حضرت عباس اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہما کے بارے میں چند شبہات کا اِزالہ
سوالات
۱:۔حضرت علیؓ چھپ کر کیوں بیٹھ گئے تھے؟
۲:۔کیا ان دونوں کو مال و دولت کی اس قدر حرص تھی کہ بار بار ترکہ مانگتے تھے، جبکہ ان کو حضرت ابوبکرؓ اور عمرؓ نے علم کرادیا تھا کہ اس مال کی حیثیت ترکے کی نہیں، تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔
۳:۔یہ جھگڑا ان دونوں کو نہ صرف مال و دولت کا حریص ثابت کرتا ہے بلکہ اخلاقی پستی کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے، کیونکہ گالی گلوچ شرفاء کاوطیرہ نہیں۔
۴:۔’’تین روز کے بعد آپ پر لاٹھی کی حکومت ہوگی‘‘ اس عبارت کو واضح کریں۔
۵:۔حضرت عباسؓ کو کیسی فکر پڑی ہے کہ خلافت ملے، نہ ملے تو وصیت ہی ہوجائے کہ ان کے مفادات محفوظ ہوجائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور وفات کا صدمہ اگر غالب ہوتا تو یہ خیالات اور یہ کارروائیاں کہاں ہوتیں؟
۶:۔حضرت علیؓ کے الفاظ سے تو ان کا ارادہ یہی ظاہر ہوتا ہے کہ خواہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انکار ہی کیوں نہ کردیں، انہیں خلافت درکار ہے، اور یہ بھی کہ انہیں احتمال یہی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منع فرمادیں گے، اسی لئے کہتے ہیں کہ: میں نہ سوال کروں گا (اور بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اس خلافت کو حاصل کروں گا)، حضرت علیؓ کے الفاظ اگر یہ مفہوم ظاہر نہیں کرتے تو پھر کیا ظاہر کرتے ہیں؟
اُمید ہے کہ آپ جواب جلد اِرسال فرمائیں گے۔ فقط والسلام
محمد ظہور الاسلام

