بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

انبیائے کرام علیہم السلام

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسمِ مبارک آنے پر صرف ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کہنا

سوال:۔

ہمارے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جب نامِ نامی اسمِ گرامی آتا ہے تو اکثر مولانا حضرات اور عام مسلمان صرف ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کہتے ہیں اور دُرود شریف میں بھی مختصراً یہ کہا جاتا ہے۔ عرض فرمائیں کہ آیا ہم تمام مسلمانوں کو اپنے پیارے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نامِ نامی اسمِ گرامی مختصراً لینا چاہئے یا ادباً مکمل اور واضح الفاظ میں ادا کرنے کا حکم ہے؟ اور ان الفاظ ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کے معنی بیان فرمائیں۔ نیز ہمارا یہ فعل نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دِل آزاری کا باعث تو نہیں؟

جواب:۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسمِ گرامی پورا لینا چاہئے اور اس کے ساتھ دُرود شریف بھی لازماً ذکر کرنا چاہئے۔ مجلس میں پہلی بار اسمِ گرامی آئے تو تمام سننے والوں پر بھی دُرود شریف واجب ہے(۱) (صلی اللہ علیہ وسلم)، اور مجلس میں بار بار اسمِ مبارک آئے تو ہر بار دُرود شریف پڑھنا واجب نہیں ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمِ گرامی کے معنی ہیں: ’’بہت بہت تعریف کیا گیا‘‘۔ اور ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کے معنی ہیں: ’’آپ پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمتیں اور سلام نازل فرمائیں‘‘۔

  1. (۱) ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ صَلُّواْ عَلَيۡهِ ﵞ٠٠٠ والآیۃ تدل علٰی وجوب الصلٰوۃ والسلام فی الجملۃ ولو فی العمر مرۃً، وبہ قال أبو حنیفۃ ومالک رحمھما اللہ واختارہ الطحاوی ۔۔۔ وقیل یجب الصلٰوۃ کلما جری ذکرہٗ صلی اللہ علیہ وسلم وبہ قال الکرخی ۔۔۔ الخ۔ (تفسیر مظہری ج:۷ ص:۴۱۰، ۴۱۱)۔