اِجتہاد وتقلید
کیا علماء نے اِجتہاد کا دروازہ بند کرکے اسلام کو زمانے کے ساتھ چلنے سے روکا ہے؟
سوال:۔
ستمبر کی بیس تاریخ کو میں نے ’’فوٹو کی شرعی حیثیت‘‘ سے متعلق فتویٰ پر کچھ گزارشات پیش کی تھیں اور آپ سے رہنمائی چاہی تھی، اس کے بعد حج کے دنوں دمام میں موجود نہ رہا، لہٰذا آنے والے دو جمعوں کے اخبار نظر سے نہ گزرے۔ اگر آپ نے اس سلسلے میں کچھ رہنمائی فرمائی ہوگی تو میں اس سے محروم رہ گیا۔ پچھلے دنوں ایک عالمِ دِین ۔۔۔جن کا نام یاد نہیں آرہا۔۔۔ نے مدیر کے نام خط شائع کرایا اور اس میں تقریباً وہی کچھ فرمایا جو آپ نے فرمایا ہے، اس کے بعد اس جمعہ کی اشاعت میں ’’عکس یا تصویر‘‘ از مفتی محمد شفیعؒ شامل ہے۔ میں نے اس کو پڑھا اور ظاہر ہے کہ مفتی صاحب کے علم اور بصیرت سے کون اِنکار کرسکتا ہے، لیکن بات پھر وہی آجاتی ہے کہ اس کا حل کیا ہے؟ آج کے اس دور میں کیا مسلمان کو دُنیا سے الگ تھلگ ہوجانا چاہئے، کیونکہ بغیر تصویر کے موجودہ زمانے میں کچھ نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک عملی دُشواری ہے، جس کا حل اگر علماء نہ پیش کرسکیں تو یہ ایک خاموش اعتراف ہوگا کہ اسلام کا زمانے کے ساتھ چلنے کا دعویٰ خطا ہے، اور یہ اس لئے ہوگا کہ علماء نے اِجتہاد کا دروازہ بند کرکے اس دِین کو ایسا بنادیا ہے۔
جواب:۔
اِضطرار کی حالت ہمیشہ مستثنیٰ ہوتی ہے، جان بچانے کے لئے مردار کھانے کی بھی اجازت ہے، اسی طرح فوٹو اگر کسی قانونی مجبوری کی بنا پر بنوانا پڑے تو اس کی اجازت ہوگی۔ لیکن مسئلہ اپنی جگہ برقرار رہے گا کہ فوٹو حرام ہے۔ اسلام کے زمانے کے ساتھ چلنے کا اگر یہ مطلب ہے کہ ہر جائز و ناجائز جو زمانے میں رائج ہوجائے اور ہر بے حیائی جو اہلِ زمانہ کی نظر میں ’’آرٹ اور فن‘‘ بن جائے، اسلام کو اس پر مہرِ تصدیق ثبت کرنی چاہئے، تو مجھے اعتراف ہے کہ اسلام اس زمانہ سازی کا قائل نہیں، اور اگر اس کا یہ مطلب ہے کہ زمانے کے حالات خواہ کیسے ہی پلٹ جائیں، اسلام ہر حالت کے بارے میں انسانیت کی صحیح رہنمائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تو یہ بات بالکل صحیح ہے۔ لیکن ہمارا اِصرار یہ نہیں ہونا چاہئے کہ اسلام فلاں چیز کو جائز ہی قرار دے۔ اسلام تو دِینِ فطرت ہے، اور یہ ایک ایسی کسوٹی ہے جس سے یہ پَرکھا جاتا ہے کہ انسانیت صحیح فطرت پر چل رہی ہے، یا فطرت سے بغاوت کرکے غلط راستے پر چل نکلی ہے؟ جہاں فطرت میں ذرا کجی آئے، اسلام اس کی نشاندہی کرتا ہے اور اِنسانیت کو آگاہ کرتا ہے کہ وہ اپنی غلطی کی اصلاح کرے۔ جو چیزیں کج راہوں نے مسخِ فطرت کی بنا پر اِیجاد کرلی ہیں، اسلام سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ان کی مسخ شدہ فطرت کی تصدیق و تصویب کرے، فطرت کے سانچے کو توڑ دینے کے مرادف ہے۔ ہاں! مسلمانوں کو ناگزیر اِضطراری حالات پیش آجائیں تو اسلام ان کے لئے الگ اَحکام دیتا ہے۔(۱)
اِجتہاد کا دروازہ کھلے ہونے کا اگر یہ مفہوم ہے کہ جو مسائل پہلے زمانوں میں پیش نہیں آئے تھے، کتاب و سنت میں غور و فکر کرکے یہ معلوم کیا جائے کہ ان نئی صورتوں کے بارے میں خدا اور رسول کا حکم کیا ہے؟ تو یہ مفہوم صحیح ہے اور ایسے اِجتہاد کا دروازہ کسی نے بند نہیں کیا۔ یہ علماء پر خالص تہمت ہے کہ انہوں نے اِجتہاد کا دروازہ بند کردیا ہے۔ لیکن اگر اِجتہاد کا دروازہ کھولنے کا مطلب یہ ہے کہ جو چیزیں خدا و رسول نے حرام کردی ہیں، ان کو اِجتہاد کے زور سے حلال کردیا جائے، جو چیزیں خدا اور رسول نے فرض کی تھیں، اب ان کی فرضیت کو اُٹھادیا جائے، جن باتوں کو خدا و رسول نے بُرائی اور فاحشہ فرمایا تھا، اب اِجتہاد کے ذریعے ان کو نیکی اور کارِ ثواب بنادیا جائے، تو یہ اِجتہاد نہیں، بلکہ دِین میں تحریف ہے۔ مسلمانوں کو خدا کا شکر اَدا کرنا چاہئے کہ انہوں نے دِین کی تحریف کا دروازہ بند رکھا ہے، ورنہ یہود ونصاریٰ کے دِین کی طرح ان کا دِین بھی اب تک مسخ ہوچکا ہوتا۔
- (۱) الضرورات تبیح المحظورات ومن ثم جاز أکل المیتۃ ۔۔۔ الخ۔ (الاشباہ والنظائر ص:۴۳، طبع ایچ ایم سعید کراچی)۔

