اِجتہاد وتقلید
کسی ایک اِمام کی تقلید کیوں؟
سوال:۔
جب چاروں اِمام، اِمام ابوحنیفہؒ، اِمام شافعیؒ، اِمام مالکؒ اور اِمام احمد بن حنبلؒ برحق ہیں تو پھر ہمیں کسی ایک کی تقلید کرنا کیوں ضروری ہے؟ ان چاروں سے پہلے لوگ کن کی تقلید کرتے تھے؟
جواب:۔
جب چاروں اِمام برحق ہیں تو کسی ایک کی تقلید حق ہی کی تقلید ہوگی، چونکہ بیک وقت سب کی تقلید ممکن نہیں، لامحالہ ایک کی لازمی ہوگی۔(۱)
دوم:۔ تقلید کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ کوئی آدمی گمراہ ہوکر اِتباعِ ہویٰ کا شکار نہ ہوجائے جبکہ اَئمۂ عظام سے پہلے کا دور خیرالقرون کا دور تھا، وہاں لوگ اپنی مرضی چلانے کے بجائے صحابہ کرامؓ سے پوچھ لیتے تھے۔(۲)
- (۱) یجب علی العامی وغیرہ ممن لم یبلغ مرتبۃ الْإجتھاد التزام مذھب معیّن (الحاوی للفتاویٰ ج:۱ ص:۲۹۵)۔ فقد صرح العلماء بان التقلید واجب علی العامی لئلا یضل فی دینہٖ۔‘‘ (میزان الکبریٰ ج:۱ ص:۸۸، طبع مصر، الیواقیت والجواہر ج:۲ ص:۹۶)۔
- (۲) خیر القرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم (مشکٰوۃ ص:۵۵۳، باب مناقب الصحابۃ)۔ وبعد المأتین ظھر فیھم التمذھب للمجتھدین بأعیانھم وقلّ من کان لَا یعتمد علٰی مذھب مجتھد بعینہٖ وکان ھٰذا ھو الواجب فی ذاک الزمان۔ (الْإنصاف ص:۵۹، لشاہ ولی اللہ)۔

