اِجتہاد وتقلید
شرعاً جائز یا ناجائز کام میں اَئمہ کا اختلاف کیوں؟
سوال:۔
اکثر سننے میں آتا ہے کہ فلاں کام فلاں اِمام کے نزدیک جائز ہے، لیکن فلاں کے نزدیک جائز نہیں، یہ ایک مہمل سی بات ہے۔ کیونکہ دِینی اعتبار سے کوئی بھی کام ہو، اس میں دو ہی صورتیں ممکن ہیں: جائز یا ناجائز۔ اصل بات بتائیں، میں نے پہلے بھی کئی ایک سے پوچھا، مگر کسی نے مجھے مطمئن نہیں کیا۔
جواب:۔
بعض اُمور کے بارے میں تو قرآنِ کریم اور حدیثِ نبوی (صلی اللہ علیٰ صاحبہ وسلم) میں صاف صاف فیصلہ کردیا گیا ہے (اور یہ ہماری شریعت کا بیشتر حصہ ہے)، ان اُمور کے جائز و ناجائز ہونے میں تو کسی کا اختلاف نہیں، اور بعض اُمور میں قرآن و سنت کی صراحت نہیں ہوتی، وہاں مجتہدین کو اِجتہاد سے کام لے کر اس کے جواز یا عدمِ جواز کا فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ علم و فہم اور قوّتِ اِجتہاد میں فرق ایک طبعی اور فطری چیز ہے، اس لئے ان کے اِجتہادی فیصلوں میں اختلاف بھی ہے، اور یہ ایک فطری چیز ہے، اس کو چھوٹی سی دو مثالوں سے آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔
ا:۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کو ایک مہم پر روانہ فرمایا اور ہدایت فرمائی کہ عصر کی نماز فلاں جگہ جاکر پڑھنا۔ نمازِ عصر کا وقت وہاں پہنچنے سے پہلے ختم ہونے لگا تو صحابہؓ کی دو جماعتیں ہوگئیں، ایک نے کہا کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پہنچ کر نمازِ عصر پڑھنے کا حکم فرمایا ہے، اس لئے خواہ نماز قضا ہوجائے مگر وہاں پہنچ کر ہی پڑھیں گے۔ دُوسرے فریق نے کہا کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منشائے مبارک تو یہ تھا کہ ہم غروب سے پہلے پہلے وہاں پہنچ جائیں، جب نہیں پہنچ سکے تو نماز قضا کرنے کا کوئی جواز نہیں۔(۱)
بعد میں یہ قصہ بارگاہِ اقدس میں پیش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کی تصویب فرمائی اور کسی پر ناگواری کا اظہار نہیں فرمایا۔ دونوں نے اپنے اپنے اِجتہاد کے مطابق منشائے نبوی کی تعمیل کی (صلی اللہ علیہ وسلم)، اگرچہ ان کے درمیان جواز و عدمِ جواز کا اختلاف بھی ہوا۔ اسی طرح تمام مجتہدین اپنی اِجتہادی صلاحیتوں کے مطابق منشائے شریعت ہی کی تعمیل کرنا چاہتے ہیں، مگر ان کے درمیان اختلاف بھی رُونما ہوجاتا ہے، اور اس اختلاف کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف یہ کہ برداشت فرمایا، بلکہ اس کو رحمت فرمایا،(۲) اور اس ناکارہ کو اس اختلاف کا رحمت ہونا اس طرح کھلی آنکھوں نظر آتا ہے جیسے آفتاب۔
دُوسری مثال:۔ہمیں روز مرّہ پیش آتی ہے کہ ایک ملزم کی گرفتاری کو ایک عدالت جائز قرار دیتی ہے اور دُوسری ناجائز، قانون کی کتاب دونوں کے سامنے ایک ہی ہے، مگر اس خاص واقعے پر قانون کے انطباق میں اختلاف ہوتا ہے، اور آج تک کسی نے اس اختلاف کو ’’مہمل بات‘‘ قرار نہیں دیا۔ چاروں اَئمۂ اِجتہاد ہمارے دِین کے ہائی کورٹ ہیں، جب کوئی متنازعہ فیہ مقدمہ ان کے سامنے پیش ہوتا ہے تو کتاب و سنت کے دلائل پر غور کرنے کے بعد وہ اس کے بارے میں فیصلہ فرماتے ہیں۔ ایک کی رائے یہ ہوتی ہے کہ یہ جائز ہے، دُوسرے کی رائے یہ ہوتی ہے کہ یہ ناجائز ہے، اور تیسرے کی رائے یہ ہوتی ہے کہ یہ مکروہ ہے، اور چونکہ سب کا فیصلہ اس امر کے قانونی نظائر اور کتاب و سنت کے دلائل پر مبنی ہوتا ہے، اس لئے سب کا فیصلہ لائق احترام ہے، گو عمل کے لئے ایک ہی جانب کو اختیار کرنا پڑے گا۔(۳)
یہ چند حرف قلم روک کر لکھے ہیں، زیادہ لکھنے کی فرصت نہیں، ورنہ یہ مستقل مقالے کا موضوع ہے۔
- (۱) عن ابن عمر رضی اللہ عنھما قال: قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم یوم الأحزاب: لَا یصلّین أحدٍ العصر اِلّا فی بنی قریظۃ۔ فأدرک بعضھم العصر فی الطریق، فقال بعضھم: لَا نصلی حتّٰی نأتیھا، وقال بعضھم: بل نصلّی، لم یرد منّا ذٰلک۔ فذکر ذٰلک للنبی صلی اللہ علیہ وسلم فلم یعَنِّفُ واحدًا منھم۔ (بخاری ج:۲ ص:۵۹۱، باب مرجع النبی صلی اللہ علیہ وسلم من الأحزاب ۔۔۔إلخ)۔
- (۲) اِختلاف اُمّتی رحمۃٌ ۔۔۔ اختلاف أصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃٌ ۔۔۔الخ۔ (المقاصد الحسنۃ للسخاوی ص:۴۹ حدیث نمبر:۳۹ طبع بیروت)۔
- (۳) ’’ولما اندرست المذاھب الحقۃ الّا ھٰذہ الأربعۃ کان اتباعھا اتباعًا للسواد الأعظم‘‘ (عقد الجید ص:۳۸)۔

