انبیائے کرام علیہم السلام
خطوط میں بسم اللہ نہ لکھنا بہتر ہے اور لفظ ’’محمد‘‘ کو مخفف کرنا جائز نہیں
سوال:۔
آج کل سرکاری خط اور تمام کاغذوں پر بسم اللہ پوری لکھی ہوتی ہے، یہاں تک کہ اُن کاغذوں پر بھی لکھی ہوتی ہے جن پر خط لکھنے سے پہلے مضمون یا خط لکھ کر ماتحت اپنے بڑے سے دریافت کرتا ہے، اس کو ڈرافٹ کا کاغذ کہتے ہیں، خط یا مضمون لکھنے کے بعد پہلے کاغذ کو ہاتھ سے مسل کر ردّی کی ٹوکری میں ڈال دیا جاتا ہے، اس طرح وہ لفظ ’’بسم اللہ‘‘ بھی ردّی کی ٹوکری میں چلا جاتا ہے، پھر بھنگی لے جاتا ہے، اس طرح لفظ بسم اللہ کا احترام ختم ہوجاتا ہے۔ کیا اس پر کوئی گناہ نہیں ہے، اگر یہ گناہ ہے تو اس کا کیا علاج ہے؟
عام طور پر انگریزی میں لفظ محمد کو "Mohammad" لکھنے کے بجائے "Mohd" لکھتے ہیں، اور یہ کہتے ہیں کہ: ہم نے ’’محمد‘‘ کو شارٹ لکھ دیا ہے۔ اس سے لفظ ’’محمد‘‘ کو بگاڑ کر لکھنے کا گناہ تو نہیں ہوگا؟
جواب:۔
خطوط پر بسم اللہ شریف لکھنے کا رواج نہیں، کیونکہ خطوط کی عام طور سے حفاظت نہیں کی جاتی، اور اس سے بسم اللہ شریف کی بے حرمتی ہوتی ہے۔ سرکاری خطوط میں اگر بسم اللہ شریف لکھی جاتی ہے تو یا تو ان خطوط کو ردّی کی ٹوکری کی نذر اور بھنگی کے حوالے نہیں کرنا چاہئے، یا حکومت کو بسم اللہ شریف کا رواج بند کردینا چاہئے۔
لفظ ’’محمد‘‘ کو انگریزی میں مخفف لکھنے کا رواج غالباً انگریزوں نے نکالا ہے، اور اہلِ اسلام اس کی سنگینی کو نہیں سمجھ سکے۔ اوّل تو کسی لفظ کو مخفف کرنا اس کی اہمیت کے کم ہونے کی علامت ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نامِ نامی کی اہمیت انگریزوں کے نزدیک خواہ کتنی ہی کم ہو، ایک مسلمان کی نظر میں اللہ تعالیٰ کے نامِ مبارک کے بعد تمام ذخیرۂ الفاظ میں سب سے اہم لفظ ’’محمد‘‘ ہے۔ اس لئے اس کو مخفف کرکے لکھنا ایک مسلمان کے لئے کسی طرح بھی رَوا نہیں ہوسکتا۔
ثانیاً:۔ طویل طویل تحریروں میں تخفیف کا نزلہ صرف اس ایک لفظ پر کیوں گرایا جاتا ہے؟ یہ طرزِ عمل تو اس اَمر کا غماز ہے کہ ۔۔۔نعوذ باللہ۔۔۔ لکھنے والے کو اس لفظ سے گویا نفرت ہے۔
ثالثاً:۔ تخفیف کے بعد جب اس کا تلفظ ’’موہڈ‘‘ ہوگا تو یہ مہمل اور بے معنی لفظ ہوگا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمِ گرامی کو ایک مہمل اور لایعنی لفظ میں تبدیل کردینا، کسی طرح دُرست نہیں۔ اس لئے میں تمام اہلِ اسلام سے درخواست کروں گا کہ اس رواج کو تبدیل کریں، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمِ مبارک کے حروفِ تہجی پورے لکھا کریں۔ جن حضرات کو اس کی طرف التفات نہیں تھا، وہ تو خیر معذور تھے، لیکن اس تنبیہ کے بعد اُمید ہے کہ اسمِ مبارک کی بے ادبی کے گناہ اور وبال سے احتراز کریں گے۔
بعض حضرات صرف "M" لکھ دیتے ہیں، یہ بھی انگریزی فیشن ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک سے اِعراض کی دلیل ہے، اس سے بچنا چاہئے۔

