اِجتہاد وتقلید
کیا کسی ایک اِمام کی پیروی ضروری ہے؟
سوال:۔
میرے ایک دوست کا کہنا ہے کہ میں کسی ایک اِمام کی پیروی لازمی نہیں سمجھتا، بلکہ جس کی جو بات دِل کو لگے اس پر عمل کرتا ہوں۔ جبکہ میری رائے یہ ہے کہ کسی بھی ایک اِمام کی اِقتدا ضروری ہے، ورنہ آدمی شترِ بے مہار ہے۔ برائے مہربانی وضاحت فرمائیں کہ وہ صاحب اپنے عمل میں کس حد تک دُرست ہیں؟
جواب:۔
کسی اِمام کی پیروی نہ کرنا، بلکہ جس کا مسئلہ دِل کو لگے اور اپنے لئے مفیدِ مطلب ہو، اس کو اِختیار کرلینا، دِین کی پیروی نہیں بلکہ خواہشِ نفس کی پیروی ہے،(۱) اس لئے یہ صحیح نہیں۔
- (۱) قال المحققون من الاُصولیین: العامی وھو من لیس لہ أھلیۃ الاجتھاد، وان کان محصلًا لبعض العلوم المعتبرۃ فی الاجتھاد یلزمہ اتباع قول المجتھدین والأخذ بفتواھم، لقولہ تعالٰی: ﵟ فَسۡـَٔلُوٓاْ أَهۡلَ ٱلذِّكۡرِ إِن كُنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ ٧ ﵞ۔ (تیسیر الاُصول الی علم الاُصول ص:۳۲۳ بحث فی التقلید)۔ وایضًا فی الفتاویٰ الکبریٰ لابن تیمیۃ ج:۲ ص:۲۴۳ وفی وقت یقلدون من یفسدہ وفی وقت یقلدون من یصححہ بحسب الغرض والھویٰ ومثل ھٰذا لَا یجوز باتفاق الاُمّۃ۔ (طبع دار القلم بیروت، المسألۃ السابعۃ والأربعون)۔

