عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع
قبرِ اقدس پر سماع کی حدود
سوال:۔
قبرِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پر کھڑے ہوکر درود شریف پڑھنا حضراتِ اکابرین دیوبند کا متفقہ عقیدہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود سماعت فرماتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ قبرِ اقدس پر سماع کی حدود کہاں تک ہیں؟
۱:۔ آیا حجرۂ عائشہؓ کی حدود؟
۲:۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کی مسجد کی حدود؟
۳:۔ دور عثمانی کی مسجد کی حدود جب کہ مسجد کی توسیع کرکے حجرۂ عائشہؓ کو مسجد میں شامل کیا گیا؟
۴:۔ موجودہ مسجد؟
۵:۔ آئندہ توسیع شدہ حدود مسجد؟
۶:۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کا شہر مدینہ؟
۷:۔ موجودہ شہر مدینہ؟
۸:۔ آئندہ کا شہر مدینہ؟
جواب:۔
کہیں تصریح تو یاد نہیں، اکابر سے سنا ہے کہ احاطۂ مسجد شریف میں جہاں سے بھی درود و سلام پڑھا جائے خود سماعت فرماتے ہیں، مسجد کی حدود جہاں تک وسیع ہوں گی وہاں تک سماعت کا حکم ہوگا، اور حجرۂ شریفہ کے قریب سے سلام عرض کرنا ٔقرب الی الأدب والمحبت

