بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

صحابہؓ وصحابیاتؓ، ازواجِ مطہراتؓ اور صاحبزادیاںؓ

متعہ کی نسبت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف کرنا اُن پر تہمت ہے

جواب:۔

یہ شخص جس سے آپ کی گفتگو ہوئی، شیعہ ہوگا۔ شیعہ صاحبان متعہ کرتے، کراتے ہیں، اور اس کو بہت بڑا کارِ ثواب سمجھتے ہیں۔ ان کی کتابوں میں لکھا ہے کہ جو شخص ایک بار متعہ کرے وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے درجے کو پہنچ جاتا ہے، اور دُوسری بار متعہ کرے تو حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے درجے کو، تیسری بار کرے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے درجے کو، اور چوتھی بار کرے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درجے کو پالیتا ہے۔(۱)

اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک متعہ حرام ہے،(۲) اور یہ زنا ہی کی ایک شکل ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے جس واقعے کا حوالہ سوال میں دیا گیا ہے، یہ خالص جھوٹ ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ پر بہتان و اِلزام ہے۔ اس شخص کو اپنے فاسد اور غلط خیال سے توبہ کرنی چاہئے۔(۳)

  1. (۱) روایت کردند
  2. قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: من تمتع مرّۃ درجتہ کدرجۃ الحسین، ومن تمتّع مرّتین درجتہ کدرجۃ الحسن، ومن تمتّع ثلٰث مرّات درجتہ کدرجۃ علی ومن تمتّع أربع مرّات درجہ کدرجتی۔ (برھان المتعۃ ص:۵۲، باب إثبات متعۃ۔ تالیف: مولانا الحاج ابو القاسم ۱۳۰۵ طبع لاہور، بحوالہ تاریخی دستاویز ص:۷۳۷، پیش کردہ ابوریحان ضیاء الرحمن فاروقی)۔
  3. (۲) ثم ذکر فی الفتح أدلۃ تحریم المتعۃ وأنہ کان فی حجۃ الوداع وکان تحریم تأبید لَا خلاف فیہ بین الأئمۃ وعلماء الأمصار إلّا طائفۃ من الشیعۃ، ونسبۃ الجواز إلٰی مالک کما وقع فی الھدایۃ غلط۔ (رد المختار ج:۳ ص:۵۱)، ونکاح المتعۃ باطل وھو أن یقول لِامرأۃ اتمتع بک کذا مدۃ بکذا من المال۔ وقال مالک: وھو جائز، لأنہ کان مباحًا فیبقی إلٰی أن یظھر ناسخۃ، قلنا: ثبت النسخ بإجماع الصحابۃ وابن عباس صح رجوعہ إلٰی قولھم فتقرر الْإجماع۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۳۱۲، ۳۱۳، طبع مکتبہ شرکت علمیہ، ملتان)۔
  4. (۳) والعمدۃ ما ثبت فی الصحیحین عن أمیر المؤمنین علی بن أبی طالب رضی اللہ عنہ قال: نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن نکاح المتعۃ ۔۔۔ الخ۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۲ ص:۲۳۱، صحیح بخاری ج:۲ ص:۷۶۷، باب نھی رسول اللہ صلی اللہ علہ وسلم عن نکاح المتعۃ أخیرًا، صحیح مسلم ج:۱ ص:۴۵۲ باب نکاح المتعۃ طبع کتب خانہ رحیمیہ، انڈیا)۔