بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع

رُوح کا لوٹایا جانا

سوال:۔

ہمارا عقیدہ ہے کہ حضور علیہ السلام اپنی قبر شریف میں حیات ہیں، پھر اس حدیث شریف کے کیا معنی ہوئے کہ: ’’جب کوئی میری قبر پر درود و سلام پڑھتا ہے تو میری رُوح مجھ پر لوٹادی جاتی ہے اور میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔‘‘ سوال یہ ہے کہ جو پہلے سے زندہ ہے، اس پر رُوح لوٹانا کیا معنی؟ دُوسرے یہ کہ آپ کے دربار میں ہر وقت سلام کا نذرانہ پیش ہوتا رہتا ہے تو اس طرح بار بار رُوح کا دخول و خروج تو ایک طرح کا عذاب ہوگیا (نعوذ باللہ) کیا یہ حدیث صحیح بھی ہے؟

جواب:۔

حافظ سیوطیؒ نے اس موضوع پر رسالہ لکھا ہے، اس میں انہوں نے آپ کے سوال کے گیارہ جواب دئیے ہیں، لیکن اس ناکارہ کے دِل کو ایک بھی نہیں لگا، یا صحیح الفاظ میں ایک بھی سمجھ میں نہیں آیا۔ اس رَدِّ رُوح کی حقیقت تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، ہمارے فہم و ادراک سے بالاتر چیز ہے، لیکن یہ ناکارہ یہ سمجھتا ہے کہ دُنیا میں تو ایک طرف آدمی متوجہ ہوتا ہے تو دُوسری طرف توجہ نہیں رہتی، لیکن برزخ میں باوجود اس کے کہ روحِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم مستغرق بہ جمالِ الٰہی ہے، لیکن وہاں۔۔۔ واللہ اعلم۔۔۔ ایک طرف توجہ دُوسری طرف توجہ سے مانع نہیں۔ لاکھوں بلکہ کروڑوں اُمتی بہ یک وقت سلام پیش کرتے ہیں، مگر روحِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم ہر ایک کی طرف پوری طرح متوجہ ہے، پس ’’ردّ اللّهُ علیَّ رُوْحِیْ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر سلام کرنے والے کی طرف رُوح پاک کو متوجہ فرما دیتے ہیں، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيْقَةِ الْحَالِ!