حضرت عباس اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہما کے بارے میں چند شبہات کا اِزالہ
سوئِ ادب کی بو آتی ہے
صحابہ کرامؓ سے محبت رکھنا، عزت و عقیدت سے ان کا ذکر کرنا بندہ کا بھی جزو ایمان ہے، بلکہ اکثر اس میں غلو بھی ہوجاتا ہے۔ میرا سوال صرف یہ تھا کہ یہ جو قول ہے کہ جس کی اقتداء کرو گے، ہدایت پاؤگے۔ تو یہ اقتداء میں نے عرض کیا تھا کہ ان کے عقائد اور ایمان کی معلوم ہوتی ہے کہ اس میں جتنا ان کو رسوخ تھا اس کی مثال مشکل ہے، مگر ان کے اعمال میں اقتداء کا حکم نہیں ہے، مجھے خوشی ہے کہ میرے اس قول میں امام مزنی ؒ کا قول بھی تائید میں ملا ہے، َصْحَابِي كَالنُّجُوْمِکی شرح میں فرماتے ہیں:
’’اگر یہ حدیث صحیح ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ روایت دین میں تمام صحابی ثقہ اور معتبر ہیں، اس کے علاوہ اور کوئی معنی میرے نزدیک درست نہیں، کیونکہ اگر خود صحابہؓ اپنی رائے کو ہمیشہ صائب اور غلطی سے مبرا سمجھتے ہوتے تو نہ آپس میں ایک دُوسرے کی تغلیط کرتے اور نہ اپنے کسی قول سے رجوع کرتے، حالانکہ بے شمار موقعوں پر وہ ایسا کرچکے ہیں۔‘‘
الحمدللہ! ثم الحمدللہ! بس یہی مراد تھی، اور یہ میرے اس قول کا مطلب ہے کہ اقتداء صحابہ کرامؓ کے عقائد اور ایمان کی معلوم ہوتی ہے، ان کے اعمال، عادات و اطوار کی نہیں، آپ اس سے کہاں تک متفق ہیں؟
جواب:۔
آپ نے حضرت معاویہؓ، حضرت عمرو بن العاصؓ اور حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کے متعلق جو الفاظ لکھے تھے، ان سے کچھ سوئِ ادب کی بو آتی ہے۔ عقائد و ایمان تو سب کا ایک ہی تھا اور بیشتر اعمال بھی، اور بعض اعمال میں اجتہادی اختلاف بھی تھا، تاہم ’’جس کی اقتداء کرو گے ہدایت پاؤگے‘‘ کا یہی مصداق ہے، یعنی سب اپنی جگہ حق و ہدایت پر ہیں،(۱) جیسا کہ ائمہ اربعہؒ کے بارے میں اہلِ سنت قائل ہیں کہ وہ سب برحق ہیں، ان کا ایک دُوسرے کی تردید و تغلیط کرنا بھی بنا بر اِجتہاد ہے، ہر مجتہد اپنی رائے صائب اور غلطی سے مبرا سمجھتا ہے مگر ظنًّا۔(۲)
- (۱) ولَا نذکر الصحابۃ ای مجتمعین ومنفردین ۔۔۔ اِلّا بخیر، یعنی وان صدر من بعضھم بعض ما فی صورۃ شرّ، فانہ اما کان عن اجتہاد ولم یکن علٰی وجہ فساد من اصرار وعناد، بل کان رجوعھم عنہ الٰی خیر معاد، بناء علٰی حسن الظن بھم، لقولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام: خیر القرون قرنی! ولقولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام: اذا ذکر أصحابی فامسکوا! ولذٰلک ذھب جمہور العلماء الٰی ان الصحابۃ کلھم عدول، قبل فتنۃ عثمان وعلیّ وکذا بعدھا، ولقولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام: أصحابی کالنجوم بأیّھم اقتدیتم اھتدیتم! رواہ الدارمی۔ (شرح فقہ الأکبر ص:۸۵، ۸۶)
- قولہ العدل قال فی الذخیرۃ: وأحسن ما قیل فی تفسیر العدالۃ: أن یکون مجتنبًا للکبائر، ولَا یکون مُصرًّا علی الصغائر، ویکون صلاحہ اکثر من خطئہ۔ (فتاویٰ شامی کتاب الشہادات ج:۵ ص:۴۶۵)۔ وأیضًا: إن ھٰذہ الآثار المرویۃ فی مساویھم منھا ما ھو کذب، ومنھا ما قد زید فیہ ونقص وغیر وجھہ والصحیح منہ ھم فیہ معذورون، اما مجتھدون مصیبون واما مجتھدون مخطئون، وھم مع ذٰلک لَا یعتقدون أن کل واحد من الصحابۃ معصوم من کبائر الْإثم وصغائرہ بل یجوز علیھم الذنوب فی الجملۃ، ولھم من الفضائل والسوابق ما یوجب مغفرتہ ما یصدر منھم إن صدر۔ (الروضۃ الندیۃ شرح العقیدۃ الواسطیۃ ص:۴۴۹، طبع ریاض، وأیضًا الصواعق المحرفۃ ص:۱۲۹ طبع مصطفی البابی مصر)۔
- (۲) وانما النزاع بین الناس فی أحکام الفروع، وإلیک مجمل الآراء: الأوّل: أن الحق واحد، فإن أصابہ کان لہ أجران، وإن أخطأہ کان معذورًا مأجورًا، وھٰذا مذھب جمھور الفقھاء ومختار عامۃ المحققین۔ (نظریۃ الْإجتھاد فی الشریعۃ الْإسلامیۃ ص:۵۵، الفصل الحادی عشر، المصیب فی الْإجتہاد، طبع دار الشروق۔ وأیضًا فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت ص:۶۱۴ طبع لکھنؤ)۔

