اِجتہاد وتقلید
کیا ہر وہ کام بدعت ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ کے دور کے بعد شروع ہوا؟
سوال:۔
کیا ہر وہ کام جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ کے دور کے بعد شروع ہو، بدعت ہوگا؟ یا کام کی نوعیت دیکھ کر اس پر بدعت کا فتویٰ لگے گا؟
جواب:۔
دِین کا سیکھنا تو شریعت نے فرض قرار دیا ہے، اور دین سیکھنے کا رواج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ کے زمانے میں بھی تھا، اس لئے کسی عالم سے دین سیکھنا اور اس پر اِعتماد کرتے ہوئے اس کی تقلید کرنا بدعت نہ ہوا۔(۱)
- (۱) ﵟ فَسۡـَٔلُوٓاْ أَهۡلَ ٱلذِّكۡرِ إِن كُنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ ٧ ﵞ الأنبياء ٧ٔیضًا عن أنس رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: طلب العلم فریضۃ علٰی کل مسلم ۔۔۔ الخ۔ (مشکوٰۃ ص:۳۰ کتاب العلم)۔

