بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اِجتہاد وتقلید

کیا چاروں اَئمہ نے اپنی تقلید سے منع کیا ہے؟

سوال:۔

کیا واقعی چاروں اِماموں نے اپنی اپنی تقلید کرنے سے لوگوں کو منع فرمایا ہے؟

جواب:۔

جو لوگ چاروں اِماموں کی طرح مجتہد ہوں ان کو منع کیا ہے، عوام کو منع نہیں کیا۔(۱)

  1. (۱) وھو محمول علٰی أن من أعطی قوّۃ الْإجتھاد، أمّا الضعیف فیجب علیہ التقلید لأحد من الأئمۃ، واِلّا ھلک وضَلّ۔ (میزان الکبریٰ ج:۱ ص:۸۸ طبع مصر، وایضًا الیواقیت والجواہر ج:۲ ص:۹۶)۔ قال المحققون من الاُصولیین: العامی وھو من لیس لہ أھلیۃ الْإجتھاد، وان کان محصلًا لبعض العلوم المعتبرۃ فی الْإجتھاد یلزمہ اتباع قول المجتھدین والأخذ بفتواھم، لقولہ تعالٰی: ﵟ فَسۡـَٔلُوٓاْ أَهۡلَ ٱلذِّكۡرِ إِن كُنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ ٧ ﵞ۔ (تیسیر الاُصول الی علم الاُصول ص:۳۲۳ بحث فی التقلید)۔