بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اِجتہاد وتقلید

کیا تقلیدِ شخصی بھی بدعت ہے؟

سوال:۔

کسی کام میں جس قدر بھی فائدہ نظر آئے، وہ کام اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کے دور میں نہیں ہوا تو وہ بدعت ہی کہلائے گا، مثلاً: تقلیدِ شخصی۔

جواب:۔

آپ کا یہ خیال ہی غلط ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانے میں تقلید یا تقلیدِ شخصی نہیں تھی۔ آپ جانتے ہوں گے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تھا، اور یمن ہی کے دُوسرے علاقے میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو۔ یہ دونوں حضرات اپنے اپنے علاقے کے معلّم تھے اور وہاں کے لوگ ان سے مسائلِ شرعیہ معلوم کرکے ان پر عمل کرتے تھے۔ یہ ’’تقلیدِ شخصی‘‘ نہیں تھی تو اور کیا تھی۔۔۔؟ اسی طرح حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں صحابہ کرامؓ کو مختلف بلاد و اَمصار میں معلّم بناکر بھیجا، اور ہر علاقے کے لوگ ان صحابہؓ سے مسائل پوچھ کر عمل کرتے تھے، چنانچہ کوفہ کے لوگ حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کے فتووں پر عمل کرتے تھے، یہی ’’تقلیدِ شخصی‘‘ تھی۔(۱)

  1. (۱) عن الأسود بن یزید قال: أتانا معاذ بن جبل بالیمن معلّمًا وأمیرًا فسألناہ عن رجل توفی وترک ابنتہ وأُختہ فأعطی الابنۃ النصف والاُخت النصف۔ (صحیح بخاری ج:۲ ص:۹۹۷، باب میراث البنات)۔
  2. حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اہلِ کوفہ کے نام ایک خط میں تحریر فرمایا:
  3. ’’قد بعثت الیکم عمار بن یسار أمیرًا وعبداللہ بن مسعود معلّمًا ووزیرًا، وھما من النجبآء من أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من أھل بدر فاقتدوا بھما وقد اٰثرتکم بعبداللہ علٰی نفسی۔‘‘ (تذکرۃ الحفاظ ج:۱ ص:۱۳)