عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع
عقیدۂ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم
سوال:۔
مسئلہ حیات النبی کے سلسلے میں مولانا اللہ یار خاں کی کتاب ’’حیاتِ انبیاء‘‘ پڑھی اور اس کے بعد یہ مسئلہ صراحتاً شیخ القرآنؒ نے اپنی تفسیر ’’جواہر القرآن‘‘ میں بیان فرمایا ہے، لیکن مولانا اللہ یار خان نے حیات کی کیفیت رُوح کا جسمِ اطہر یعنی بدنِ عنصری کے ساتھ منوانے کے لئے دلائل دئیے ہیں، حالانکہ شیخ القرآنؒ نے جسمِ مثالی کو تسلیم کروایا ہے۔ براہِ کرم اس کی وضاحت فرمادیں اور بتائیں کہ یہ مسئلہ ایمانیات سے ہے؟
سوال:۔
محترم مکرم! اس سے پہلے بھی آپ کو خط لکھا تھا اور آپ نے اپنے قیمتی وقت میں سے وقت نکال کر جواب بھی عنایت فرمایا تھا۔ اُمید ہے کہ آپ اس دفعہ بھی جواب عنایت فرمائیں گے۔ محترم المقام! میرا سوال مسئلہ حیاۃ النبی پر ہے، یعنی اس میں کیا اختلاف ہے؟ اور سیدھا راستہ کون سا ہے؟ یعنی مسئلہ حیاۃ النبی اور صراطِ مستقیم۔
جواب:۔
میرا اور میرے اکابر کا عقیدہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے روضۂ مطہرہ میں حیاتِ جسمانی کے ساتھ حیات ہیں،(۱) یہ حیات برزخی ہے، مگر حیاتِ دُنیوی سے بھی قوی تر ہے۔(۲) جو حضرات اس مسئلے کے منکر ہیں، میں ان کو اہلِ حق میں سے نہیں سمجھتا، نہ وہ علمائے دیوبند کے مسلک پر ہیں۔
جواب:۔
میرا اور میرے اکابر کا عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے، اور اس مسئلے پر مبسوط کتابیں لکھی گئی ہیں۔(۳) کوئی تھوڑا سا میری کتاب ’’اِختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم‘‘ میں بھی اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ اکابرِ اُمت سے لے کر آج تک یہ مسئلہ متفق چلا آتا ہے، اب لوگ خواہ مخواہ اس میں گڑبڑ کرتے ہیں۔
- (۱) فأقول حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی قبرہ وھو وسائر الأنبیاء معلومۃ قطعًا ۔۔۔ فمن الأخبار الدالۃ فی ذٰلک ما أخرجہ مسلم عن أنس أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم لیلۃ أُسری بہٖ مَرّ بموسٰی علیہ السلام وھو یصلی فی قبرہ ۔۔۔ وعن أنس أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: الأنبیاء أحیاء فی قبورھم یصلُّون۔ (الحاوی للفتاویٰ، أنباء الأذکیاء بحیاۃ الأنبیاء ج:۲ ص:۱۴۷ طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، وأیضًا ’’آبِ حیات‘‘ اور ’’المہند علی المفند‘‘ ملاحظہ )۔
- (۲) والحق عندی عدم إختصاصھا بھم، بل حیاۃ الأنبیاء أقویٰ منھم وأشد ظھورًا۔ (تفسیر مظہری ج:۱ ص: ۱۵۲، سورۃ البقرۃ آیۃ:۱۵۴، وأیضًا فتاویٰ خلیلیۃ ج:۱ ص:۴۱۱)۔
- (۳) مثلاً: آبِ حیات: حضرت نانوتویؒ، المہند علی المفند: حضرت سہارنپوریؒ، تسکین الصدور: مولانا سرفراز خان صفدرؒ، حیات الانبیاء:بیہقی، حیاتِ انبیاء: مولانا عبدالشکور ترمذیؒ، حیاتِ انبیاء: علامہ سبکیؒ، رحمت کائنات: مولانا قاضی زاہد الحسینی،ؒ مقامِ حیات: مولانا ڈاکٹر خالد محمود۔

