتبار سے ہے، ورنہ یہ سنت میں داخل ہیں۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا ہوگا کہ مدارس کے بنانے پر صلوٰۃ وسلام کی بدعت کو قیاس کرنا غلط ہے۔(۲)
- (۱) وفی ردالمختار: قولہ أی صاحب بدعۃ أی محرمۃ وإلّا فقد تکون واجبۃ کنصب الأدلۃ للرد علٰی أھل الفرق الضالۃ، وتعلم النحو المفھم للکتاب والسُّنّۃ ومندوبۃ کإحداث نحو رباط ومدرسۃ وکل إحسان لم یکن فی الصدر الأوّل ومکروھۃ کزخرفۃ المساجد، ومباحۃ کالتوسع بلذیذ المآکل والمشارب والثیاب، کما فی شرح الجامع الصغیر للمناوی عن تھذیب النووی وبمثلہ فی الطریقۃ المحمدیۃ للبرکلی۔ (ردالمختار، مطلب البدعۃ خمسۃ أقسام ج:۱ ص:۵۶۰)۔
- (۲) فکل من أحدث شیئًا ونسبہ الی الدِّین ولم یکن لہ أصل من الدِّین یرجع الیہ، فھو ضلالۃ والدِّین بریٔ منہ، وسواء فی ذٰلک مسائل الْإعتقادات أو الأعمال أو الأقوال الظاھرۃ والباطنۃ، وأما ما وقع فی کلام السلف من إستحسان بعض البدع، فانما ذٰلک فی البدع اللغویۃ لَا الشرعیۃ۔ (جامع العلوم والحِکَم لِابن رجب الحنبلی ص:۲۳۳)۔ البدعۃ کل شیء عمل علٰی غیر مثال سبق وفی الشرع: إحداث ما لم یکن فی عھد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، وتحصل العبد الضعیف من کلمات شیوخنا وافاداتھم أن الأصل فی البدعۃ الشرعیۃ انما ھو قول الرسول صلی اللہ علیہ وسلم: ’’من أحدث فی أمرنا ھٰذا ما لیس منہ فھو رَدٌّ‘‘ والمراد بالأمر الدِّین کما صرحوا بہ فلا إلّا علی الأمور المحدثۃ فی الدِّین لَا علٰی کل أمر محدث ولھٰذا یخرج امثال التوسع فی المطاعم وغیرھا من الأمور المباحۃ بل بعض الرسوم التی یفعل فاعلوھا لَا علٰی وجہ التقرب والْإحتساب أیضًا عن حد البدعۃ الشرعیۃ، وإن کانت داخلۃ فی حد البدعۃ اللغویۃ۔ (فتح الملھم ج:۲ ص:۴۰۷ شبیر احمد عثمانی)۔

