بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع

اُمتی کے اعمال کا حضور کے سامنے پیش ہونا، یہ عقیدہ قرآن کے خلاف نہیں؟

سوال:۔

ایک مفتی صاحب داڑھی منڈانے والوں کو نصیحت کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: ’’داڑھی منڈانے والو! تمہارے اعمال روزانہ فرشتے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے ہیں، تو حضور علیہ السلام کو یہ حرکات دیکھ کر کتنا دُکھ ہوگا۔‘‘ اب آپ سے میں یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ فرشتے کب سے ہمارے اعمال نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کر رہے ہیں؟

سوال:۔

یہ عقیدہ رکھنا، سوچنا یا سمجھنا کہ ہمارے اعمال کسی زندہ یا مردہ جن و بشر پر پیش ہوتے ہیں، خالص قرآن کا انکار نہیں ہے تو اور کیا ہے؟

جواب:۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اُمت کے اعمال کا پیش کیا جانا ’’کنز العمال‘‘ (ج:۱۵ ص:۳۱۸) اور ’’حلیۃ الاولیاء‘‘ (ج:۶ ص:۱۷۹) کی حدیث میں آتا ہے، بلکہ احادیث میں عزیز و اقارب کے سامنے اعمال پیش کیا جانا بھی آتا ہے (مسندِ احمد ج:۳ ص:۱۶۵، مجمع الزوائد ج:۲ ص:۲۲۷، ۲۲۸)۔ یہ کب سے پیش کر رہے ہیں؟ اس کا ذکر نہیں آتا۔(۱)

جواب:۔

میں نے حدیث کا حوالہ اُوپر ذکر کردیا ہے، اور میں ایسے فہمِ قرآنی سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی تردید ہو۔

  1. (۱) حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
  2. ’’عن أنس رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان أعمال أُمّتی تعرض علیّ فی کل یوم الجمعۃ، واشتد غضب اللہ علی الزناۃ۔‘‘ (حلیۃ الأولیاء ج:۶ ص:۱۷۹، دار الکتب العلمیۃ بیروت)
  3. مسندِ احمد کے الفاظ یہ ہیں:
  4. ’’عن أنس بن مالک رضی اللہ عنہ یقول: قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: ان أعمالکم تعرض علٰی أقاربکم وعشائرکم من الأموات، فان کان خیرًا اِستبشروا بہ، وان کان غیر ذٰلک قالوا: اللّٰھم لَا تمتھم حتّٰی تھدیھم کما ھدیتنا۔‘‘ (ج:۳۶ ص:۱۶۵، بیروت، مجمع الزوائد ج:۳ ص:۵۴ باب عرض اعمال الأحیاء علی الأموات)۔