بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

صحابہؓ وصحابیاتؓ، ازواجِ مطہراتؓ اور صاحبزادیاںؓ

حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی خلافت برحق تھی

اگر ہمارے تین خلفاء کو حضرت علیؓ سے محبت تھی اور جب حضرت علیؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب و اہل بیت اور ان کے عزیز بھائی موجود تھے، اور اگر ان میں کچھ بھی نہ ہو لیکن یہ صفت تو موجود تھی، بقول حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم: ’’جس کا میں مولا اس کا علی مولا۔‘‘

اور حضرت عمرؓ نے آکر حضرت علیؓ کو غدیر خم میں مبارک باد دی تھی کہ’’اے علیؓ آپ خدا کے تمام مؤمنین و مؤمنات و کل صحابہ کرامؓ کے مولا مقرر ہوئے۔‘‘ تو پھر کیا وجہ ہے کہ حضرات خلفاء نے حضرت علیؓ کو خلیفہ کیوں نہیں بنایا؟ اور کیوں سقیفہ میں ان تین خلفاء میں سے کسی نے بھی حضرت علیؓ کو نامزد نہیں کیا؟

جواب:۔

غدیرِ خم میں جو اِعلان ہوا تھا وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دوستی کا تھا،(۱) خلافت کا نہیں، یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اپنے مصلیٰ پر کھڑا کیا، اور اپنی بیماری میں ان کو نماز پڑھانے کا حکم فرمایا، حضرت ابوبکرؓ امام تھے، اور حضرت علیؓ مقتدی، اس لئے خلافت بھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دی گئی۔(۲)

ہمارے تینوں خلفاء نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جنازہ مبارک میں شرکت کیوں نہیں کی؟ اور اگر خلافت کا مسئلہ در پیش تھا تو امر خلافت ملتوی کیوں نہیں کیا؟ کیا رسول خدا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر ان کی خلافت تھی؟ اور کیوں ان حضرات نے خبر نہیں دی کہ یہاں خلافت کا مسئلہ درپیش ہے؟ اور حضرت علیؓ سے اس بارے میں مشورہ کیوں نہ کیا؟

جواب:۔

حضراتِ خلفائے ثلاثہؓ نے جنازے میں شرکت فرمائی ہے،(۳) اور یہ طے شدہ بات ہے کہ کسی حاکم کے انتقال کے بعد سب سے پہلے اس کے جانشین کا تقرر کیا جاتا ہے، اُمت جانشین اور حاکم کے بغیر نہیں رہ سکتی۔

جس طرح ابوبکرؓ خلیفہ ہوئے آپ اس کو اصولاً کیا کہیں گے؟ الیکشن ہو نہیں سکتا، سلیکشن یہ بھی نہیں ہوسکتا، نو مینیشن یہ بھی نہیں، تو کیا معاملہ تھا؟اور اس کا کیا نام رکھا جائے گا؟ اور کس طرح یہ خلافت جائز قرار دی جائے گی؟

جواب:۔

تمام صحابہ کرامؓ نے (جن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے) حضرت ابوبکرؓ سے بیعت کی، اس سے بڑھ کر انتخاب(الیکشن) کیا ہوگا۔۔۔؟ ایک شخص بھی نہیں تھا جو حضرت ابوبکرؓ کے مقابلے میں خلافت کا مدعی ہو۔(۴)

جناب فاطمہؓ کی دِلی حالت مرتے دم تک ان تین خلفاء سے کیسی رہی؟ اگر آپ رضامند تھیں تو آپ نے اور آپ کے شوہر حضرت علیؓ نے اپنی حیات تک بیعت کیوں نہ کی؟ اور اگر آپ ان لوگوں سے ناراض تھیں اور آپ نے اسی حالت میں انتقال فرمایا تو آپ کا اعتقاد مذہبی وہی ہوا نا جو شیعوں کا ہے؟

جواب:۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت ابوبکرؓ سے راضی تھیں،(۵) اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکرؓ سے بیعت بھی کی تھی۔(۶)

مولانا صاحب میرا آخری سوال یہ ہے کہ ابوطالب کافر تھے یا مسلمان؟

جواب:۔

ان کا اسلام نہ لانا ثابت ہے۔(۷)

  1. (۱) عن زید بن أرقم قال: لما رجع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من حجۃ الوداع ونزل غدیر خم أمر بدوحات فقممن ثم قال کأنی قد دعیت فأجبت انی قد ترکتُ فیکم الثقلین کتاب اللہ وعترتی أھل بیتی ۔۔۔ ثم قال اللہ مولَای وأنا ولی کل مؤمن ثم أخذ بید علیّ فقال: من کنت مولَاہ فھٰذا ولیہ، اللّٰھم وال من والَاہ وعاد من عاداہ۔ (البدایۃ والنھایۃ ج:۵ ص:۲۰۹)۔
  2. (۲) عن عبداللہ بن زمعۃ بن الأسود بن المطلب بن أسد قال: لما استعز برسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وأنا عندہ فی نفر من المسلمین دعا بلال للصلاۃ فقال: مروا من یصلّی بالناس۔ قال: فخرجت فإذا عمر فی الناس، وکان أبوبکر غائبًا، فقلت: قم یا عمر! فصل بالناس، قال: فقام، فلما کبّر عمر سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صوتہ وکان عمر رجلًا مجھرًا، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: فأین أبوبکر؟ یأبی اللہ ذالک والمسلمون۔ قال: فبعث إلٰی أبی بکر فجاء بعد ما صلّی عمر تلک الصلٰوۃ فصلی بالناس۔ (البدایۃ والنھایۃ ج:۵ ص:۲۳۲، طبع دار الفکر، بیروت)۔
  3. (۳) لما کفن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ووضع علٰی سریرہ دخل أبوبکر وعمر رضی اللہ عنھما ومعھما نفر من المھاجرین والأنصار بقدر ما یسع البیت فقالَا: السلام علیک أیھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، وسلّم المھاجرون والأنصار کما سلّم أبوبکر وعمر، ثم صفوا صفوفًا لَا یؤمھم أحد۔ (البدایۃ والنھایۃ ج:۵ ص:۲۹۵، طبع دار الفکر، بیروت)۔
  4. (۴) فقلت أبسط یدک یا أبابکر فبسط یدہ فبایعتہ وبایعہ المھاجرون ثم بایعہ الأنصار۔ (البدایۃ والنھایۃ ج:۵ ص:۲۴۶)۔
  5. (۵) وقد روینا عن أبی بکر رضی اللہ عنہ أنہ ترضی فاطمۃ وتلاینھا قبل موتھا فرضیت رضی اللہ عنھا۔ (البدایۃ والنھایۃ ج:۵ ص:۲۸۹، طبع دار الفکر، بیروت)۔
  6. (۶) ثم نظر فی وجوہ القوم فلم یر علیًّا فدعا بعلی بن أبی طالب فجاء فقال: قلت ابن عم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وختنہ علٰی ابنتہ اردت أن تشق عصا المسلمین قال: لَا تثریب یا خلیفۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فبایعہ۔ (البدایۃ والنھایۃ ج:۵ ص:۲۴۹، طبع دار الفکر، بیروت)۔
  7. (۷) ﵟ إِنَّكَ لَا تَهۡدِي مَنۡ أَحۡبَبۡتَ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَهۡدِي مَن يَشَآءُۚ ﵞ، أی ھو أعلم لمن یستحق الھدایۃ ممن یستحق الغوایۃ، وقد ثبت فی الصحیحین أنھا نزلت فی أبی طالب عمّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وقد کان یخوطہ وینصرہ ویقوم فی صفّہ ویحبّہ حبًّا طبیعیًّا لَا شرعیًّا، فلما حضرتہ الوفاۃ وحان أجلہ دعاہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إلی الْإیمان والدخول فی الْإسلام فسبق القدر فیہ واختطف من یدہ فاستمرّ علٰی ما کان علیہ من الکفر، وﷲ الحکمۃ التامۃ۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۵ ص:۲۷)۔