بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع

قبر کی شرعی تعریف

سوال:۔

۱: قبر کی شرعی تعریف کیا ہے؟ اگر اس سے مراد شرعاً وہی زمینی گڑھا ہے تو اس کے قبرِ شرعی ہونے پر کیا دلائل ہیں؟

سوال:۔

۲: منکرینِ حیات کہتے ہیں کہ یہ گڑھا شرعی طور پر قبر نہیں ہے،ورنہ ان افراد کے بارے میں کیا کہا جائے گا جنہیں جلا دیا گیا یا غرق ہونے کے بعد سمندر کی مچھلیاں کھا گئیں؟

سوال:۔

۳: اگر قبر سے شرعی طور پریہی گڑھا مراد ہے تو ایک صالح کے لئے اس کی فراخی اور برے کے لئے اس کی تنگی ظاہری قبر کی طرح مشاہدے میں کیوں نہیں آتی؟ اُمید ہے کہ ایک طالبِ علم کی تسلی کے لئے مفصل اور باحوالہ تحریر فرمائیں گے۔

جواب:۔

قبرسے مراد یہی گڑھا ہے، جس میں میّت کو دفن کیا جاتا ہے۔ اسی میں ثواب و عذاب ہوتا ہے، اس کے دلائل بہت ہیں، چند ایک کی طرف اشارہ کرتا ہوں:

۱:۔ ’’إِنَّ رَسُوْلَ اللّهِ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِیْ قَبْرِہٖ وَتَوَلّٰی عَنْہُ أَصْحَابُہٗ إِنَّہٗ لَیَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِہِمْ أَتَاہُ مَلَکَانِ فَیُقْعِدَانِہٖ، الحدیث۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۸۳، ۱۸۴)

میّت کو اسی قبر میں رکھا جاتا ہے، اسی میں وہ لوٹنے والوں کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے، اسی میں اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، جو اسی قبر میں اسے بٹھاتے ہیں۔

۲:۔ ’’خَرَجَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَدْ وَجَبَتِ الشَّمْسُ فَسَمِعَ صَوْتًا، فَقَالَ: یَہُوْدٌ تُعَذَّبُ فِیْ قُبُوْرِہَا۔‘‘ (بخاری ج:۱ ص:۱۸۴)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی قبروں سے عذاب کی آواز سن کر فرمایا تھا کہ یہود کو ان کی قبروں میںعذاب دیا جارہا ہے۔

۳:۔ ’’مَرَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی قَبْرَیْنِ فَقَالَ: إِنَّہُمَا لَیُعَذَّبَانِ ۔۔۔ الخ۔‘‘ (بخاری ج:۱ ص:۱۸۴)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہی قبروں پر گزرے تھے اور انہی کے بارے میں فرمایا تھا کہ ان دونوں کو عذاب ہورہا ہے۔

۴:۔ ’’بَیْنَمَا النَّبِیُّ صَلَّی اللّهُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ حَائِطٍ لِّبَنِی النَّجَّارِ عَلٰی بَغْلَۃٍ لَّہٗ وَنَحْنُ مَعَہٗ إِذْ حَادَتْ بِہٖ فَکَادَتْ تُلْقِیْہِ وَإِذَا اَقْبُرَ سِتَّۃً أَوْ خَمْسَۃً أَوْ أَرْبَعَۃً۔۔۔۔۔ فَقَالَ: إِنَّ ہٰذِہِ الْأُمَّۃَ تُبْتَلٰی فِیْ قُبُوْرِہَا، فَلَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوْا لَدَعَوْتُ اللّه أَنْ یُّسْمِعَکُمْ مِّنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِیْ أَسْمَعُ مِنْہُ۔۔۔۔۔الخ۔‘‘ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۳۸۶)

اسی ظاہر قبر کے عذاب سے آپ کی سواری بدکی تھی، اور انہی قبروں میں ان لوگوں کو عذاب دیا جارہا تھا اور انہی قبروں کے بارے میں فرمایا تھا کہ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم مردوں کو دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ قبر کا جو عذاب میں سن رہا ہوں وہ تمہیں بھی سنا دیتا۔

۵:۔ ’’قُوْلِیْ: اَلسَّلَامُ عَلٰی أَہْلِ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ۔‘‘ (صحیح مسلم ج:۱ ص:۳۱۴)

’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا أَہْلَ الْقُبُوْرِ۔‘‘ (ترمذی ج:۱ ص:۱۲۵)

’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ۔‘‘ (ابوداوٗد ج:۳ ص:۱۰۵)

انہی قبور میں جانے والوں کو السلام علیکم کہنے کا حکم ہوا، اور انہی قبور کو ’’دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِيْنَ‘‘ فرمایا گیا۔

قبر کا عذاب و ثواب عالم غیب کی چیز ہے، اس لئے اس کو ہماری نظروں سے پوشیدہ رکھا گیا ، جس طرح خواب کے احوال بیداری والوں سے پوشیدہ رہتے ہیں۔ جن لوگوں کو دفن نہیں کیا جاتا، کیا بعید ہے کہ ان کے لئے فضا ہی کو قبر بنا دیا جائے؟ بہرحال عذابِ قبر کا انکار کرنا یا نصوص کے برخلاف ’’قبر‘‘ میں تأویلیں کرنا تقاضائے ایمان و انصاف کے خلاف ہے، واللہ اعلم!