بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عقیدۂ حیات النبی پر اِجماع

مسئلہ حیات النبیﷺ

سوال:۔

گزارش ہے کہ چند روز قبل مجھے بھینس کالونی کمرشل ایریا کی گول مسجد میں درسِ قرآن سننے کا اتفاق ہوا، اپنے درس کے دوران مسجد کے پیش امام صاحب نے عذابِ قبر پر درس دیتے ہوئے فرمایا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر میں بقیدِ حیات ہیں۔ اور دلائل دیتے ہوئے فرمایا کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص میرے روضۂ اقدس پر حاضری دے گا تو میں قیامت کے دن اس کے لئے شفاعت کروں گا۔ (مولانا موصوف کا تعلق دیوبند مسلک سے ہے)۔ جبکہ میں نے خود شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان صاحب سے سنا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاچکے ہیں اور اس پر حضرت صاحب نے ایک کتاب ’’وفات النبی‘‘ بھی لکھی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دُنیا کا کوئی علم نہیں ہے۔

جناب والا سے قرآن و حدیث کی روشنی میں تفصیل معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ:

۱:۔ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر میں زندہ ہیں؟

۲:۔ کیا دنیاوی معاملات کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہے؟

۳:۔ کیا رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ مبارک پر حاضری دینا ضروری ہے؟ جبکہ حج کے تمام ارکان مکہ مکرمہ میں تکمیل کو پہنچتے ہیں۔

جواب:۔

آپ کے سوال میں چند مسائل قابلِ تحقیق ہیں:

پہلا مسئلہ:۔ مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم، اس ضمن میں چند اُمور کا سمجھ لینا ضروری ہیـ:

اوّل:۔ یہ کہ محلِ نزاع کیا ہے؟ یہ بات تو ہر عامی سے عامی بھی جانتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دُنیا سے رحلت فرماگئے ہیں، اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے روضۂ مطہرہ و مقدسہ میں مدفون ہیں، اس لئے حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے کسی کے ذہن میں یہ بات نہیں ہوتی (اور نہ ہونی چاہئے) کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دُنیوی حیات زیرِ بحث ہے۔ نہیں! بلکہ گفتگو اس میں ہے کہ دُنیا سے رخصت ہونے کے بعد برزخ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو حیات حاصل ہے، اس کا تعلق جسدِ اطہر سے بھی ہے یا نہیں؟ اس تنقیح سے معلوم ہوگا کہ یہاں تین چیزیں ہیں:

۱:۔ دُنیا کی حیات کا نہ ہونا۔

۲:۔ برزخ کی حیات کا حاصل ہونا۔

۳:۔ اور اس برزخی حیات کا جسدِ اطہر سے تعلق ہونا یا نہ ہونا۔

پہلے دو نکتوں میں کسی کا اختلاف نہیں۔ اختلاف صرف تیسرے نکتے میں ہے۔ ہمارے اکابر جسدِ اطہر کو ایک خاص نوع کی حیات کے ساتھ متصف مانتے ہیں۔

دوم:۔ اہل حق کا عقیدہ یہ ہے کہ قبر کا عذاب و ثواب برحق ہے، چنانچہ شرح عقائد نسفی میں ہے:

''وَعَذَابُ الْقَبْرِ لِلْكَافِرِيْنَ وَلِبَعْضِ عُصَاةِ الْمُؤْمِنِيْنَ، وَتَنْعِيْمُ أَهْلِ الطَّاعَةِ فِي الْقَبْرِ... وَسُؤَالُ مُنْكَرٍ وَنَكِيْرٍ ثَابِتٌ بِالدَّلَائِلِ السَّمْعِيَّةِ۔''

(شرح عقائد ص:۹۸)

ترجمہ:۔ ''کافروں اور بعض گناہگار اہلِ ایمان کو قبر میں عذاب ہونا اور قبر میں اہلِ اطاعت کو نعمت وثواب کا ملنا اور منکر و نکیر کا سوال کرنا، یہ تمام امور برحق ہیں، دلائلِ سمعیہ سے ثابت ہیں۔''

عقیدہ طحاویہ میں ہے:

''وَنُؤْمِنُ بِعَذَابِ الْقَبْرِ وَنَعِيْمِهِ لِمَنْ كَانَ لِذٰلِكَ أَهْلًا، وَبِسُؤَالِ مُنْكَرٍ وَنَكِيْرٍ لِلْمَيِّتِ فِي قَبْرِهِ عَنْ رَبِّهِ وَدِيْنِهِ وَنَبِيِّهِ، عَلٰی مَا جَاءَتْ بِهِ الْآثَارُ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ أَصْحَابِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِيْنَ، وَالْقَبْرُ رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، أَوْ حُفْرَةٌ مِنْ حُفَرِ النِّيْرَانِ۔''

(عقیدہ طحاویۃ، ص:۱۰، مطبوعہ دار الْإشاعت کراچی)

ترجمہ:۔ ''اور ہم ایمان رکھتے ہیں کہ قبر میں عذاب یا ثواب اس شخص کو ہوگا جو اس کا مستحق ہو، اور منکر ونکیر قبر میں میت سے سوال کرتے ہیں، اس کے رب، اس کے دین اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں، جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اس پر احادیث وارد ہیں، اور قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے۔''

حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے رسالہ ''فقہ اکبر'' میں ہے:

''وَسُؤَالُ مُنْكَرٍ وَنَكِيْرٍ فِي الْقَبْرِ حَقٌّ، وَإِعَادَةُ الرُّوْحِ إِلَی الْعَبْدِ، وَضَغْطَةُ الْقَبْرِ وَعَذَابُهُ حَقٌّ، كَائِنٌ لِلْكُفَّارِ كُلِّهِمْ أَجْمَعِيْنَ، وَلِبَعْضِ الْمُسْلِمِيْنَ۔''

(شرح فقہ اکبر ص:۱۲۱ وما بعد، مطبوعہ مجتبائی ۱۳۴۸ھـ)

ترجمہ:۔ ''اور قبر میں منکر و نکیر کا سوال کرنا برحق ہے، اور قبر میں رُوح کا لوٹایا جانا اور میت کو قبر میں بھینچنا اور تمام کافروں کو اور بعض مسلمانوں کو قبر میں عذاب ہونا برحق ہے، ضرور ہوگا!''

قبر کے عذاب پر قرآن کریم کی آیات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیثِ متواترہ وارد ہیں، اور سلف صالحین، صحابہ و تابعین رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اس پر اجماع ہے، چنانچہ شرح عقائد میں چند آیات و احادیث کا حوالہ دینے کے بعد لکھا ہے:

''وَبِالْجُمْلَةِ الْأَحَادِيْثُ فِي هٰذَا الْمَعْنٰی وَفِي كَثِيْرٍ مِنْ أَحْوَالِ الْآخِرَةِ مُتَوَاتِرَةٌ الْمَعْنٰی، وَإِنْ لَمْ يَبْلُغْ آحَادُهَا حَدَّ التَّوَاتُرِ۔''

(شرح عقائد ص:۱۰۰، مطبوعہ مکتبہ خیر کثیر، کراچی)

ترجمہ:۔ ''حاصل یہ کہ عذاب و ثوابِ قبر اور بہت سے احوالِ آخرت میں احادیث متواتر ہیں، اگرچہ فرداً فرداً آحاد ہیں۔''

شرح عقائد کی شرح ''نبراس'' میں ہے:

''ثُمَّ قَدْ رُوِيَ أَحَادِيْثُ عَذَابِ الْقَبْرِ وَسُؤَالِهِ عَنْ جَمْعٍ عَظِيْمٍ مِنَ الصَّحَابَةِ، فَمِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، وَالْبَرَاءُ، وَتَمِيْمُ الدَّارِيُّ، وَثَوْبَانُ، وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللّٰهِ، وَحُذَيْفَةُ، وَعُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، وَعَبْدُ اللّٰهِ بْنُ رَوَاحَةَ، وَعَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عَبَّاسٍ، وَعَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عُمَرَ، وَعَبْدُ اللّٰهِ بْنُ مَسْعُوْدٍ، وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأَبُو أُمَامَةَ، وَأَبُو الدَّرْدَاءِ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، وَعَائِشَةُ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ، ثُمَّ رَوَاهُ عَنْهُمْ أَقْوَامٌ لَا يُحْصٰی عَدَدُهُمْ۔''

(نبراس ص: ۲۰۸، مطبوعہ مکتبہ امدادیہ، ملتان)

ترجمہ:۔ ''قبر کے عذاب و ثواب اور سوال کی احادیث صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک بڑی جماعت سے مروی ہیں، جن میں مندرجہ ذیل حضرات بھی شامل ہیں:

حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت انس، حضرت براء، حضرت تمیم داری، حضرت ثوبان، حضرت جابر، حضرت حذیفہ، حضرت عبادہ، حضرت عبداللہ بن رواحہ، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عمرو بن عاص، حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابو امامہ، حضرت ابوالدرداء، حضرت ابوہریرہ، حضرت عائشہ، رضی اللہ عنہم، پھر ان سے اتنی قوموں نے روایت کی ہے، جن کی تعداد کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔''

امام بخاری رحمہ اللہ نے عذابِ قبر کے باب میں قرآن کریم کی تین آیات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی چھ احادیث ذکر کی ہیں، جو مندرجہ ذیل پانچ صحابہؓ سے مروی ہیں: حضرت براء بن عازب، حضرت عمر، حضرت عائشہ، حضرت اسماء اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہم۔ (دیکھئے صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۸۳)

اس کے ذیل میں حافظ الدنیا ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

''وَقَدْ جَاءَ فِيْ عَذَابِ الْقَبْرِ غَيْرُ هٰذِهِ الْأَحَادِيْثِ: مِنْهَا عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِيْ أَيُّوْبَ، وَسَعْدٍ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَأُمِّ خَالِدٍ فِي الصَّحِيْحَيْنِ أَوْ أَحَدِهِمَا، وَعَنْ جَابِرٍ عِنْدَ ابْنِ مَاجَةَ، وَأَبِيْ سَعِيْدٍ عِنْدَ ابْنِ مَرْدُوْيَهْ، وَعُمَرَ، وَعَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ حَسَنَةَ، وَعَبْدِاللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو عِنْدَ أَبِيْ دَاوُدَ، وَابْنِ مَسْعُوْدٍ عِنْدَ الطَّحَاوِيْ، وَأَبِيْ بَكْرَةَ وَأَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيْدَ عِنْدَ النَّسَائِيْ، وَأُمِّ مُبَشِّرٍ عِنْدَ ابْنِ أَبِيْ شَيْبَةَ، وَعَنْ غَيْرِهِمْ۔''

(فتح الباری ج:۳ ص:۲۴۰، دارالنشر الکتب الْإسلامیہ، لاہور)

ترجمہ:۔ ''اور عذابِ قبر میں ان مذکورہ بالا احادیث کے علاوہ اور احادیث بھی وارد ہیں، چنانچہ ان میں سے حضرت ابوہریرہ، ابن عباس، ابو ایوب، سعد، زید بن ارقم اور ام خالد ۔۔۔رضوان اللہ علیہم اجمعین۔۔۔ کی احادیث تو صحیحین میں یا ان میں سے ایک میں موجود ہیں۔

اور حضرت جابرؓ کی حدیث ابن ماجہ میں ہے، حضرت ابوسعیدؓ کی حدیث ابن مردویہ نے روایت کی ہے، اور حضرت عمرؓ، عبدالرحمن بن حسنہؓ اور عبداللہ بن عمروؓ کی ابوداؤد میں ہیں، حضرت ابن مسعودؓ کی حدیث طحاوی میں ہے، حضرت ابوبکرہؓ اور اسماء بنت یزیدؓ کی احادیث نسائی میں ہیں، اور حضرت ام بشرؓ کی حدیث مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے، اور ان کے علاوہ دُوسرے صحابہؓ سے بھی احادیث مروی ہیں۔''

اور مجمع الزوائد (ج:۳ ص:۵۷، مطبوعہ دارالکتاب بیروت) میں یعلیٰ بن سیابہؓ کی روایت بھی نقل کی ہے۔

یہ قریباً تیس صحابہ کرامؓ کے اسمائے گرامی کی فہرست ہے، جو میں نے عجلت میں مرتب کی ہے، اور جن سے عذابِ قبر کی احادیث مروی ہیں، اس لئے قبر کے عذاب و ثواب کے متواتر ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔

سوم:۔ جب یہ ثابت ہوا کہ قبر کا عذاب و ثواب برحق ہے، اور یہ اہلِ حق کا اجماعی عقیدہ ہے تو اب اس سوال پر غور کرنا باقی رہا کہ قبر کا یہ عذاب و ثواب صرف رُوح سے متعلق ہے یا میّت کے جسمِ عنصری کی بھی اس میں مشارکت ہے؟ اور یہ کہ اس عذاب و ثواب کا محل آیا یہی حسی گڑھا ہے جس کو عرفِ عام میں ''قبر'' سے موسوم کیا جاتا ہے یا برزخ میں کوئی جگہ ہے جہاں میّت کو عذاب و ثواب ہوتا ہے، اور اسی کو عذابِ قبر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے؟

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے تتبع سے بالبداہت معلوم ہوتا ہے کہ قبر کا عذاب و ثواب صرف رُوح کو نہیں ہوتا بلکہ میّت کا جسم بھی اس میں شریک ہے، اور یہ کہ عذاب وثواب کا محل یہی حسی قبر ہے جس میں مردہ کو دفن کیا جاتا ہے، مگر چونکہ یہ عذاب و ثواب دُوسرے عالم کی چیز ہے، اس لئے میّت پر جو حالات قبر میں گزرتے ہیں، زندوں کو ان کا ادراک و شعور عموماً نہیں ہوتا (عموماً اس لئے کہا کہ بعض اوقات بعض اُمور کا انکشاف بھی ہوجاتا ہے) جس طرح نزع کے وقت مرنے والا فرشتوں کو دیکھتا ہے اور دُوسرے عالم کا مشاہدہ کرتا ہے، مگر پاس بیٹھنے والوں کو ان معاملات کا ادراک و شعور نہیں ہوتا جو نزع کی حالت میں مرنے والے پر گزرتے ہیں۔

ہمارے اس دعویٰ پر کہ عذاب و ثواب اسی حسی قبر میں ہوتا ہے اور یہ کہ میّت کا بدن بھی عذاب و ثواب سے متأثر ہوتا ہے، احادیثِ نبویہ سے بہت سے شواہد پیش کئے جاسکتے ہیں، مگر چونکہ ان شواہد کا استیعاب نہ تو ممکن ہے اور نہ ضروری ہے، اس لئے چند عنوانات کے تحت ان شواہد کا نمونہ پیش کرتا ہوں: