اِجتہاد وتقلید
فہمِ قرآن وحدیث میں صحابہؓ کا اِختلاف
سوال:۔
اِمام کس کی پیروی کرتا ہے؟ یہ سلسلہ کہاں تک پہنچتا ہے؟ فرقہ بندی یا اختلاف کہاں سے شروع ہوتا ہے؟
سوال:۔
کیا اَئمہ دِین نے اس بات کو مدِ نظر نہ رکھا کہ دِین کو تو وہ آسان کر رہے ہیں مگر اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟ یعنی اختلاف اور فرقہ بندی۔
سوال:۔
فرقہ بندی اور اختلاف کب پیدا ہوا؟
سوال:۔
چار اَئمہ دِین کا طریقہ مختلف ہے، کس کے طریقے کو اَپنایا جائے؟
جواب:۔
قرآن و حدیث کے فہم میں صحابہؓ میں بھی اختلاف تھا، اور یہ فرقہ بندی نہیں۔ جیسا کہ بخاری شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ غزوۂ اَحزاب کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضراتِ صحابہ کرامؓ سے فرمایا تھا کہ تم میں سے کوئی شخص بنوقریظہ کے علاوہ عصر کی نماز نہ پڑھے۔ مگر راستے میں عصر کا وقت ہوگیا، بعض حضرات نے راستے میں نماز پڑھ لی، جبکہ دوسرے حضرات نے نمازِ عصر قضا کردی مگر بنوقریظہ پہنچ کر نماز پڑھی۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دونوں قسم کے لوگوں کا عمل آیا تو آپ نے کسی پر نکیر نہ فرمائی۔(۱)
جواب:۔
اس میں اَئمہ کا کیا قصور ہے؟ انہوں نے اپنے اپنے اِجتہاد کے مطابق دِین سمجھانے کی سعی وکوشش فرمائی اور اُمت کو ایک دُوسرے سے دست وگریبان ہونے سے بچایا، بہرحال موجودہ اختلاف فہم کا اختلاف ہے۔
جواب:۔
صحابہؓ کے دور سے۔
جواب:۔
چاروں برحق ہیں، کسی ایک کے طریقے کو اپنے عمل کے لئے اختیار کرلیا جائے۔(۲)
- (۱) ’’عن ابن عمر رضی اللہ عنھما قال: قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم یوم الأحزاب: لَا یصلین أحدٍ العصر اِلّا فی بنی قریظۃ۔ فأدرک العصر فی الطریق، فقال بعضھم: لَا نصلی حتّٰی نأتیھا، وقال بعضھم: بل نصلی، لم یرد منا ذٰلک، فذکر ذٰلک للنبی صلی اللہ علیہ وسلم فلم یعنف واحدًا منھم۔‘‘ (بخاری ج:۲ ص:۵۹۱، باب مرجع النبی صلی اللہ علیہ وسلم من الأحزاب ومخرجہ إلٰی بنی قریظۃ ۔۔۔إلخ)۔
- (۲) فقد بان لک یا أخی ممّا نقلناہ عن الأئمۃ الأربعۃ أن جمیع الأئمۃ المجتھدین دائرون مع أدلۃ الشرع حیث دارت ۔۔۔ وأن مذاھبھم کلھا محررۃ علی الکتاب والسنۃ۔ (میزان الکبریٰ ج:۱ ص:۵۵، طبع مصر)۔

