اِجتہاد وتقلید
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدینؓ کا کس فقہ سے تعلق تھا؟
سوال:۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کا کس فقہ سے تعلق تھا؟
جواب:۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صاحبِ وحی تھے، اور وحیٔ اِلٰہی کی پیروی کرتے تھے،(۱) بعض اُمور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اِجتہاد فرماتے تھے، اور وحیٔ اِلٰہی اس کی تصویب یا اصلاح کرتی تھی۔(۲) خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم غیرمنصوص مسائل میں اِجتہاد فرماتے تھے، اور اگر ان کے اِجتہاد کو قبولیتِ عامہ حاصل ہوجاتی تھی تو یہ ’’اِجماع‘‘ تھا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں بعض مجتہد تھے، اور بعض مجتہد نہیں تھے۔ مجتہد خود اِجتہاد فرماتے تھے اور جو مجتہد نہیں تھے، وہ اہلِ اِجتہاد سے دریافت فرماتے تھے۔ یہی حال تابعین کا بھی رہا۔(۳) ان کے بعد اَئمۂ مجتہدین رحمہم اللہ کا دور آیا، اور اُن کے مسائل منقح شکل میں مدوّن ہوگئے۔ اب جو لوگ خود مجتہد ہوں وہ تو اپنے اِجتہاد پر عمل کریں، اور جو مجتہد نہیں وہ اَئمۂ اَربعہ رحمہم اللہ کے مدوّن، مرتب اور منقح مسائل پر عمل کریں۔ مقصود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اللہ تعالیٰ کے دِین پر عمل کرنا تھا، خلفائے راشدینؓ کے زمانے میں بھی، اور آج بھی۔ اس کا طریقہ مختصراً میں نے ذکر کردیا۔
- (۱) کما قال اللہ تعالٰی:ﵟ وَٱتَّبِعۡ مَا يُوحَىٰٓ إِلَيۡكَ مِن رَّبِّكَۚ ﵞ الأحزاب ٢، ﵟ وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلۡهَوَىٰٓ ٣ إِنۡ هُوَ إِلَّا وَحۡيٞ يُوحَىٰ ٤ ﵞ النجم ٣ و ٤۔
- (۲) ثم اعلم! أن للأنبیاء علیھم السلام أن یجتھدوا مطلقًا وعلیہ الأکثر أو بعد انتظار الوحی وعلیہ الحنفیۃ۔ (شرح فقہ الاکبر ص:۱۶۴، مطبوعہ دہلی، اِنڈیا)۔
- (۳) اعلم أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لم یکن الفقہ فی زمانہ الشریف مدوّنًا ولم یکن البحث فی الأحکام یومئذ مثل البحث من ھٰؤلَاء الفقہاء ۔۔۔ (حجۃ اللہ البالغۃ ج:۱ ص:۱۴۰، ۱۴۱) وبعد أسطر۔۔۔ وکذٰلک کان الشیخان أبوبکر وعمر ۔۔۔ الخ۔ قال المحققون من الاُصولیین: العامی وھو من لیس لہ أھلیۃ الْإجتھاد ۔۔۔ یلزمہ اتباع قول المجتھدین والأخذ بفتواھم لقولہ تعالٰی: ﵟ فَسۡـَٔلُوٓاْ أَهۡلَ ٱلذِّكۡرِ إِن كُنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ ٧ ﵞ وھو عام لکل المخاطبین ۔۔۔ وللاجماع علٰی ان العامۃ لم تزل فی زمن الصحابۃ والتابعین قبل حدوث المخالفین یستفتون المجتھدین ویتبعونھم فی الأحکام الشرعیۃ، والعلماء منھم یبادرون الٰی اجابۃ سؤالھم من غیر اشارۃ الٰی ذِکر الدلیل۔ (تیسیر الاُصول الٰی علم الاُصول ص:۳۲۳، بحث فی التقلید)۔

