بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

انبیائے کرام علیہم السلام

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم کے ساتھ صرف ’’ ؐ‘‘ لکھنا

سوال:۔

کچھ عرصہ قبل کسی صاحب نے آپ سے ایک سوال پوچھا تھا کہ کچھ لوگ انگلش میں لفظ ’’محمد‘‘ کو Mohammad کے بجائے صرف Mohd لکھ دیتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ ہم نے ’’محمد‘‘ کو شارٹ کرکے لکھ دیا ہے، اس کے جواب میں آپ نے ارشاد فرمایا تھا کہ انگریزوں کے نزدیک لفظ ’’محمد‘‘ کی اہمیت خواہ کتنی ہی کم ہو، ایک مسلمان کے لئے لفظ ’’اللہ‘‘ کے بعد تمام ذخیرۂ الفاظ میں سب سے اہم لفظ ’’محمد‘‘ ہے، اس لفظ میں تخفیف کا مطلب تو یہ ہوا کہ لکھنے والے کو ۔۔۔نعوذ باللہ۔۔۔ گویا اس لفظ سے نفرت ہے۔ لفظ ’’محمد‘‘ کو مخفف کرکے لکھنے کا رواج غالباً فرنگی سازش ہے اور مسلمان اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھ نہیں سکے۔ Mohammad کے بجائے Mohd (موہڈ) ایک مہمل اور بے معنی لفظ ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم گرامی کو ایک مہمل اور بے معنی لفظ میں تبدیل کردینا کسی مسلمان کے لئے ہرگز رَوا نہیں ہوسکتا۔

اس کے ساتھ ساتھ آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا تھا کہ: چند حضرات صرف "M" لکھ دیتے ہیں، یہ بھی انگریزی فیشن ہے۔

محترمی! میں نے اس مسئلے اور آپ کے جواب کو زیادہ سے زیادہ ناواقف لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں کئی طالب علموں نے وعدہ کیا کہ آئندہ ہم ’’محمد‘‘ کو Mohd یا صرف M نہیں لکھیں گے، بلکہ پورے حروفِ تہجی Mohammad لکھا کریں گے۔ اب مجھے ٹنڈوآدم سے اپنے ایک طالب علم بھائی کا خط موصول ہوا ہے، جس میں اسکول میں اپنے نام سے پہلے M لکھنے سے گریز کیا، ماسٹر صاحبان نے وجہ پوچھی تو اس طالب علم نے آپ کا جواب دُہرایا اور کہا کہ: صرف M لکھنا انگریزی فیشن ہے۔ تو اس کے جواب میں ماسٹر صاحبان نے کہا کہ: ’’اگر ’’محمد‘‘ کو انگریزی میں پورا لکھنے کی بجائے صرف "M" لکھنا غلط ہے تو پھر اخبارات، کتابوں میں ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ پورا لکھنے کی بجائے صرف ( ؐ) لکھ دیا جاتا ہے، کیا یہ دُرست ہے؟‘‘

جواب:۔

صرف ( ؐ) کا نشان کافی نہیں، بلکہ پورا دُرود شریف لکھنا چاہئے اور اس میں کسی بخل سے کام نہیں لینا چاہئے۔(۱) ظاہر ہے کہ ہماری تحریر سے دُرود شریف کی اہمیت زیادہ ہے، اس کو کیوں نہ لکھا جائے؟ میں جب بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسمِ مقدس لکھتا ہوں، پورے اہتمام کے ساتھ ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ لکھتا ہوں، اور اس میں کبھی بخل نہیں کرتا۔ لیکن اخبار کے کاتب ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کی جگہ صرف ( ؐ) لکھ دیتے ہیں۔

  1. (۱) وقد استحب أھل الکتابۃ أن یکرّر الکاتب الصلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم کلما کتبہ۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۵ ص:۲۲۷، مطبوعہ رشیدیہ)۔