اِجتہاد وتقلید
قرآن اور حدیث کے ہوتے ہوئے چاروں فقہوں خصوصاً حنفی فقہ پر زور کیوں؟
سوال:۔
کوئی شخص فقہِ حنفی سے تعلق رکھتا ہے لیکن اپنا مسئلہ فقہِ مالکی سے حل کرانا چاہتا ہے، تو آپ اس کو روک دیتے ہیں۔ جس کی ایک وجہ تو یہ ہو کہ فقہِ حنفی میں ہوتے ہوئے فقہِ مالکی کی طرف اس لئے رُجوع کر رہا ہو کہ اس میں نرمی ہو، تو اسی دائرے (فقہِ حنفی) میں رہتے ہوئے اسے ناجائز کہہ سکتے ہیں۔ لیکن قطع نظر ان ساری باتوں کے میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آخر ان اَئمۂ اَربعہ کی فقہ کو مذہب کا درجہ کیوں دیا جاتا ہے کہ اس وقت چاروں اِماموں کے ماننے والوں کے مابین اس قدر دُوری ہے، جبکہ ایک اچھے مسلمان کو ہر وہ بات جو کتاب و سنت کے نزدیک حقیقت ہو، ماننی چاہئے، اور فقہ کی اہمیت بہت زیادہ کردی گئی حالانکہ اللہ اور رسول کی اِطاعت ضروری ہے، اس واضح حکم کے بعد آپ بتائیں کہ کسی اِمام، مجدّد، ظلّی یا بروزی، نبی کی گنجائش کہاں رہ جاتی ہے؟
جواب:۔
مجھے جناب کے سوال نامے سے خوشی ہوئی کہ آپ نے اپنی تمام اُلجھنیں بے کم و کاست پوری بے تکلفی سے بیان کردیں، تفصیل سے لکھنے کی افسوس ہے کہ فرصت نہیں، اگر جناب سے ملاقات ہوجاتی تو زبانی معروضات پیش کرنا زیادہ آسان ہوتا، بہرحال چند اُمور عرض کرتا ہوں:
۱:۔دِینِ اسلام کے بہت سے اُمور تو ایسے ہیں جن میں نہ کسی کا اختلاف ہے نہ اختلاف کی گنجائش ہے۔ لیکن بہت سے اُمور ایسے ہیں کہ ان کا حکم صاف قرآنِ کریم یا حدیثِ نبوی میں مذکور نہیں، ایسے اُمور کا شرعی حکم دریافت کرنے کے لئے گہرے علم، وسیع نظر اور اعلیٰ درجے کی دیانت و امانت درکار ہے۔ یہ چاروں بزرگ ان اوصاف میں پوری اُمت کے نزدیک معروف و مسلّم تھے، اس لئے ان کے فیصلوں کو بحیثیت شارحِ قانون کے تسلیم کیا جاتا ہے۔
جس طرح کہ عدالتِ عالیہ کی تشریحِ قانون مستند ہوتی ہے، اس لئے یہ تصوّر صحیح نہیں کہ لوگ اللہ و رسول کی اِطاعت کے بجائے ان بزرگوں کی اِطاعت کرتے ہیں، صحیح تعبیر یہ ہے کہ اللہ و رسول کے فرمودات کی جو تشریح ان بزرگوں نے فرمائی اس کو مستند سمجھتے ہیں۔ قانون کی تشریح کو کوئی عاقل، قانون سے اِنحراف نہیں سمجھا کرتا، اس لئے چاروں فقہ قرآن و سنت ہی سے ماخوذ ہیں، اور ان کی پیروی قرآن و سنت کی پیروی ہے۔
۲:۔رہا یہ کہ جب چاروں تشریحات مستند ہیں تو صرف فقہِ حنفی ہی کو کیوں اختیار کیا جاتا ہے؟ سو اس کی وجہ یہ ہے کہ دُوسری فقہوں کی پوری تفصیلات ہمارے سامنے نہیں، نہ ساری کتابیں موجود ہیں، اس لئے دُوسری فقہ کے ماہرین سے رُجوع کا مشورہ تو دیا جاسکتا ہے مگر خود ایسی جرأت خلافِ احتیاط ہے۔
دوم:۔ یہ کہ یہاں اکثر لوگ فقہِ حنفی سے وابستہ ہیں، پس اگر کوئی شخص دُوسری فقہ سے رُجوع کرے گا تو اس بات کا اندیشہ ہے کہ وہ سہولت پسندی کی خاطر ایسا کرے گا، نہ کہ خدا اور رسول کی اطاعت کے لئے۔

