حضرت عباس اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہما کے بارے میں چند شبہات کا اِزالہ
حضرتعباساورحضرتعلیالمرتضیٰرضیاللہعنہماکےبارےمیںچندشبہاتکااِزالہ
بسم الله الرحمن الرحیم
محترم المقام جناب یوسف لدھیانوی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، اما بعد!
قاضی ابوبکر بن العربیؒ ۴۶۸ھ تا ۵۴۳ھ اپنی کتاب ’’العواصم من القواصم‘‘ کے ایک باب میں رقم طراز ہیں:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ایک کمر توڑ حادثہ تھا، اور عمر بھر کی مصیبت، کیونکہ حضرت علیؓ، حضرت فاطمہؓ کے گھر میں چھپ کر بیٹھ گئے۔
اور حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران اپنی الجھن میں پڑگئے۔ حضرت عباسؓ نے حضرت علیؓ سے کہا کہ: موت کے وقت بنی عبدالمطلب کے چہروں کی جو کیفیت ہوتی ہے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی دیکھ رہا ہوں، سو آؤ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیں اور معاملہ ہمارے سپرد ہو تو ہمیں معلوم ہوجائے گا۔
پھر اس کے بعد حضرت عباسؓ اور حضرت علیؓ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکہ میں اُلجھ گئے، وہ فدک، بنی نضیر اور خیبر کے ترکہ میں میراث کا حصہ چاہتے تھے۔‘‘
ائمہ حدیث کی روایت کے مطابق حضرت عباسؓ نے حضرت علیؓ کے متعلق کہا تھا کہ جب حضرت عباسؓ اور علیؓ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوقاف کے بارے میں حضرت عمرؓ کے پاس اپنا جھگڑا لے کر گئے تو حضرت عباسؓ نے حضرت عمرؓ سے کہا: ’’اے امیرالمؤمنین! میرے اور اس کے درمیان فیصلہ کرادیں۔‘‘
دیگر جگہ پر ہے کہ آپس میں گالی گلوچ کی ۔۔۔۔۔ (ابن حجر، فتح الباری)۔
’’حضرت علیؓ بن ابی طالب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری بیماری میں مبتلا تھے، لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ: اے ابوالحسن! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت کیسی ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ: اب آپ پہلے سے اچھی حالت میں ہیں۔ تو حضرت عباسؓ نے حضرت علی ؓکا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: خدا کی قسم تین روز کے بعد آپ پر لاٹھی کی حکومت ہوگی، مجھے معلوم ہو رہا ہے کہ اس بیماری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات عنقریب ہونے والی ہے، کیونکہ بنی عبدالمطلب کے چہروں کی جو کیفیت موت کے وقت ہوتی ہے، وہی مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معلوم ہو رہی ہے، آؤ! ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیں کہ آپ کے بعد خلیفہ کون ہوگا؟ اگر آپ ہمیں خلافت دے جائیں تو بھی ہمیں معلوم ہوجائے اور اگر آپ کسی اور کو خلافت دے دیں تو پھر ہمارے متعلق اس کو وصیت کرجائیں۔ تو حضرت علیؓ نے کہا: خدا کی قسم! اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کریں اور آپ ہم کو نہ دیں تو پھر لوگ ہم کو کبھی نہ دیں گے اور میں تو خدا کی قسم! اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہرگز سوال نہ کروں گا۔‘‘ یہ حدیث صحیح بخاری کتاب المغازی اور البدایہ والنہایہ میں ابن عباسؓ سے مروی ہے، اور امام احمدؒ نے اپنی مسند میں روایت کی ہے۔

