انبیائے کرام علیہم السلام
انبیائے کرام علیہم السلام اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے ناموں کے ساتھ کیا لکھا جائے؟
سوال:۔
آٹھویں جماعت کی انگریزی کی کتاب (انگلش میڈیم) میں ایک سبق ہے: ’’حضرت علی‘‘ اور بریکٹ میں "Peace Be Upon Him" لکھا ہوا ہے، جو ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کا انگلش ترجمہ ہے۔ اسی طرح فارسی کی ہشتم جماعت کی کتاب میں حضرت علیؓ اور حضرت امام حسینؓ کے ساتھ ’’علیہ السلام‘‘ لکھا ہوا ہے۔ کیا پیغمبروں کے علاوہ صحابہ کبارؓ کے ساتھ یہ الفاظ استعمال کئے جاسکتے ہیں؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو آپ اپنے مؤقر جریدے کی وساطت سے اسے نصاب کمیٹی اور اعلیٰ حکام و عمال حکومت کے نوٹس میں لائیں۔
جواب:۔
اہلِ سنت والجماعت کے یہاں ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘، اور ’’علیہ السلام‘‘ انبیائے کرام کے لئے لکھا جاتا ہے،(۱) صحابہ کے لئے ’’رضی اللہ عنہ‘‘ لکھنا چاہئے،(۲) اور حضرت علی کے نام نامی پر ’’کرّم اللہ وجہہ‘‘ بھی لکھتے ہیں،(۳) متعلقہ حضرات کو آپ کی اس تنبیہ پر شکریہ کے ساتھ غور کرنا چاہئے۔
- (۱) قال الجمھور من العلماء: لَا یجوز افراد غیر الأنبیاء بالصلاۃ، لأن ھٰذا قد صار شعارًا للأنبیاء۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۵ ص:۲۲۸، طبع رشیدیہ)۔ أیضًا: وأما السلام ۔۔۔ ولَا یفرد بہ غیر الأنبیاء فلا یقال ’’علیٌّ علیہ السلام‘‘۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۵ ص:۲۲۸، طبع رشیدیہ)۔
- (۲) ویستحب الترضی للصحابۃ۔ (فتاویٰ شامی ج:۶ ص:۷۵۴)۔
- (۳) بعض علماء سے سنا ہے کہ خوارج نے آپؓ کے نام مبارک کے بعد ’’سوَّد اللہ وجھہ‘‘ بڑھایا تھا، اس کے جواب کے لئے ’’کرَّم اللہ وجھہ‘‘ عادت ٹھہرالی گئی۔ (امداد الفتاویٰ ج:۴ ص: ۳۷۴)۔

