بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع

منکرینِ حیات النبی کی اِقتداء؟

سوال:۔

ایک عالم یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حیاتِ برزخی حاصل ہے، بایں صورت کہ آپ علیہ السلام کا جسدِ مبارک اپنی قبر میں صحیح سالم پڑا ہے، لیکن یہ جسم میّت ہے، اس میں حیات نہیں ہے، صرف رُوح کو حیات حاصل ہے، اور رُوح کا کوئی تعلق جسدِ انور کے ساتھ نہیں ہے، جو شخص مذکورہ عقیدے کے خلاف عقیدہ رکھے وہ پکا کافر اور کراڑ(ہندو) ہے، اس بات کا اظہار وہ اپنی اکثر تقاریر میں کرتا ہے، اب سوال یہ ہے کہ:

سوال۱:۔

آیا ایسا عقیدہ رکھنے والے عالم کے ساتھ عقیدت رکھنا جائز ہے؟

سوال۲:۔

آیا اس عقیدے کے حامل اِمام کے پیچھے نماز ہوجاتی ہے؟

سوال۳:۔

ایسے عقیدے کے حامل کی تقاریر سننا شرعا جائز ہیں یا کہ موجبِ گناہ؟

سوال۴:۔

اس عقیدے کا اعلانیہ ردّ کرنا چاہئے یا کہ اس میں سکوت اختیار کرنا بہتر ہے؟

جواب:۔

میرا اور میرے اکابر کا عقیدہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم روضۂ اطہر میں حیاتِ جسمانی کے ساتھ حیات ہیں، اور یہ حیات برزخی ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم درود و سلام پیش کرنے والوں کے سلام کا جواب دیتے ہیں،(۱)ا ور وہ تمام اُمور جن کی تفصیل اللہ ہی کو معلوم ہے، بجا لاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات کو حیاتِ برزخیہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ حیات برزخ میں حاصل ہے، اور اس حیات کا تعلق رُوح اور جسد دونوں کے ساتھ ہے۔ جو شخص اس کے خلاف عقیدہ رکھتا ہے وہ میرے اکابرؒ کے نزدیک گمراہ ہے، اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا جائز نہیں، اس کی تقریر سننا جائز نہیں، اور اس کے ساتھ کسی قسم کا تعلق روا نہیں۔

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ما من أحد یسلّم علیَّ إلّا ردّ اللہ علیَّ رُوحی حتّٰی أردّ علیہ السلام۔ رواہ ابوداوٗد والبیھقی فی الدعوات الکبیر۔ (مشکٰوۃ ص:۸۶، باب الصلٰوۃ علی النبی، طبع قدیمی کتب خانہ)۔