بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اِجتہاد وتقلید

کسی ایک فقہ کی پابندی عام آدمی کے لئے ضروری ہے، مجتہد کے لئے نہیں

سوال:۔

کیا ہم پر ایک فقہ کی پابندی واجب ہے؟ کیا فقہِ حنفی، فقہِ شافعی، فقہِ مالکی، فقہِ حنبلی یہ سب اسلام ہیں؟ حق تو صرف ایک ہوتا ہے؟ کیا آپ کے اَئمہ نے فقہ کو واجب قرار دیا ہے؟ اِمام شافعیؒ نے اِمام ابوحنیفہؒ کے فقہ کی پابندی کیوں نہیں کی؟ ایک واجب چھوڑ کر گناہ گار ہوئے اور یہی نہیں بلکہ ایک نئی فقہ پیش کردی (نعوذ باللہ)۔

جواب:۔

ایک مسلمان کے لئے خدا و رسول کے اَحکام کی پابندی لازم ہے۔ جو قرآنِ کریم اور حدیثِ نبوی سے معلوم ہوں گے، اور علمِ اَحکام کے لئے اِجتہاد کی ضرورت ہوگی، اور صلاحیتِ اِجتہاد کے لحاظ سے اہلِ علم کی دو قسمیں ہیں: مجتہد اور غیرمجتہد۔ مجتہد کو اپنے اِجتہاد کے مطابق عمل کرنا لازم ہے اور غیرمجتہد کے لئے کسی مجتہد کی طرف رجوع کرنا ہے۔

لقوله تعاليٰ ﵟ فَسۡـَٔلُوٓاْ أَهۡلَ ٱلذِّكۡرِ إِن كُنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ ﵞ (النحل ٤٣)

وَلِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ’’اَلَا سَأَلُوْا إِذْ لَمْ یَعْلَمُوْا فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعَيِّ السُّؤَالُ۔‘‘ (ابوداؤد ج:۱ ص:۴۹)

اَئمۂ اَربعہ مجتہد تھے، عوام الناس قرآن و حدیث پر عمل کرنے کے لئے ان مجتہدین سے رُجوع کرتے ہیں، اور جو حضرات خود مجتہد ہوں ان کو کسی مجتہد سے رُجوع کرنا نہ صرف غیرضروری بلکہ جائز بھی نہیں۔(۱) اور کسی معین مجتہد سے رُجوع اس لئے لازم ہے تاکہ قرآن و حدیث پر عمل کرنے کے بجائے خواہشِ نفس کی پیروی نہ شروع ہوجائے کہ جو مسئلہ اپنی خواہش کے مطابق دیکھا وہ لے لیا۔(۲) آنجناب اگر خود اِجتہاد کی صلاحیت رکھتے ہوں تو اپنے اِجتہاد پر عمل فرمائیں، میں نے جو لکھا وہ غیرمجتہد لوگوں کے بارے میں لکھا ہے۔

  1. (۱) وھو محمول علٰی من لہ قدرۃ علٰی استنباط الأحکام من الکتاب والسُّنَّۃ واِلّا فقد صرَّح العلماء بأن التقلید واجب علی العامی لئلا یضل فی دینہٖ۔ (میزان الکبریٰ ج:۱ ص:۸۸ طبع مصر، وایضاً الیواقیت والجواہر ج:۲ ص:۹۶)۔
  2. (۲) وفی ذٰلک (ای التقلید) من المصالح مالَا یخفٰی لَا سیَّما فی ھٰذہ الأیام التی قصرت الھمم جدا واشربت النفوس الھویٰ وأعجب کل ذی رأی برأیہ۔ (حجۃ اللہ البالغۃ ج:۱ ص:۱۲۳ طبع مصر)۔