عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع
کیا قرآنِ کریم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اعمال لوٹنے کا ذکر ہے؟
سوال:۔
قرآن میں تو ہر جگہ خالقِ کائنات فرماتا ہے کہ تمام اعمال میری طرف پلٹتے ہیں (سورۂ حج، سورۂ حدید، سورۂ اَعراف)۔
سوال:۔
قرآن کی کوئی ایک آیت بتلائیں جس میں لکھا ہو کہ فرشتے ہمارے اعمال ختم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے ہیں؟
جواب:۔
بلاشبہ تمام اعمال بارگاہِ اِلٰہی میں ہی پیش ہوتے ہیں، لیکن اگر بحکمِ خداوندی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو، یا عزیز و اقارب کو بھی بتائے جاتے ہوں تو کیا اِشکال ہے؟(۱)
جواب:۔
قرآنِ کریم میں تو یہ بھی نہیں کہ فجر کی دو، ظہر، عصر عشاء کی چار چار، اور مغرب کی تین رکعتیں ہیں۔
- (۱) عن أنس رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’اِنّ أعمال أُمّتی تعرض علیّ فی کل یوم الجمعۃ ۔۔۔ الخ‘‘ (حلیۃ الأولیاء ج:۶ ص:۱۷۹)۔ ’’عن أنس بن مالک رضی اللہ عنہ یقول: قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: إنّ أعمالکم تعرض علٰی أقاربکم وعشائرکم من الأموات، فإن کان خیرًا اِستبشروا بہ، وإن کان غیر ذٰلک قالوا: اللّٰھم لَا تمتھم حتّٰی تھدیھم کما ھدیتنا۔‘‘ (مجمع الزوائد ج:۳ ص:۵۴ باب عرض أعمال الأحیاء علی الأموات)۔

