عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع
حیاتِانبیاءفیالقبورکےمنکرینکاحکم
محترم مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
روزنامہ جنگ کراچی ۹؍جون ۱۹۹۵ء میں آپ نے لکھا تھا:
’’سلف صالحین سے بے اعتمادی:
س:۔ ایک فرقہ حیات الانبیاء فی القبور، سماعِ موتیٰ، اسی دنیاوی قبر میں حساب و کتاب، تعویذ گنڈہ، واسطے اور وسیلے کے قائلین کو کافر اور مشرک کہتا ہے، اور کہتا ہے کہ حیاتِ انبیاء اور حساب و کتاب یہ سب برزخی معاملے ہیں، برزخی قبر ہر اِنسان کو ملتی ہے، قبر سے مراد یہ گڑھا نہیں جس کے اندر انسان کو دُنیا میں دفن کردیا جاتا ہے۔ افسوس کہ یہ لوگ کافر اور مشرک کے فتویٰ کی ابتدا اِمام احمد بن حنبلؒ سے کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ان عقائد کی ابتداء ان سے ہوئی ہے، اس کے بعد اِمام ابنِ تیمیہؒ، اِبنِ قیمؒ سمیت تمام صالحین ان کے کفر و شرک کے فتوے کی زد میں آتے ہیں۔ خدارا! جواب عنایت فرمائیں کہ یہ فرقہ مسلمان ہے یا کافر؟
وجہ سوال یہ ہے کہ میرے ایک ماموں جان اسی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں، اب وہ کراچی ہی میں وفات پاکر وہیں مدفون ہوچکے ہیں، میرا ہر وقت انہیں ایصالِ ثواب اور ان کے لئے دُعائے مغفرت کرنے کو جی چاہتا ہے، مگر ان کے عقائد کی وجہ سے میں جھجکتا ہوں کہ خدانخواستہ یہ فرقہ مسلمان ہی نہ ہو؟
ج:۔ یہ فرقہ خارجیوں کے مشابہ ہے کہ تمام اکابرِ اہلِ سنت کو حتیٰ کہ اِمام احمد بن حنبلؒ کو بھی کافر و مشرک سمجھتا ہے، اور ان کے عقائد کا منشا سلف صالحین سے بے اعتمادی اور اپنے جہل پر غرور و پندار ہے۔ عقائد کی کتابوں میں بعض اکابر کا قول ہے کہ جو فرقہ تمام سلف صالحین کو گمراہ کہتا ہو، اس کو گمراہ قرار دیا جائے گا، اور جو ان سب کو کافر قرار دیتا ہو، اس کو کافر قرار دیا جائے گا۔ بہرحال ان کو کافر قرار دینے میں تو احتیاط کی جائے، مگر ان کی گمراہی میں شک نہیں۔ آپ اس طرح دُعا کیا کریں کہ اگر یہ مسلمان تھا تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائیں۔‘‘
اس جواب کی روشنی میں گویا جو فرقہ حیاتِ انبیاء فی القبور، سماعِ موتیٰ، دُنیاوی قبر میں حساب و کتاب، تعویذ گنڈہ اور واسطہ، وسیلہ کے قائلین کو مشرک کہے، وہ آپ کے نزدیک خارجیوں کے مشابہ ہے، اور اس کی گمراہی میں کوئی شک نہیں۔ اس سلسلے میں مجھے آپ سے چند سوالات کرنا ہیں، آنجناب سے گزارش ہے کہ قرآن و سنت اور مستند حوالوں سے جواب مرحمت فرمائیں، وہ سوالات یہ ہیں:
سماعِ موتیٰ قرآن کی نظر میں:
۱:۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو منع فرمایا کہ:
ﵟ وَمَآ أَنتَ بِمُسۡمِعٖ مَّن فِي ٱلۡقُبُورِ ﵞ (فاطر ٢٢)
ترجمہ:۔ ’’اے نبی آپ قبر میں پڑے ہوؤں (یعنی مردوں) کو نہیں سناسکتے۔‘‘
ایک اور آیت میں ہے:
ﵟ فَإِنَّكَ لَا تُسۡمِعُ ٱلۡمَوۡتَىٰ ﵞ (الروم ٥٢)
ترجمہ:۔ ’’(اے نبی) آپ مردوں کو نہیں سناسکتے۔‘‘
سورۂ نمل میں بھی اسی طرح کی ایک آیت ہے، جو سماعِ موتیٰ کی نفی کر رہی ہے۔ مذکورہ بالا آیات سماعِ موتیٰ کی نفی کر رہی ہیں، جبکہ آپ کے جواب (جو کہ جنگ میں شائع ہوا ہے) سے سماعِ موتیٰ کی تائید ہوتی ہے۔
برائے مہربانی ان آیات کا جو اصل مدعا ہے، یعنی ان آیات کا جو اصل مقصد ہے، اس سے آگاہ فرمائیں، تاکہ ان شکوک وشبہات کا اِزالہ ہوسکے جو میرے ذہن میں جنم لے رہے ہیں۔
سماعِ موتیٰ احادیث کی نظر میں:
غزوۂ بدر میں جو کفار مارے گئے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نعشوں کو ایک گڑھے میں ڈالا اور گڑھے کے کنارے کھڑے ہوکر فرمایا:
ﵟَهَلۡ وَجَدتُّم مَّا وَعَدَ رَبُّكُمۡ حَقّٗاۖ ﵞ
ترجمہ:۔ ’’تم سے تمہارے پروردگار نے جو وعدہ کیا، وہ تم نے حق پالیا؟‘‘
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مردوں کو پکارتے ہیں؟ آپ نے فرمایا:
’’مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ مِنْھُمْ، وَلٰـکِنْ لَا یُجِیْبُوْنَ!‘‘
ترجمہ:۔ ’’تم ان سے زیادہ نہیں سنتے، لیکن یہ جواب نہیں دے سکتے!‘‘
یہ واقعہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے پیش کیا گیا، تو ام المؤمنینؓ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ہرگز نہیں فرمائی تھی، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:
’’إِنَّھُمُ الْآنَ لَیَعْلَمُوْنَ أَنَّ مَا کُنْتُ أَقُوْلُ لَھُمْ حَقٌّ!‘‘ (بخاری ج:۲ ص:۵۶۷)
ترجمہ:۔ ’’انہوں نے اب تو وہ حق بات جان لی ہوگی جو میں ان سے کہتا تھا۔‘‘
اور آپ ایسی بات فرما بھی نہیں سکتے تھے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: إِنَّكَ لَا تُسۡمِعُ ٱلۡمَوۡتَىٰ۔‘‘ (یقینا آپ مردوں کو نہیں سناسکتے) (بخاری ج:۲ ص:۵۶۷)
مذکورہ بالا واقعہ بھی سماعِ موتیٰ کا انکار کر رہا ہے، آپ یہ ہم سے زیادہ جانتے ہوں گے کہ حضرت عائشہؓ کا علمیت میں کیا مقام تھا؟ ان سے بہتر مفسرہ، محدثہ، فقیہہ، خطیبہ سب سے بڑی مؤرخہ اور سب سے بڑی ماہرِ انساب شاید دُنیا میں اب تک کوئی پیدا نہیں ہوا، نہ مردوں میں، نہ عورتوں میں، انہوں نے ہی یہ فقہی اُصول پیش کیا تھا کہ جو روایت خلافِ قرآن ہو، وہ ہرگز قابلِ قبول نہ ہوگی، یا اس کی تأویل کی جائے گی یا اس کا ردّ کیا جائے گا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے یہ فرمایا کہ: سماعِ موتیٰ کے انکاری خارجی ہیں، جبکہ یہ تاریخ میں محفوظ ہے کہ حضرت عائشہؓ نے سب سے پہلے سماعِ موتیٰ کا انکار کیا۔
میری آپ سے گزارش ہے کہ ہمیں بھی اس پہلو سے آگاہ کریں جو کہ حضرت عائشہؓ کی نظروں سے اوجھل رہا۔
سماعِ موتیٰ امام ابوحنیفہؒ کی نظر میں:
امام ابوحنیفہؒ نے ایک شخص کو کچھ نیک لوگوں کی قبروں کے پاس آکر سلام کرکے یہ کہتے ہوئے سنا کہ: اے قبر والو! تم کو کچھ خبر بھی ہے اور کیا تم پر اس کا کچھ اثر بھی ہے کہ میں تمہارے پاس مہینوں سے آرہا ہوں اور تم سے میرا سوال صرف یہ ہے کہ میرے حق میں دُعا کرو، بتاؤ! تمہیں میرے حال کی کچھ خبر بھی ہے یا تم بالکل غافل ہو؟
امام ابوحنیفہؒ نے اس کا یہ قول سن کر اس سے دریافت کیا کہ: کیا قبر والوں نے کچھ جواب دیا؟ وہ بولا: نہیں دیا! امام ابوحنیفہؒ نے یہ سن کر کہا: تجھ پر پھٹکار! تیرے دونوں ہاتھ گرد آلود ہوجائیں، تو ایسے جسموں سے کلام کرتا ہے جو نہ جواب دے سکتے ہیں، اور نہ وہ کسی چیز کے مالک ہیں، اور نہ وہ آواز ہی سن سکتے ہیں۔ پھر ابوحنیفہؒ نے قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی:
ﵟ وَمَآ أَنتَ بِمُسۡمِعٖ مَّن فِي ٱلۡقُبُورِ ٢٢ ﵞ
ترجمہ:۔ ’’اے نبی! تم ان لوگوں کو جو قبروں میں ہیں، نہیں سناسکتے۔‘‘(غرائب فی تحقیق المذاہب وتفہیم المسائل ص:۱)
یہاں بھی وہی سوال ہے کہ امام ابوحنیفہؒ بھی سماعِ موتیٰ کے انکاری تھے، پھر بات کچھ سمجھ میں نہیں آتی کہ ابوحنیفہؒ کا یہ عمل کیسا تھا؟ ذرا وضاحت کے ساتھ سمجھادیں۔
واسطے اور وسیلے:
اب میرے سوالات مذکورہ عنوان کے تحت ہوں گے، امید ہے جواب مرحمت فرمائیں گے۔
واسطے اور وسیلے قرآن کی نظر میں:
سورۂ بقرہ آیت:۱۸۶ میں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں: ’’اور اے نبی! میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں تو انہیں بتادو کہ میں ان سے قریب ہی ہوں، بندہ جب مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی پکار سنتا ہوں، اور جواب دیتا ہوں، لہٰذا انہیں چاہئے کہ میرا ہی حکم مانیں اور مجھ پر ہی ایمان لائیں۔ یہ بات تم انہیں سنادو، شاید کہ وہ راہِ راست پالیں۔‘‘
سورۂ ق آیت:۱۴ میں ارشاد ہے:
’’ہم نے انسان کو بنایا ہے اور ہم جانتے ہیں جو باتیں اس کے جی میں آتی ہیں، اور ہم اس سے اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں۔‘‘
سورۂ اعراف آیت:۱۸۰ میں ارشاد ہے:
’’اور اللہ کے تمام نام اچھے ہیں، ان ہی کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔‘‘
درج بالا تمام آیات سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی واسطے اور وسیلے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن ہوسکتا ہے کہ ہماری سمجھ میں کوئی خرابی ہو، لہٰذا آپ محترم سے یہ مؤدّبانہ عرض ہے کہ مذکورہ بالا آیات (جو کہ واسطے اور وسیلوں کی نفی کر رہی ہیں) کا درست مفہوم کیا ہے؟
واسطے اور وسیلے احادیث کی روشنی میں:
ابوداؤد، نسائی، ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت انسؓ سے روایت کیا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا، ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا اس نے یہ دعا کی:
’’اے اللہ میں آپ سے اس وسیلے سے سوال کرتا ہوں کہ تمام حمد آپ ہی کے لئے ہے، آپ کے علاوہ کوئی اور عبادت کے لائق نہیں، آپ مہربان اور احسان کرنے والے ہیں، زمین و آسمان کے بنانے والے ہیں، اے جلال و اکرام والے، اے زندہ، اے بندوبست کرنے والے میں آپ سے سوال کرتا ہوں۔‘‘ (ترمذی ج:۲ ص:۲۱۶)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا:
’’اس نے اللہ کے اسمِ اعظم کے ذریعے دُعا کی ہے کہ جب بھی اس کے ذریعے دُعا کی جاتی ہے، قبول ہوتی ہے، اور جب بھی کوئی سوال کیا جاتا ہے، عطا کیا جاتا ہے۔‘‘
مذکورہ حدیث سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ اللہ کو کسی نبی، کسی پیر، کسی فقیر کے واسطہ اور وسیلے کی ضرورت نہیں، اور ایسی کوئی دُوسری حدیث بھی ہمیں نہیں ملی جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے ناموں کے علاوہ کسی دُوسرے واسطے یا وسیلے کا ذکر کیا ہو۔
لہٰذا آپ سے سوال ہے کہ ہم واسطے یا وسیلے کے قائل ہوں تو کیونکر؟ ذرا تفصیل سے جواب عنایت فرمادیں۔
واسطے اور وسیلے ابوحنیفہؒ کی نظر میں:
یہ بات کسی کو دُرست نہیں کہ دُعا مانگے اللہ سے کسی اور وسیلے سے، بلکہ چاہئے کہ اللہ ہی کے ناموں اور صفتوں کے ساتھ وسیلہ پکڑے اور یہ بھی نہ کہے کہ مانگتا ہوں تجھ سے بھی فلاں یا ساتھ فرشتوں یا نبیوں کے تیرے اور مثل اس کے(درمختار)۔
لیجئے! ابوحنیفہؒ کا فتویٰ بھی حاضر ہے، ہم واسطے اور وسیلے کے قائل ہوں تو کیونکر؟ مؤدّبانہ عرض ہے۔
تعویذ گنڈے:
محترم مولوی صاحب!
تعویذ گنڈوں کا ثبوت یا ذکر ہمیں قرآن میں نہیں ملتا، ہاں احادیث اس کا ردّ کرتی نظر آتی ہیں، مثلاً: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا کہ دم، تعویذ اور تولہ سب شرک ہیں (ابوداؤد، مشکوٰۃ ص:۳۸۹)۔
ہماری ناقص عقل تو یہ کہتی ہے کہ قرآن سراسر راہِ ہدایت ہے، اور یہ ہدایت ہم اس کو سمجھ کر ہی حاصل کرسکتے ہیں، نہ کہ تعویذ بناکر گلے میں ڈالنے سے یا گھول کر پینے سے۔ ویسے ہم ہدایت کے طالب ہیں، آپ نے جو اس کے نہ ماننے والوں کو خارجی کہا ہے، ضرور آپ کی نظر میں کوئی حدیث، کوئی واقعہ ہوگا۔ براہِ مہربانی! ہمیں بھی اس سے آگاہ فرمائیں، نوازش ہوگی۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے قرآن اور شہد دونوں کے بارے میں فرمایا کہ ان دونوں میں مؤمنین کے لئے شفا ہے، تو کیا جس طرح قرآن کو گلے میں لٹکاتے، بازو پر باندھتے ہیں، اسی طرح شہد کی بوتلوں کو گلے میں لٹکانے یا بازو پر باندھنے سے شفا مل سکتی ہے؟ جواب عنایت فرمائیں، عین نوازش ہوگی۔
دُنیاوی قبر میں حساب و کتاب:
محترم لدھیانوی صاحب!
مذکورہ بالا عنوان کے تحت میرا آپ سے یہ سوال ہے کہ دُنیاوی قبر میں جو حساب و کتاب کو نہ مانے وہ خارجی کیسے ہے؟ جبکہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ:
’’نطفے کی بوند سے ہم نے انسان کو پیدا کیا، پھر اس کی تقدیر مقرر کی، پھر اس کے لئے زندگی کی راہ آسان کی، پھر اسے موت دی اور قبر عطا فرمائی۔‘‘ (سورۂ عبس آیات ۱۸ تا ۲۱)
جبکہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو قبر (مٹی والی قبر) میسر نہیں آتی، کچھ کو جانور بھی کھاجاتے ہیں، کچھ پانی میں مرجاتے ہیں، کوئی ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے، کسی کو لوگ جلادیتے ہیں، غرض یہ کہ کثیر تعداد میں لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو دُنیاوی قبر میسر نہیں آتی، تو پھر قرآن کا یہ دعویٰ کہ ہم انسان کو قبر عطا کرتے ہیں، سے کیا مراد ہے؟
میری ناقص عقل یہ کہتی ہے کہ قرآن کا دعویٰ بالکل سچا ہے اور قرآن میں مذکورہ قبر سے مراد برزخی قبر ہے، جو ہر ایک کو ملنی ہے، اور مردے پر عذاب و راحت کا دور گزرتا ہے، قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: ’’آلِ فرعون کو صبح و شام دوزخ کی آگ پر پیش کیا جاتا ہے‘‘ (سورۂ مؤمنون:۴۵)۔
فرعون کی لاش آپ دیکھ لیں یورپ میں محفوظ ہے، لیکن قرآن یہ کہہ رہا ہے کہ اسے آگ پر پیش کیا جاتا ہے، اس سے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ عذاب کا یہ دور اس پر کہاں گزرتا ہے؟
فرعون کی لاش (بدن) کو بچانے کا ذکر خود اللہ تعالیٰ نے سورۂ یونس آیت:۹۰ - ۹۲ میں کیا ہے، تاکہ لوگوں کو عبرت ہو۔
حیات الانبیاء فی القبور:
محترم لدھیانوی صاحب! اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے کہ:
ﵟ ثُمَّ إِنَّكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ عِندَ رَبِّكُمۡ تَخۡتَصِمُونَ ٣١ ﵞ (الزمر ٣١)
ترجمہ:۔ ’’دُنیاوی زندگی کے بعد تمہیں ایک دن ضرور مرنا ہے، اور پھر روزِ قیامت ہی اُٹھایا جانا ہے۔‘‘
غور طلب بات یہ ہے کہ اس اُصول کے لئے کسی نبی، ولی، بزرگ کی تخصیص نہیں ہے، یہ اُصول عام ہے، اس میں کوئی مستثنیٰ نہیں ہے۔
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:
ﵟ إِنَّكَ مَيِّتٞ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ ٣٠ ﵞ (الزمر ٣٠)
ترجمہ:۔ ’’بے شک (اے نبی) تم بھی مرنے والے ہو اور ان لوگوں کو بھی موت آنی ہے۔‘‘
یہ آیات ہمیں یہ بتارہی ہیں کہ ہر ذی رُوح نے موت کا مزا چکھنا ہے، چاہے وہ انبیاء ہی کیوں نہ ہوں۔ موت کا ایک وقت مقرر ہے، اور اس مقرر وقت پر سب کو موت آئے گی یا آتی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان واضح آیات کی موجودگی میں یہ کہنا کہ انبیاء قبروں میں زندہ ہیں، تو قرآن کی یہ بات کن لوگوں کے لئے ہے؟ کیا عام لوگوں کے لئے؟ کیونکہ اگر حیات الانبیاء فی القبور کو درست مان لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ انبیاء کو موت آتی ہی نہیں، اور اگر آتی بھی ہے تو تھوڑی دیر کے لئے، قبر میں جاتے ہی وہ زندہ ہوجاتے ہیں۔
جبکہ قرآن یہ کہہ رہا ہے کہ ہر مرنے والا قیامت کے دن ہی اُٹھے گا۔
حیات الانبیاء فی القبور سے متعلق میں ایک واقعہ درج ذیل کر رہا ہوں جو کہ بخاری کی ایک طویل ترین حدیث ہے، اور واقعہ معراج سے متعلق ہے، اس کا آخری حصہ درج ذیل ہے:
’’نبی اکرم نے فرمایا ۔۔۔۔۔ جبرائیل نے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا: میں جبرائیل ہوں، اور یہ میرے ساتھی میکائیل ہیں۔ ذرا اپنا سر اُوپر تو اُٹھائیے۔ میں نے اپنا سر اُوپر اُٹھایا تو میں نے اپنے سر کے اُوپر ایک بادل سا دیکھا، ان دونوں نے کہا: یہ آپ کا مقام ہے! میں نے کہا کہ: مجھے چھوڑو کہ میں اپنے گھر میں داخل ہوجاؤں! ان دونوں نے کہا کہ: ابھی آپ کی عمر کا کچھ حصہ باقی ہے، جس کو آپ نے ابھی پورا نہیں کیا ہے، اگر آپ اس کو پورا کرلیں تو اپنے اس گھر میں آجائیں گے۔‘‘ (ترجمہ از عبارت ص:۱۸۵ بخاری جلد:۱ مطبوعہ دہلی)
مذکورہ بالا حدیث تو یہ ثابت کر رہی ہے کہ وفات کے بعد نبی مدینہ منورہ کی قبر میں زندہ نہیں، بلکہ اپنے اس گھر میں زندہ ہیں جو جبرائیلؑ نے انہیں معراج کے وقت دکھایا تھا۔
سعید بن مسیبؒ اور عروۃ بن الزبیرؒ اور بہت سے اہل علم بیان کرتے ہیں کہ:
’’حضرت عائشہؓ نے کہا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تندرستی کے زمانے میں فرمایا کرتے تھے کہ: کسی نبی کو کبھی وفات نہیں دی جاتی جب تک اسے جنت میں اس کا مقام دکھا نہیں دیا جاتا، مقام دکھادئیے جانے کے بعد اس کو انتخاب کا موقع دیا جاتا ہے، چاہے دُنیا میں رہے اور چاہے تو اللہ کی ملاقات کو ترجیح دے۔ پس جب آپ کا آخری وقت آیا اور اس حال میں کہ آپ کا سر مبارک میرے زانو پر تھا، آپ کو تھوڑی دیر کے لئے غش آگیا، عائشہؓ نے کہا: آخری کلمہ جس کے بعد آپ نے کوئی بات نہ کی یہ تھا: اللّٰھم رفیق الأعلٰی! یعنی آپ نے اللہ تعالیٰ کی رفاقت کو ترجیح دی۔‘‘ (بخاری ص:۹۳۹ جلد:۲ مطبوعہ دہلی)
بخاری کی یہ حدیث یہ ثابت کر رہی ہے کہ نبی نے اللہ کی ملاقات کو ترجیح دی، اور اس دُنیا سے چلے گئے۔ اب اگر ہم انہیں مدینے کی قبر میں زندہ مانیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نبی نے دُنیا والوں کو ترجیح دی اور ان سے تعلق باقی رکھا۔
براہ مہربانی! اس کی وضاحت کردیں کہ ان احادیث کا صحیح مفہوم کیا ہے؟ ہوسکتا ہے کہ ہمارے سمجھنے میں غلطی ہوئی ہو۔
بخاری کی ایک حدیث یہ بھی ہے کہ:
’’حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اس وقت ہوئی جب ابوبکرؓ مکہ سے قریب ایک مقام پر تھے، اس وقت حضرت عمرؓ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: خدا کی قسم! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات نہیں ہوئی، اور عمرؓ نے یہ بھی کہا کہ: اللہ تعالیٰ آپ کو پھر زندہ کرے گا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے (منافقوں کے جو خوشیاں منا رہے تھے) ہاتھ اور پیر ضرور کاٹ ڈالیں گے، پھر ابوبکرؓ آئے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے چادر ہٹائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کو بوسہ دیا اور کہا کہ: میرے ماں باپ آپ پر قربان! زندگی اور موت دونوں میں آپ پاکیزہ رہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اللہ آپ کو دو موتوں کا مزہ نہ چکھائے گا، پھر وہ باہر نکل گئے اور عمرؓ سے مخاطب ہوکر کہا: اے قسم کھانے والے! اتنی تیزی نہ کر۔
الزہریؒ کہتے ہیں کہ ابوسلمہ نے مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ بن عباسؓ نے کہا کہ: ابوبکرؓ باہر نکلے، عمرؓ لوگوں سے گفتگو کر رہے تھے، اب لوگوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف توجہ کی اور عمرؓ کو چھوڑ دیا، حمد و ثنا کے بعد ابوبکرؓ نے کہا: سن رکھو کہ تم میں سے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بندگی کرتا تھا، اسے معلوم ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے، اور جو اللہ کا پجاری تھا تو اللہ تعالیٰ زندہ ہے، اسے موت نہیں آئے گی، پھر قرآن کی یہ آیات تلاوت فرمائیں، جن کا ترجمہ درج ذیل ہے:
ترجمہ:۔ محمد اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر گئے ہیں، پس کیا اگر یہ مرجائیں یا شہید کردئیے جائیں تو تم اُلٹے پیروں پھرجاؤگے اور جو اُلٹے پیروں پھر جائے وہ اللہ تعالیٰ کو کچھ ضرر نہ پہنچاسکے گا، اللہ تعالیٰ اپنے شکر گزار بندوں کو جزا دے کر رہے گا۔‘‘ (ترجمہ ص:۵۱۷ جلد:۱، ص:۶۴۰ جلد:۲ بخاری)
صحابہ کرامؓ اپنے نبی سے بہت محبت کرتے تھے، اگر ان کو یہ معلوم ہوتا کہ نبی زندہ ہیں تو کبھی بھی ان کا خلیفہ منتخب نہ کرتے، نہ اپنے نبی کی تجہیز و تکفین کرتے، نہ ان کو قبر میں اُتارتے، بعد میں نہ تو کبھی اجتہاد کی ضرورت پیش آتی، نہ رجال کی چھان بین کی، نہ احادیث کی تحقیق میں محنت صرف کرنا پڑتی، جب بھی جس چیز کی ضرورت ہوتی، قبر پر پہنچ کر دریافت کرلیتے، ابوبکرؓ، ارتداد کے موقع پر وہاں سے رہنمائی لیتے، عمرؓ قحط کے وقت، عثمانؓ فتنہ کے وقت اور حضرت عائشہؓ اور حضرت علیؓ جنگ جمل اور صفین کے موقع پر۔
میری ناقص عقل کے مطابق قبر میں مردہ کے زندہ ہوجانے کا عقیدہ ہی تو قبرپرستی کی جڑ ہے، کیونکہ جب کسی قبر پرست کو یہ یقین دلایا جائے کہ قبر میں موجود شخص تیری آواز کو سن نہیں سکتا، تیری حاجت کو پورا نہیں کرسکتا، بلکہ اس کو تو خود یہ خبر نہیں کہ کب زندہ کرکے اُٹھایا جائے گا؟ تو قبرپرست، قبرپرستی سے تائب ہوجائے گا۔
محترم لدھیانوی صاحب! اس معاملے پر بھی ہماری راہنمائی کیجئے، نوازش ہوگی۔
خط انتہائی طویل ہوگیا ہے، کیا کریں عقائد کے مسائل تھے، جن پر ہماری دوزخ اور جنت کا دار و مدار ہے، کیونکہ جس شخص کے عقائد وہ نہ ہوں جو کہ قرآن و حدیث صحیح نے بیان کئے ہیں، تو وہ شخص لاکھ نیک اعمال کرتا رہے، مثلاً: نماز، روزہ، حج وغیرہ، لیکن یہ چیزیں اس کو کوئی نفع نہیں پہنچاسکتیں، کیونکہ سب سے پہلی چیز اِیمان ہے۔
محترم! خط طویل ہے جو کہ آپ کا بہت سا قیمتی وقت لے گا، لیکن میں پُرامید ہوں کہ آپ جواب ضرور عنایت فرمائیں گے۔
آپ کے روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں دئیے ہوئے جوابات سے جن شکوک و شبہات نے جنم لیا تھا، میں انہیں ہی معلوم کرنا چاہتا ہوں، اور میں انتہائی مشکور ہوں گا کہ آپ مجھے جوابات سے مطمئن فرمائیں۔ فقط
تحریم احمد صدیقی
مکان نمبر:۷ اے میر فضل ٹاؤن
نزد فضل مسجد والی گلی لطیف آباد نمبر:۹
۱۰؍دسمبر ۱۹۹۵ء
بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
محترم و مکرم جناب تحریم احمد صدیقی صاحب۔
سلام مسنون کے بعد گزارش ہے کہ جناب کا گرامی نامہ میرے ایک تحریر کردہ جواب کے سلسلے میں، جو ۹؍جون ۱۹۹۵ء کے اخبار جنگ میں شائع ہوا تھا، موصول ہوا۔ جس میں جناب نے سماعِ موتیٰ، حیات فی القبور، تعویذ گنڈے اور توسل وغیرہ مسائل کے بارے میں اپنے موقف کے دلائل پیش کرکے مجھے ان کا جواب لکھنے کے بارے میں فرمایا ہے۔
اس ناکارہ نے اس فرقے کو ’’خارجی فرقے کے مشابہ‘‘ کہا ہے، اس کی وجہ سائل کا یہ فقرہ ہے:
’’افسوس کہ یہ لوگ کافر و مشرک کے فتویٰ کی ابتداء اِمام احمد بن حنبلؒ سے کرتے ہیں، کہ ان عقائد کی ابتداء ان سے ہوئی ہے، اس کے بعد اِمام ابنِ تیمیہؒ، اِبنِ قیمؒ سمیت تمام صالحینؒ ان کے فتویٰ کی زد میں آتے ہیں۔۔۔۔۔‘‘
خارجی لوگ بھی اپنے نظریات کے لئے قرآن کے حوالے دیتے تھے، اور صحابہؓ و تابعینؒ، جو ان کے مزعومہ نظریات سے متفق نہیں تھے، ان کو کافر قرار دیتے تھے۔ اگر آپ حضرات بھی امام ابوحنیفہؒ، امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ سے لے کر امامِ ربانی مجدد الف ثانیؒ، شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ، مسند الہند شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ تک اور ان کے بعد کے تمام اکابر و اعاظم پر کافر و مشرک ہونے کا فتویٰ صادر فرماتے ہیں، تو بلاشبہ آپ خارجی فرقے کے مشابہ ہیں، اس صورت میں آپ کے دلائل پر غور کرنا اور آپ کے استدلال کی غلطی واضح کرنا بے سود ہے، کیونکہ حدیثِ نبوی کے مطابق: ’’لَا يَعْرِفُ مَعْرُوْفًا وَلَا يُنْكِرُ مُنْكَرًا إِلَّا مَا أُشْرِبَ مِنْ هَوَاهُ!‘‘ آپ کسی بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں گے، پس جب کوئی شخص اپنے نظریہ پر اتنا پکا ہو کہ اپنے سوا پوری اُمت کے اکابر و اعاظم کو کافر و مشرک اور بے ایمان سمجھتا ہو، اس سے کسی جزوی مسئلے پر گفتگو کرنا کارِ عبث ہے۔ البتہ چند نکات آنجناب کی خدمت میں پیش کرتا ہوں، ان کی وضاحت فرمادی جائے تو اِن شاء اللہ! آنجناب کے ذکر کردہ مسائل پر بھی معروضات پیش کرکے آنجناب سے دادِ انصاف طلب کروں گا۔ وضاحت طلب اُمور یہ ہیں:
۱:۔ کیا آپ حضرات ان اکابرِ اُمت کو جو ’’حیات الانبیاء فی القبور‘‘، سماعِ موتیٰ، اس قبر میں جس میں مردے کو دفن کیا جاتا ہے، حساب و کتاب یا سوال و جواب ہونے، تعویذ گنڈے کے جواز اور وسیلہ و توسل کے قائل ہیں، واقعۃً کافر و مشرک سمجھتے ہیں؟ اور شرعاً ان کے وہ احکام ہیں جو کافروں اور مشرکوں کے ہیں؟
۲:۔ آپ نے اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں تحریر فرمایا ہے:
’’ان سے بہتر مفسرہ، محدثہ، فقیہہ، خطیبہ، سب سے بڑی مؤرِّخہ، سب سے بڑی ماہرِ انساب شاید دُنیا میں اب تک کوئی پیدا نہیں ہوا، نہ مردوں میں، نہ عورتوں میں۔‘‘
اگر مذکورہ بالا پانچ مسائل میں سے کسی مسئلے کی وہ بھی قائل ہوں، تو کیا وہ بھی آپ حضرات کے نزدیک ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ کافرہ ومشرکہ ہوں گی؟
۳:۔ جو صحابہ کرامؓ ان مسائل میں آپ کے خلاف رائے رکھتے تھے، کیا وہ بھی کافر اور مشرک تھے؟
۴:۔ آپ نے اپنے خط میں حضرت اِمام ابوحنیفہؒ کا دو جگہ حوالہ دیا ہے، حالانکہ اِمام ابوحنیفہؒ حیات فی القبر کے قائل ہیں، اور انہوں نے اس مسئلے کو عقائد میں ذکر کیا ہے، سوال یہ ہے کہ اِمام ابوحنیفہؒ بھی اس عقیدے کی وجہ سے کافر و مشرک ہوئے یا نہیں؟
۵:۔ صحابہ کرامؓ کے زمانے سے لے کر آج تک جو حضرات ان پانچ مسائل کے قائل تھے، وہ تو آپ کی نظر میں کافر و مشرک تھے، اور جو کافر و مشرک کو مسلمان سمجھے، وہ بھی کافر ہوتا ہے! تو کیا چودہ صدیوں کی امت میں کوئی ایسا فرد ہے جو ان مسائلِ خمسہ کا قائل نہ ہو؟ یا ان مسائل کے قائلین کو مسلمان نہ سمجھتا ہو؟ اگر کچھ خوش قسمت افراد ایسے ہیں جو آپ حضرات کے معیار کے مطابق مسلمان ہوں تو ازراہ کرم! ہر صدی کے دس دس افراد کے نام لکھ دیجئے۔
۶:۔ کافر و مشرک کے قول کا بھی اعتبار نہیں، اور اس کی نقل و روایت بھی لائقِ اعتماد نہیں، تو:
الف:۔ قرآن کریم کا نقلِ متواتر سے منقول ہونا کیسے ثابت ہوگا؟ جبکہ ناقلینِ قرآن یا تو ان مسائلِ مختلف فیہ میں سے کسی نہ کسی مسئلے کے قائل ہیں، یا قائلین کو آپ کی طرح کافر و مشرک نہیں سمجھتے، اور اُوپر نمبر:۵ میں عرض کرچکا ہوں کہ کافر و مشرک کو کافر نہ سمجھنے والا بھی کافر ہے۔ گویا چودہ صدیوں کی ساری اُمت کافر و مشرک تھی، ان کافروں اور مشرکوں کی نقل کی ہوئی کتاب کس طرح لائقِ اعتماد ہوگی؟ اور اس سے استدلال کرنا کیسے جائز ہوگا؟
ب:۔ ٹھیک یہی سوال ’’صحیح بخاری‘‘ کے بارے میں ہوگا، اس میں بے شمار روایتیں آپ کے کافروں اور مشرکوں سے منقول ہیں، اور صحیح بخاری کی جو سند ہم تک پہنچتی ہے ان میں بھی بہت سے اکابر ایسے ہیں جو آپ کے ان مسائل کے کلاً یا بعضاً قائل ہیں، سوال یہ ہے کہ یہ صحیح بخاری جو کافروں اور مشرکوں کے ذریعے ہم تک پہنچی، وہ کس طرح لائقِ اعتبار ہوسکتی ہے؟ اور اس سے استدلال کیونکر جائز ہوسکتا ہے؟ بلکہ خود اِمام بخاریؒ بھی ان مسائل کے کلاً یا بعضاً قائل ہیں، وہ بھی آپ کے نزدیک کافر و مشرک ہوئے، پھر وہ اِمام احمد بن حنبلؒ کے شاگردِ رشید ہیں، اور صحیح بخاری میں ان سے روایتیں لاتے ہیں، جبکہ اِمام احمد بن حنبلؒ آپ کے نزدیک سرگروہِ مشرکین ہیں، پس ایسے شخص کی کتاب کا کیا اعتبار؟ جو خود بھی مشرک ہو، اور مشرکوں کا شاگرد بھی ہو!
ج:۔ حدیث کی تصحیح و تضعیف کا جن اکابر پر مدار ہے، وہ ان مسائلِ خمسہ کے یا تو خود قائل تھے، کلاً او بعضاً، یا کم سے کم ان مسائل کے قائلین کو کافر و مشرک نہیں کہتے تھے، اندریں صورت کسی حدیث کو صحیح یا ضعیف یا موضوع قرار دینے کی کیا صورت ہوگی؟
۷:۔ جو فرد یا فرقہ پوری امت کو کافر و مشرک تصور کرتا ہو، وہ مسلمان کیسے ہوگا؟ اور اسلام کے اُصول و فروع کس سے حاصل کرے گا؟
مجھے اُمید ہے کہ آپ ان سات سوالوں کو اچھی طرح سوچ کر، ان کے جوابات رقم فرمائیں گے، پھر آپ کے اُصولِ موضوعہ کی روشنی میں یہ ناکارہ آپ کے مسائل کے بارے میں تبادلہ خیال کرے گا، والسلام!

