بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اِجتہاد وتقلید

کیا فقہ کے بغیر اسلام اَدھورا ہے؟

سوال:۔

کیا فقہ کے بغیر اسلام اَدھورا ہے؟ اگر کوئی شخص کسی بھی فقہی اِمام کو نہ مانے، یا اپنے آپ کو کسی فقہ کا مقلد نہ کہے تو کیا وہ آدمی دائرۂ اسلام سے خارج ہے؟ وضاحت کیجئے۔

جواب:۔

جی ہاں! فقہ دِین کا جز ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’لِّيَتَفَقَّهُواْ فِي ٱلدِّينِ‘‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’مَنْ یُّرِدِ اللہِ بِہٖ خَیْرًا یُفَقِّھْہُ فِی الدِّیْنِ‘‘ اگر کسی کو ’’فقہ فی الدین‘‘ خود نصیب ہے، اور ’’اِجتہاد فی الدِّین‘‘ کے بلند منصب پر فائز ہے، اس کو اپنی ذاتی فقہ پر عمل کرنا چاہئے، ورنہ چاروں اَئمہ میں سے کسی کی فقہ پر عمل ناگزیر ہے کہ اس کے بغیر دِین پر عمل نہیں ہوسکتا، اور دِین پر عمل کرنا فرض ہے۔(۱)

  1. (۱) وھو محمول علٰی من لہ قدرۃ علٰی استنباط الأحکام من الکتاب والسُّنّۃ واِلّا فقد صرّح العلماء بأن التقلید واجب علی العامی لئلّا یضل فی دینہ۔ (میزان الکبری ج:۱ ص:۸۸، طبع مصر، ایضاً الیواقیت والجواہر ج:۲ ص:۹۶ دیکھیں)۔