اِجتہاد وتقلید
ایک دُوسرے کے مسلک پر عمل کرنا
سوال:۔
اگر کوئی شخص اپنے مسلک کے علاوہ کسی مسلک کی پیروی ایک یا ایک سے زائد مسائل میں کرے تو کیا اس کی اجازت ہے؟ یعنی اگر کوئی شافعی، اِمام ابوحنیفہؒ کے مسئلے پر عمل کرے تو کیا اس کی اجازت ہے؟
جواب:۔
اپنے اِمام کے مسلک کو چھوڑ کر دُوسرے مسلک پر عمل کرنا دو شرطوں کے ساتھ صحیح ہے: ایک یہ ہے کہ اس کا منشا ہوائے نفس نہ ہو، بلکہ دُوسرا مسلک دلیل سے اَقویٰ (زیادہ قوی) اور اَحوَط (زیادہ احتیاط والا) نظر آئے۔ دوم یہ کہ دو مسلکوں کو گڈمڈ نہ کرے، جس کو فقہاء کی اصطلاح میں ’’تلفیق‘‘ کہا جاتا ہے، بلکہ جس مسلک پر عمل کرے، اس مسلک کی تمام شرائط کو ملحوظ رکھے۔(۱)
- (۱) وان الحکم الملفق باطل بالْإجماع، وفی الشامیۃ: وأنہ یجوز العمل بما یخالف ما عملہ علٰی مذھبہ مقلدًا فیہ غیر اِمامہ مستجمعًا شروطہ ۔۔۔ الخ۔ (فتاویٰ شامی ج:۱ ص:۷۵)۔

