عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع
عقیدۂ حیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اُمتِ مسلمہ
سوال۱:۔
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ برزخی کے متعلق امتِ مسلمہ و اکابرینِ دیوبند کا عقیدہ کیا ہے؟
سوال۲:۔
جو مقرر اپنی ہر تقریر میں حیات النبی کے انکار پر ضرور بولتا ہے، اور قائلینِ حیات کو برا کہتا ہے، کیا وہ اہلسنّت میں سے ہے؟
سوال۳:۔
کیا واقعی یہ دیوبندی مسلک کے ترجمان ہیں، جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے؟
سوال۴:۔
کیا عقیدۂ حیاۃ النبی قرآن و حدیث سے ثابت نہیں؟
سوال۵:۔
کیا سماعِ انبیاء اختلافی مسئلہ ہے؟
سوال:
۶۔ کیا فتاویٰ رشیدیہ جو کہ آپ لوگوں کے ہاتھوں میں ہے، اصلی ہے؟
سوال۷:۔
منکرینِ حیات اپنے معتقدین کو یہ کہتے ہیں کہ اب دیوبند میں بھی تخریب کار شامل ہوگئے ہیں، اس لئے وہاں بھی اصل عقیدہ کی مخالفت ہو رہی ہے، اور بریلوی ذہن کے لوگ وہاں شامل ہوگئے ہیں، کیا یہ تأثر ٹھیک ہے؟
سوال:
۸۔ مجمع الزوائد و مستدرک وغیرہ میں جو یہ حدیث آتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور روضۂ رسول پر حاضر ہوکر سلام کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا جواب دیں گے، ٹھیک ہے یا نہیں؟
جواب۱:۔
ہمارا اور ہمارے اکابر کا عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے، یہ حیات برزخی ہے، جو مشابہ ہے حیات دنیوی کے۔
جواب۲،۳:۔ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قائلین کو برا بھلا کہنے والا نہ اہل سنت والجماعت کا ترجمان ہے، نہ علمائے دیوبند کا!
جواب۴:۔
عقیدۂ حیات، قرآن کریم سے بدلالۃ النص اور حدیث سے صراحۃ النص سے ثابت ہے۔
جواب۵:۔
مجھے اس میں کسی کا اختلاف معلوم نہیں۔
جواب۶:۔
فتاویٰ رشیدیہ میں سماعِ موتیٰ کی بحث ہے، انبیائے کرام علیہم السلام کے بارے میں نہیں۔
جواب۷:۔
’’المہند علی المفند‘‘ تو بریلویوں کے مقابلہ میں ہی لکھی گئی ہے، جس پر ہمارے تمام اکابر کے دستخط ہیں، اس میں حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مسئلہ شرح و تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔
جواب۸:۔
یہ روایت صحیح ہے،(۱) اور صحیح مسلم کی روایت اس کی مؤید ہے،(۲) واللہ اعلم!
- (۱) عن عطاء مولٰی اُمّ حبیبۃ قال: سمعت أبا ھریرۃ یقول: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لیھبطن عیسَی ابن مریم حکمًا عدلًا وإمامًا مقسطًا ولیسلکن فجا حاجًّا أو معتمرًا ابنیتھما ولیأتین قبری حتّٰی یسلم علیَّ ولأردنّ علیہ، یقول أبوھریرۃ: أی بنی أخی إن رأیتموہ فقولوا: أبوھریرۃ یقرئک السلام۔ ھٰذا حدیث صحیح الْاسناد۔
- (مستدرک حاکم ج:۲ ص:۵۹۵ ھبوط عیسٰی علیہ السلام وقتل الدجال وإشاعۃ الْإسلام، طبع دار الفکر بیروت)۔
- (۲) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: والذی نفسی بیدہ! لیھلّنّ ابن مریم بفج الروحاء حاجًّا أو معتمرًا أو لیثنینّھما۔ رواہ مسلم۔ (التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص:۱۰۰)۔

