اِجتہاد وتقلید
فقہِ حنفی کی چند نصوص کی صحیح تعبیر
سوال۱:۔
اگر کسی عورت کو اُجرت دے کر اس کے ساتھ زِنا کرے تو اس پر حد جاری ہوگی یا نہیں؟ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ فقہِ حنفی میں اس زِنا پر حد نہیں ہے اور اپنی تائید میں یہ حوالہ پیش کرتے ہیں:
’’لَوِ اسْتَأْجَرَ الْمَرْأَةَ لِيَزْنِيَ بِهَا فَالزِّنٰى لَا يُحَدُّ فِيْ قَوْلِ أَبِيْ حَنِيْفَةَ۔‘‘
اس قول کی کیا تعبیر کی جائے گی؟
سوال۲:۔
یہ کہ کیا فی الواقع فقہِ حنفی کے بعض یا اکثر مسائل قرآن اور صحیح حدیثوں کے خلاف ہیں؟
سوال۳:۔
کیا امام اعظم رحمہ اللہ کے مقلدین کی تقلید ایسی ہے کہ اگر بالفرض امام صاحبؒ کا کوئی مسئلہ قرآن پاک کی آیت یا کسی صحیح حدیث کے خلاف ہو تو حنفی حضرات، قرآن پاک اور حدیثِ رسول کو یہ کہہ کر چھوڑ دیں گے کہ: ’’چونکہ یہ آیت یا حدیث ہمارے امام کے قول کے مخالف ہے اس لئے ہم اس کو نہیں مانتے، ہمارے لئے امام کی تقلید اور ان کا مسئلہ لائق تقلید ہے۔‘‘ ایسا کہنے والے کا کیا حکم ہوگا؟
سوال۴:۔
جس شخص پر شہوت کا غلبہ ہو اور اس کی زوجہ یا لونڈی نہ ہو تو وہ شہوت میں تسکین حاصل کرنے کے لئے استمنا بالید کرسکتا ہے۔ اُمید ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہ ہوگا، اور زِنا کا خوف ہو تو پھر استمنا بالید واجب ہے (بحوالہ شامی ص:۱۵۶)۔
اُمید ہے کہ آںمحترم اپنی ضروری مصروفیات میں سے وقت نکال کر مذکورہ سوالات کے جوابات سے مطلع فرمائیں گے۔
جواب۱:۔
جس عورت کو اُجرت دے کر زِنا کیا ہو صاحبینؒ کے نزدیک اس پر حد ہے، اور درمختار میں فتح القدیر سے نقل کیا ہے کہ:
’’وَالْحَقُّ وُجُوْبُ الْحَدِّ كَالْمُسْتَأْجَرَةِ لِلْخِدْمَةِ۔‘‘
(شامی ج:۴ ص:۲۹)
ترجمہ:۔’’اور حق یہ ہے کہ حد واجب ہے، جیسے خدمت کے لئے نوکر رکھی ہوئی عورت سے زِنا کرنے پر حد واجب ہے۔‘‘
حضرت امام ابوحنیفہؒ شبہ کی بنا پر حد کو ساقط فرماتے ہیں (اور تعزیر کا حکم دیتے ہیں) ان کا استدلال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اثر سے ہے، جس کو امام عبدالرزاقؒ نے مصنف میں بایں الفاظ نقل کیا ہے:
الف:۔’’أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: ثَنَى مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ سُفْيَانَ: أَنَّ الْمَرْأَةَ جَاءَتْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ (رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ) فَقَالَتْ: يَا أَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ! أَقْبَلْتُ أَسُوْقُ غَنَمًا، فَلَقِيَنِيْ رَجُلٌ، فَحَفَنَ لِيْ حَفْنَةً مِنْ تَمْرٍ، ثُمَّ حَفَنَ لِيْ حَفْنَةً مِنْ تَمْرٍ، ثُمَّ حَفَنَ لِيْ حَفْنَةً مِنْ تَمْرٍ، ثُمَّ أَصَابَنِيْ. فَقَالَ عُمَرُ (رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ): قُلْتِ: مَاذَا؟ فَأَعَادَتْ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ (رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ) وَيُشِيْرُ بِيَدِهِ: مَهْرٌ! مَهْرٌ! مَهْرٌ! ۔۔۔۔۔ الخ۔‘‘
ترجمہ:۔’’ہم سے بیان کیا جریج نے، وہ فرماتے ہیں کہ: مجھ سے بیان کیا محمد بن حارث بن سفیان نے، وہ روایت کرتے ہیں ابوسلمہ بن سفیان سے کہ: ایک عورت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور بیان کیا کہ: اے امیرالمؤمنین! میں اپنی بکریاں لارہی تھی، پس مجھے ایک شخص ملا، اس نے مجھے مٹھی بھر کھجوریں دیں، پھر ایک اور مٹھی بھر کھجوریں دیں، پھر ایک اور مٹھی بھر کھجوریں دیں، پھر مجھ سے صحبت کی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو نے کیا کہا؟ اس نے اپنا بیان دہرایا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اور اپنے ہاتھ سے اشارہ فرما رہے تھے: مہر ہے! مہر ہے! مہر ہے!‘‘
ب:۔’’وَعَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ الْوَلِيْدِ بْنِ عَبْدِاللّٰهِ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ: أَنَّ امْرَأَةً أَصَابَهَا الْجُوْعُ، فَأَتَتْ رَاعِيًا، فَسَأَلَتْهُ الطَّعَامَ، فَأَبٰى عَلَيْهَا حَتّٰى تُعْطِيَهُ نَفْسَهَا، قَالَتْ: فَحَثٰى لِيْ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ مِنْ تَمْرٍ، وَذَكَرَتْ أَنَّهَا كَانَتْ جَهِدَتْ مِنَ الْجُوْعِ، فَأَخْبَرَتْ عُمَرَ، فَكَبَّرَ وَقَالَ: مَهْرٌ! مَهْرٌ! مَهْرٌ! كُلُّ حَفْنَةٍ مَهْرٌ، وَدَرَأَ عَنْهَا الْحَدَّ۔‘‘ (مصنف عبدالرزاق ج:۷ ص:۴۰۶)
ترجمہ:۔’’نیز عبدالرزاق روایت کرتے ہیں سفیان بن عیینہ سے، وہ ولید بن عبداللہ بن جمیع سے، وہ ابوالطفیل (واثلہ بن اسقع صحابی رضی اللہ عنہ) سے کہ: ایک عورت کو بھوک نے ستایا، وہ ایک چرواہے کے پاس گئی، اس سے کھانا مانگا، اس نے کہا جب تک اپنا نفس اس کے حوالے نہیں کرے گی وہ نہیں دے گا، عورت کا بیان ہے کہ اس نے مجھے کھجور کی تین مٹھیاں دیں، اور اس نے ذکر کیا کہ وہ بھوک سے بے تاب تھی، اس نے یہ قصہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا، آپؓ نے تکبیر کہی اور فرمایا: مہر ہے! مہر ہے! مہر ہے! اور اس سے حد کو ساقط کردیا۔‘‘
ان دونوں روایتوں کے راوی ثقہ ہیں، حافظ ابن حزم اندلسیؒ نے یہ دونوں روایتیں المحلّٰی میں ذکر کرکے ان پر جرح نہیں کی، بلکہ مالکیوں اور شافعیوں کے خلاف ان کو بطورِ حجت پیش کیا ہے، چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
’’وَأَمَّا الْمَالِكِيُّوْنَ وَالشَّافِعِيُّوْنَ فَعَهِدْنَا بِهِمْ يُشَنِّعُوْنَ خِلَافَ الصَّاحِبِ الَّذِيْ لَا يُعْرَفُ لَهُ مُخَالِفٌ إِذَا وَافَقَ تَقْلِيْدَهُمْ، وَهُمْ قَدْ خَالَفُوْا عُمَرَ، وَلَا يُعْرَفُ لَهُ مُخَالِفٌ مِنَ الصَّحَابَةِ، بَلْ هُمْ يَعُدُّوْنَ مِثْلَ هٰذَا إِجْمَاعًا، وَيَسْتَدِلُّوْنَ عَلٰى ذٰلِكَ بِسُكُوْتِ مَنْ بِالْحَضْرَةِ مِنَ الصَّحَابَةِ عَنِ النَّكِيْرِ لِذٰلِكَ۔‘‘ (محلی ابن حزم ج:۱۱ ص:۲۵۰)
ترجمہ:۔’’رہے مالکی اور شافعی، تو ہم نے ان کو دیکھا ہے کہ وہ ایسے صحابی کی مخالفت پر تشنیع کیا کرتے ہیں جس کے مخالف صحابہ میں سے کوئی معروف نہ ہو ۔۔۔ بلکہ اس کو ’’اجماع‘‘ شمار کرتے ہیں اور وہ اس اجماع پر استدلال کیا کرتے ہیں، ان صحابہؓ کے سکوت سے، جو اس موقع پر موجود تھے مگر انہوں نے اس پر نکیر نہیں فرمائی۔‘‘
جب ان حضرات کا یہ اصول ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مندرجہ بالا واقعہ کو کیوں حجت نہیں سمجھتے باوجودیکہ حضراتِ صحابہ میں سے کسی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر نکیر نہیں فرمائی؟ شاید کسی کو یہ خیال ہو کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھوک کی مجبوری کی وجہ سے اس کو معذور و مضطر سمجھ کر اس سے حد کو ساقط کردیا ہوگا۔
حافظ ابن حزمؒ اس احتمال کو غلط قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’فَإِنْ قَالُوْا: إِنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ ذَكَرَ فِيْ خَبَرِهِ أَنَّهَا قَدْ كَانَ جَهَدَهَا الْجُوْعُ، قُلْنَا لَهُمْ: إِنَّ خَبَرَ أَبِيْ الطُّفَيْلِ لَيْسَ فِيْهِ أَنَّ عُمَرَ عَذَرَهَا بِالضَّرُوْرَةِ، بَلْ فِيْهِ أَنَّهُ دَرَأَ الْحَدَّ مِنْ أَجْلِ التَّمْرِ الَّذِيْ أَعْطَاهَا، وَجَعَلَهُ عُمَرُ مَهْرًا۔‘‘ (محلی ج:۱۱ ص:۲۵۰)
ترجمہ:۔’’اگر مالکی اور شافعی حضرات یہ کہیں کہ ابوالطفیلؓ نے اپنی روایت میں ذکر کیا ہے کہ بھوک نے اس خاتون کو بے تاب کردیا تھا (شاید اس کی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے حد ساقط کردی ہوگی)، ہم ان سے کہیں گے کہ:۔۔۔۔ ابوالطفیلؓکی روایت میں یہ نہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو اضطرار کی وجہ سے معذور قرار دیا تھا، بلکہ اس روایت میں تو یہ ہے کہ آپؓ نے کھجوروں کی وجہ سے حد ساقط کردی جو اس شخص نے دی تھیں، اور آپؓ نے ان کھجوروں کو مہر قرار دیا۔‘‘
اس تفصیل سے دو باتیں واضح ہوگئیں، ایک یہ کہ سوال میں جو کہا گیا ہے کہ: ’’فقہ حنفی میں اس پر حد نہیں!‘‘ یہ تعبیر غلط ہے، آپ سن چکے ہیں کہ اس مسئلے میں فقہ حنفی کا فتویٰ صاحبینؒ کے قول پر ہے کہ اس پر حد لازم ہے۔
دوم یہ کہ جو لوگ اس مسئلے میں حضرت امامؒ پر زبانِ طعن دراز کرتے ہیں وہ مسئلہ کو صحیح نہ سمجھنے کی وجہ سے کرتے ہیں، اور ان کا یہ طعن حضرت امامؒ پر نہیں بلکہ درحقیقت ان کے پیش رو حضرت امیرالمؤمنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ پر ہے، کسی مسئلہ سے اتفاق نہ کرنا اور بات ہے، لیکن ایسے مسائل کی آڑ لے کر ائمہ ہدیٰ پر زبانِ طعن دراز کرنا دوسری بات ہے۔
یہاں اس امر کا ذکر بھی بے محل نہ ہوگا کہ زیر بحث صورت حضرت امامؒ (اور ان کے پیش رو حضرت عمر رضی اللہ عنہ) کے نزدیک بھی زنا ہے، حلال نہیں، لیکن شبہ مہر کی وجہ سے حد ساقط ہوگئی، اس لئے یہ سمجھنا بدفہمی ہوگی کہ یہ دونوں بزرگ زنا بالاستیجار کو حلال سمجھتے ہیں، جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا ہے، وَلِلْبَسْطِ مَحَلٌّ آخَرُ!
جواب۲:۔
یہ کہنا کہ: ’’فی الواقع فقہ حنفی کے بعض یا اکثر مسائل قرآن اور صحیح حدیثوں کے خلاف ہیں‘‘ قلتِ تدبر کا نتیجہ ہے، فقہِ حنفی میں مسائل کا استناد قرآنِ کریم، احادیثِ نبویہ (عَلٰى صَاحِبِهَا الصَّلَاةُ وَالتَّسْلِيْمَاتُ)، اجماعِ اُمت اور قیاسِ صحیح سے ہے، البتہ ائمہ مجتہدین کے مدارکِ اجتہاد مختلف ہیں، حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اجتہاد کی جس بلندی پر فائز تھے اس کا اعتراف اکابر ائمہ نے کیا ہے۔
جواب۳:۔
سوال میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ بھی خالص تہمت ہے، ابھی اوپر مسئلہ مستأجرہ میں آپ نے دیکھا کہ احناف نے حضرت امام رحمہ اللہ کے قول کو چھوڑ کر صاحبینؒ کے قول کو اختیار کیا اور یہ کہا: ’’وَالْحَقُّ وُجُوْبُ الْحَدِّ!‘‘ اس قسم کی بہت سی مثالیں پیش کرسکتا ہوں، جہاں لوگوں کو بظاہر نظر آتا ہے کہ حنفیہ حدیثِ صحیح کے خلاف کرتے ہیں وہاں صرف امامؒ کے قول کی بنا پر نہیں، قرآن و سنت اور اجماعِ اُمت کے قوی دلائل کے پیشِ نظر ایسا کرتے ہیں، اس کی بھی بہت سی مثالیں پیش کرسکتا ہوں، مگر نہ فرصت اس کی متحمل ہے، اور نہ ضرورت اس کی داعی ہے۔
جواب۴:۔
درمختار میں ہے:
’’فِي الْجَوْهَرَةِ: الِاسْتِمْنَاءُ حَرَامٌ وَفِيْهِ التَّعْزِيْرُ۔‘‘
ترجمہ:۔’’جوہرہ میں ہے کہ: استمنا بالید حرام ہے اور اس پر تعزیر لازم ہے۔‘‘
علامہ شامیؒ نے اس کے حاشیہ میں لکھا ہے:
’’قَوْلُهُ: الِاسْتِمْنَاءُ حَرَامٌ، أَيْ بِالْكَفِّ إِذَا كَانَ لِاسْتِجْلَابِ الشَّهْوَةِ، أَمَّا إِذَا غَلَبَتْهُ الشَّهْوَةُ وَلَيْسَ لَهُ زَوْجَةٌ وَلَا أَمَةٌ فَفَعَلَ ذٰلِكَ لِتَسْكِيْنِهَا فَالْرَّجَاءُ أَنَّهُ لَا وَبَالَ عَلَيْهِ، كَمَا قَالَهُ أَبُوْ اللَّيْثِ، وَيَجِبُ لَوْ خَافَ الزِّنَا۔‘‘ (ردالمختار ج:۴ ص:۲۷ کتاب الحدود)
ترجمہ:۔’’اپنے ہاتھ سے منی خارج کرنا حرام ہے، جبکہ یہ فعل شہوت کو برانگیختہ کرنے کے لئے ہو، لیکن جس صورت میں کہ اس پر شہوت کا غلبہ ہو اور اس کی بیوی اور لونڈی نہ ہو، اگر وہ تسکینِ شہوت کے لئے ایسا کرلے تو امید کی جاتی ہے کہ اس پر وبال نہیں ہوگا، جیسا کہ فقیہ ابواللیثؒ نے فرمایا، اور اگر زنا میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسا کرنا واجب ہے۔‘‘
اس عبارت سے چند باتیں معلوم ہوئیں:
اوّل:۔عام حالات میں یہ فعل حرام ہے، موجبِ وبال ہے اور اس پر تعزیر لازم ہے۔
دوم:۔اگر کسی نوجوان پر شہوت کا غلبہ ہو کہ شدتِ شہوت کی وجہ سے اس کا ذہن اس قدر متوحش ہو کہ کسی طرح اس کو سکون و قرار حاصل نہ ہو، اور اس کے پاس تسکینِ شہوت کا کوئی حلال ذریعہ بھی موجود نہ ہو، ایسی اضطراری حالت میں اگر وہ بطورِ علاج اس عمل کے ذریعہ شہوت کی تسکین کرلے تو اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم سے توقع کی جاتی ہے کہ اس پر وبال نہ ہوگا۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ رشوت کا لینا اور دینا دونوں حرام ہیں، لیکن اگر کوئی مظلوم دفع ظلم کی خاطر رشوت دینے پر مجبور ہوجائے تو توقع کی جاتی ہے کہ اس مظلوم پر مؤاخذہ نہ ہوگا، یہ فقیہ ابواللیثؒ کا قول ہے۔
سوم:۔اگر شدتِ شہوت کی بنا پر زنا میں مبتلا ہونے کا قوی اندیشہ ہوجائے تو زنا سے بچنے کے لئے اس فعلِ بد کا ارتکاب ضروری ہوگا، یہ ایسی صورت ہے کہ کسی شخص کا دو حراموں میں سے ایک میں مبتلا ہوجانا ناگزیر ہے تو ان میں سے جو اَخف ہو اس کا اختیار کرنا لازم ہے۔
فقہاء رحمہم اللہ تعالیٰ اس اصول کو ان الفاظ سے تعبیر فرماتے ہیں:
’’مَنْ ابْتُلِيَ بِبَلِيَّتَيْنِ فَلْيَخْتَرْ أَهْوَنَهُمَا۔‘‘
ترجمہ:۔’’جو شخص دو مصیبتوں میں گرفتار ہو اس کو چاہئے کہ وہ جو اُن میں سے اَہوَن ہو اس کو اختیار کرلے۔‘‘
شیخ ابن نجیمؒ نے ’’الاشباہ والنظائر‘‘ کے فن اول کے قاعدہ خامسہ کے تحت اس اصول کا ذکر کیا ہے اور اس کی متعدد مثالیں ذکر کی ہیں، اس کی تمہید میں فرماتے ہیں:
’’چوتھا قاعدہ یہ ہے کہ جب دو مفسدے جمع ہوجائیں تو بڑے مفسدے سے بچنے کے لئے چھوٹے کا ارتکاب کرلیا جائے گا۔ امام زیلعیؒ’’بَابُ شُرُوْطِ الصَّلَاةِ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ اس نوعیت کے مسائل میں اصول یہ ہے کہ جو شخص دو بلاؤں میں گرفتار ہوجائے اور وہ دونوں ضرر میں مساوی ہوں تو دونوں میں سے جس کو چاہے اختیار کرلے، اور اگر دونوں مختلف ہوں تو جو برائی ان میں سے اَہوَن ہو اس کو اختیار کرے، کیونکہ حرام کا ارتکاب صرف اضطرار کی حالت میں جائز ہے اور جس چیز کا ضرر زیادہ ہو اس کے اختیار کرنے میں کوئی اضطرار نہیں۔‘‘
(الاشباہ والنظائر مع شرح حموی ج:۱ ص:۱۲۳، مطبوعہ ادارۃ القرآن، کراچی)
استمنا کی جس صورت کو شامی نے واجب لکھا ہے اس میں یہی اصول کارفرما ہے، یعنی بڑے حرام (زنا) سے بچنے کے لئے چھوٹے حرام (استمنا) کو اختیار کرنا، اس کو یوں سمجھنا کہ استمنا کی اجازت دے دی گئی ہے، یا یہ کہ اس کو واجب قرار دیا گیا ہے، قطعاً غلط ہوگا، ہاں! اس کو یوں تعبیر کرنا صحیح ہوگا کہ بڑے حرام سے بچنے کو واجب قرار دیا گیا ہے، خواہ یہ چھوٹے حرام کے ارتکاب کے ذریعہ ہو۔
رہا یہ کہ آدمی کو ضبطِ نفس سے کام لینا چاہئے، نہ زنا کے قریب پھٹکے، اور نہ استمنا کرے، یہ بات بالکل صحیح ہے، ضرور یہی کرنا چاہئے، لیکن سوال یہ ہے کہ جو شخص نفس و شیطان کے چنگل میں ایسا پھنس چکا ہو کہ زمامِ اختیار اس کے ہاتھ سے چھوٹ رہی ہو اور اس کو اس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو کہ یا تو فاحشہ کبیرہ کا ارتکاب کرکے روسیاہ ہو، یا اپنے ہاتھ سے غارتگر ایمان شہوت کو ختم کردے، ایسی حالت میں اس شخص کو کیا کرنا چاہئے؟ ذرا عقل و شرع سے اس کا فتویٰ پوچھئے۔۔۔! والله اعلم!

