بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حضرت عباس اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہما کے بارے میں چند شبہات کا اِزالہ

صحابہؓ کے بارے میں تاریخی رطب و یابس کو نقل کرنا سوئِ ادب ہے

آپ نے فرمایا کہ صحابہ کرامؓ کے بارے میں جو الفاظ بندے نے لکھے تھے ان سے سوئِ ادب کی بو آتی ہے۔ حق تعالیٰ سوئِ ادب سے محفوظ رکھے، صحابہؓ تو بہت بڑے مرتبوں کے مالک ہیں، بندہ تو ایک فاجر و فاسق مسلمان کی ذات کو بھی عزّت کی نظر سے دیکھتا ہے، اس پر بندے کے کچھ اَشعار سماعت فرمائیں:

ہر مسلمان کو محبت ہے رسول اللہ سے

ہر مسلمان کو رسول اللہ کی نسبت سے دیکھ

ہر مسلمان محترم تجھ کو نظر آئے گا پھر

جب بھی دیکھے تو مسلمان کو اسی نسبت سے دیکھ

اس سے آگے بھی ایک ادب ہے جو خالق و مخلوق کی نسبت سے ہے:

وہ شرابی ہو کہ زانی فعل مطلق ہے بُرا

فعل کی تحقیر کر، پر ذات کو عزّت سے دیکھ

پھر بندے کی نظر میں اس سے بھی آگے اک ادب ہے:

کنبہ سب خالق کا ہے مخلوق ہے جتنی یہاں

کیا نصاریٰ کیا مسلمان سب کو تو عزّت سے دیکھ

جواب:۔

تاریخ میں تو رطب و یابس سب کچھ بھردیا گیا ہے، لیکن ان واقعات کو بطورِ اِستدلال نقل کرنا سوئِ ادب سے خالی نہیں، ان کے محاسن سے قطع نظر کرتے ہوئے یہ کہنا کہ ان سے بڑی بڑی غلطیاں ہوئیں، ہم جیسے لوگوں کے حوصلے سے بڑی بات ہے۔

امام مزنی ؒکا قول میری نظر سے نہیں گزرا، تاکہ یہ دیکھتا کہ ان کی مراد کیا ہے؟ جہاں تک صحابہ کرامؓ کی اقتدا کا مسئلہ ہے بعض ظاہریہ تو ان کے اقوال و افعال کو حجت ہی نہیں سمجھتے، ابنِ حزم ظاہری اکثر یہ فقرہ دُہراتے رہتے ہیں: ’’لَا حُجَّةَ فِيْ قَوْلِ صَاحِبٍ وَلَا تَابِعٍ‘‘(۱)، لیکن عامۃ العلماء کے نزدیک صحابہؓ کے اقوال و افعال بھی لائقِ اقتدا ہیں، البتہ تعارضِ احوال و افعال کی صورت میں ترجیح کا اُصول چلتا ہے، جس کو مجتہدین جانتے ہیں۔(۲) بہرحال ہمارے لئے اس مسئلے پر گفتگو بے سود ہے، ہمارے لئے اتنی بات بس ہے کہ وہ حضرات لائقِ اقتدا ہیں۔(۳)

  1. (۱) فلا حجۃ فی أحد دون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ (ج:۱ ص:۵۱) أنہ لَا حجۃ فی عمل أحد دون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ (ج:۱ ص:۵۵ المحلّٰی لِابن حزم، طبع بیروت)۔
  2. (۲) اعلم ان الترجیح ۔۔۔ ھو بیان الرجحان فی القوۃ لأحد المتعارضین علی الآخر، وتقدیم الراجح علی المرجوح، وھو المعقول، وعلیہ انعقد الْإجماع۔ (تسہیل الوصول الیٰ علم الاُصول ص:۲۴۰، بحث المرجحات)۔
  3. (۳) عن العرباں بن ساریۃ قال: قام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ فقال: أوصیکم بتقوی اللہ والسمع والطاعۃ وإن کان عبدًا حبشیًّا فإنہ من یعش منکم بعدی فسیری اختلافًا کثیرًا فعلیکم بسُنّتی وسُنَّۃ الخلفاء الراشدین المھدیین، تمسّکوا بھا وعضّوا علیھا بالنواجذ ۔۔۔إلخ۔ (مشکٰوۃ ص:۳۰، باب الْإعتصام بالکتاب والسُّنَّۃ، الفصل الثانی)۔