بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع

’’مجلس مقننہ اشاعۃ التوحید والسنۃ پاکستان کا فیصلہ:

سوال:۔

اشاعۃ التوحید کی مجلس مقننہ کا فیصلہ ارسالِ خدمت ہے، جواب طلب یہ بات ہے کہ کیا اس فیصلے کی زد میں اکابرینِ دیوبند رحمہم اللہ تعالیٰ نہیں آتے جن کا سماعِ انبیاء و حیاتِ انبیاء علیہم السلام کا عقیدہ ہے؟

فیصلے کی عبارت مندرجہ ذیل

’’مجلس مقننہ اشاعۃ التوحید والسنۃ پاکستان کا فیصلہ:

سماعِ موتیٰ، کا عقیدہ قرآن کریم کے خلاف ہے، قرآن میں سماعِ موتیٰ ثابت نہیں ہے، جو لوگ بِمَشِيَّةِ اللّٰهِ خَرْقًا لِلْعَادَةِ عِنْدَ الْقَبْرِ سماع کے قائل ہیں، وہ کافر نہیں ہیں، اور جو لوگ سماعِ موتیٰ ہر وقت دور و نزدیک کے قائل ہیں، وہ ہمارے نزدیک دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘

دستخطوں کا عکستصویر دیکھیں

کیا یہ فیصلہ شرعاً درست ہے؟ شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں جواب سے نوازیں۔ صوبیدار اکبر خان۔

جواب:۔

سماعِ موتیٰ کے بارے میں حضرت گنگوہیؒ نے فتاویٰ رشیدیہ میں جو کچھ تحریر فرمایا ہے، وہ صحیح ہے، اور آپ کے مرسلہ پرچے میں جو کچھ لکھا ہے، وہ غلط ہے۔ حضرت گنگوہیؒ کے الفاظ یہ ہیں:

’’یہ مسئلہ عہدِ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مختلف فیہا ہے، اس کا کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا۔‘‘

(فتاویٰ رشیدیہ ص:۸۷، مطبوعہ قرآن محل کراچی)

جب یہ مسئلہ صحابہ و تابعین اور سلف صالحین ۔۔۔رضی اللہ عنہم۔۔۔ کے زمانے سے مختلف فیہا چلا آرہا ہے، تو ان میں سے کسی ایک فریق کو کافر قرار دینے والا گمراہ اور خارجی کہلانے کا مستحق ہوگا، واللہ اعلم!