سنت وبدعت
بدعت کی تعریف
سوال:۔
بدعت کسے کہتے ہیں؟ بدعت سے کیا مراد ہے؟ جواب ٹو دی پوائنٹ دیں۔
جواب:۔
بدعت کی تعریف درمختار (مع حاشیہ شامی ج:۱ ص:۵۶۰ طبع جدید) میں یہ کی گئی:
’’هِيَ اعْتِقَادٌ خِلَافَ الْمَعْرُوْفِ عَنِ الرَّسُوْلِ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) لَا بِمُعَانَدَةٍ بَلْ بِنَوْعِ شُبْهَةٍ۔‘‘
ترجمہ:۔ ’’جو چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معروف و منقول ہے، اس کے خلاف کا اعتقاد رکھنا، ضد وعناد کے ساتھ نہیں، بلکہ کسی شبہ کی بناء پر۔‘‘
اور علامہ شامیؒ نے علامہ شمسیؒ سے اس کی تعریف ان الفاظ میں نقل کی ہے:
’’مَا أُحْدِثَ عَلٰى خِلَافِ الْحَقِّ الْمُتَلَقَّى عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِلْمٍ أَوْ عَمَلٍ أَوْ حَالٍ بِنَوْعِ شُبْهَةٍ وَاسْتِحْسَانٍ، وَجُعِلَ دِيْنًا قَوِيْمًا وَصِرَاطًا مُسْتَقِيْمًا۔‘‘ (شامی ج:۱ ص:۵۶۰)
ترجمہ:۔’’جو علم، عمل یا حال اس حق کے خلاف ایجاد کیا جائے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے، کسی قسم کے شبہ یا استحسان کی بنا پر اور پھر اسی کو دِینِ قویم اور صراطِ مستقیم بنالیا جائے، وہ بدعت ہے۔‘‘
خلاصہ یہ کہ دِین میں کوئی ایسا نظریہ، طریقہ اور عمل ایجاد کرنا بدعت ہے جو:
الف:۔ طریقۂ نبوی کے خلاف ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ قولاً ثابت ہو، نہ فعلاً، نہ صراحتاً، نہ دلالۃً، نہ اشارۃً۔
ب:۔ جسے اختیار کرنے والا مخالفت نبوی کی غرض سے بطورِ ضد و عناد اختیار نہ کرے، بلکہ بزعمِ خود ایک اچھی بات اور کارِ ثواب سمجھ کر اختیار کرے۔
ج:۔ وہ چیز کسی دِینی مقصد کا ذریعہ و وسیلہ نہ ہو، بلکہ خود اسی کو دِین کی بات سمجھ کر کیا جائے۔

