بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور یزید کے بارے میں مسلکِ اہل سنت

کیا یزید کو پلید کہنا جائز ہے؟

جواب:۔

یزید کو پلید اس کے کارناموں کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت، اہلِ مدینہ کا قتلِ عام اور کعبہ شریف پر سنگ باری اس کے تین سالہ دور کے سیاہ کارنامے ہیں۔(۱) یہ کہنا کہ ابنِ زیاد نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کیا، لہٰذا اس کی کوئی ذمہ داری یزید پر عائد نہیں ہوتی، بالکل غلط ہے۔ ابنِ زیاد کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا مقابلہ کرنے کے لئے ہی تو کوفہ کا گورنر بنایا گیا تھا۔(۲)

جہاں تک حدیث شریف میں مغفرت کی بشارت کا تعلق ہے، وہ بالکل صحیح ہے،(۳) لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یزید کے غلط کاموں کو بھی صحیح کہا جائے۔ مغفرت گناہگاروں کی ہوتی ہے، اس لئے مغفرت اور گناہ میں کوئی تعارض نہیں۔(۴) ہاں! یزید کے کفر کا فتویٰ دینا اس پر مبنی ہے کہ اس کے خاتمے کا قطعی علم ہو، وہ ہے نہیں۔ اس لئے کفر کا فتویٰ اس پر ہم بھی نہیں دیتے،(۵) گو یزید کے سیاہ کارناموں کی وجہ سے اس کو بہت سے حضرات نے مستحقِ لعنت قرار دیا ہے، مگر اس کا نام لے کر لعنت ہم بھی نہیں کرتے، مگر کسی پر لعنت نہ کرنے کے یہ معنی نہیں کہ اس کی حمایت بھی کی جائے،(۶) واللہ اعلم!

  1. (۱) ویزید أمیر المؤمنین، وکان قبیح الآثار فی الْإسلام قتل أھل المدینۃ وافاضل الناس وبقیۃ الصحابۃ رضی اللہ عنھم یوم الحرۃ فی آخر دولتہ، وقتل الحسین رضی اللہ عنہ وأھل بیتہ فی أوّل دولتہ، وحاصر ابن الزبیر رضی اللہ عنہ فی المسجد الحرام واستخف بحرمۃ الکعبۃ والْإسلام فأماتہ اللہ فی تلک الأیام ۔۔۔إلخ۔ (جمہرۃ أنساب العرب لِابن حزم ظاھری ص:۱۱۲ طبع دار المعارف، مصر)۔
  2. تفصیل کے لئے دیکھئے: اسماء الخلفاء والولَاۃ وذکر مددھم ص:۳۵۷، ۳۵۸ طبع مصر۔
  3. (۲) کتب یزید إلی ابن مرجانۃ ان اغز ابن الزبیر فقالَا: لَا أجمعھما للفاسق أبدًا أقتل ابن بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واغزوا البیت ۔۔۔إلخ۔ (تاریخ طبری ج:۵ ص:۴۸۳)۔ وبعث أھل العراق إلی الحسین الرسل والکتاب یدعونہ إلیھم، فخرج من مکۃ إلی العراق فی عشر ذی الحجۃ ومعہ طائفۃ من آل بیتہ رجالًا ونساءً وصبیانًا، فکتب یزید إلٰی ولیہ بالعراق عبیداللہ بن زیاد بقلتہ فوجہ إلیہ جیشًا أربعۃ آلَاف ۔۔۔إلخ۔ (تاریخ الخلفاء ص:۱۶۹ طبع مؤسسۃ الکتب الثقافیۃ)۔
  4. (۳) قال عُمیر: فحدثتنا أم حرام انھا سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول أوّل جیش من اُمتی یغزون البحر قد أوجَبُوا، قالت اُمّ حرام: قلت: یا رسول اللہ! أنا فیھم؟ قال: أنتِ فیھم، قالت: ثم قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: أوّل جیش من اُمّتی یغزون مدینۃ قیصر مغفور لھم، فقلت: أنا فیھم؟ یا رسول اللہ! قال: لَا۔ (صحیح بخاری، کتاب الجہاد، باب ما قیل فی قتال الرُّوم ج:۱ ص:۴۰۹، ۴۱۰)۔
  5. (۴) قال الشاہ ولی اللہ الدھلوی فی شرح تراجم أبواب البخاری: (قولہ مغفور لھم) تمسک بعض الناس بھٰذا الحدیث فی نجات یزید لأنہ کان من جملۃ ھٰذا الجیش الثانی، بل کان رأسھم ورئیسھم علٰی ما یشھد بہ التواریخ، والصحیح انہ لَا یثبت بھٰذا الحدیث إلّا کونہ مغفورًا لہ ما تقدم من ذنبہ، علٰی ھٰذہ الغزوۃ لأن الجھاد من الکفارات، وشان الکفارات إزالۃ آثار الذنوب السابقۃ علیھا لَا الواقعۃ بعدھا، نعم لو کان مع ھٰذا الکلام أنہ مغفور لہ إلٰی یوم القیامۃ یدل علٰی نجاتہ، وإذ لیس فلیس بل أمرہ مفوض إلی اللہ تعالٰی فیما ارتکبہ من القبائح بعد ھٰذہ الغزوۃ من قتل الحسین علیہ السلام، وتخریب المدینۃ والْإصرار علٰی شرب الخمر إن شاء عفا عنہ وإن شاء عذبہ کما ھو مطرد فی حق سائر العصاۃ علٰی أن الأحادیث الواردۃ فی شأن من استخف بالعترۃ الطاھرۃ، والملحد فی الحرم والمبدل للسُّنَّۃ، تبقٰی مخصصات لھٰذا العموم لو فرض شمولہ لجمیع الذنوب۔ (شرح ترجمۃ أبواب البخاری، ملحقۃ بخاری شریف ص:۳۱، ۳۲ طبع نور محمد کتب خانہ)۔
  6. (۵) ولَا یخفٰی ان قولہ: ’’والحق بعد نقلہ الْإتفاق‘‘ لیس فی محلہ مع ان الرضٰی بقتل الحسین لیس بکفر لما سبق من ان قتلہ لَا یوجب الخروج عن الْإیمان بل ھو فسق وخروج عن الطاعۃ إلی العصیان ثم دعواہ انہ مما تواتر معناہ فقد سبق انہ لَا یثبت أصلًا فضلًا عن التواتر قطعًا ۔۔۔ وحقیقۃ الأمر التوقف فیہ ومرجع أمرہ إلی اللہ سبحانہ ۔۔۔إلخ۔ (شرح فقہ الأکبر ص:۸۸ وأیضًا اصول الدین لأبی الیسر بزدوی ص:۹۸ طبع مصر)۔
  7. (۶) یزید بے دولت از زُمرہ فسقہ است، توقف درلعنتِ او بنا بر اصل مقرر اہل سنت است کہ شخص معین را اگرچہ کافر باشد تجویز لعنت نکردہ اند مگر آنکہ بیقین معلوم کنند کہ ختم او برکفر بودہ کأبی لہب الجہنمی وامرأتہ، نہ آنکہ او شایانِ لعنت نیست، إنّ الذین یؤذون اللہ ورسولہ لعنھم اللہ فی الدنیا والآخرۃ۔ (مکتوبات امام ربانی، دفتر اوّل، مکتوب:۲۵۱، ص:۴۱۷ طبع ایچ ایم سعید، وایضاً دفتر اوّل، مکتوب:۲۶۶ ص:۴۸۷)۔