انبیائے کرام علیہم السلام
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی
سوال:۔
ہمارے ہاں ایک صوفی پیر ہیں، ایک دن انہوں نے مجھے اور میرے دوست کو کہا کہ: ایک خوبصورت لڑکی ہو، جس سے ایک لڑکا محبت کرتا ہو، اور آپ بھی اس سے محبت کرنے لگیں تو نتیجہ کیا ہوگا؟ ہم نے کہا: انجام لڑائی اور دُشمنی! تو کہنے لگا: ظاہر ہے کہ جو لڑکی سے محبت کرتا ہے وہ کیونکر چاہے گا کہ میری محبوبہ سے کوئی محبت کرے؟ پھر کہنے لگا کہ: ’’تم اپنے رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہ کرنا، کیونکہ اللہ تعالیٰ ان سے محبت فرماتے ہیں اور تم نبی علیہ السلام سے محبت کروگے تو اللہ تعالیٰ تمہارا دُشمن ہوجائے گا، وہ کیسے چاہے گا کہ میری محبت سے کوئی دُوسرا محبت کرے؟ اس کے باوجود بھی اگر بندہ نہ مانے تو اللہ تعالیٰ کافی سزائیں دیتے ہیں، اگر کافی سزائیں سہنے کے بعد بھی بندہ اپنے نبی سے محبت کرے تو اللہ تعالیٰ پھر اپنے بندے کے آگے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں، یعنی خدا بندے کے سامنے جھک جاتا ہے۔‘‘ اس کی وضاحت فرمادیں کہ یہ انسان کن عقائد کا مالک ہے؟
جواب:۔
یہ صوفی جی بے علم اور ناواقف ہیں، ان کا یہ کہنا کہ: ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اگر ہم محبت کریں تو خدا تعالیٰ دُشمن ہوجائے گا اور سزا دے گا‘‘ یہ کلمۂ کفر ہے، اور اس کا یہ کہنا کہ: ’’خدا بندے کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتا ہے‘‘ یہ بھی کلمۂ کفر ہے۔(۱) ایسے بے دِین اور جاہل کے پاس نہیں بیٹھنا چاہئے۔
- (۱) وصح الْإجماع علٰی ان کل من جحد شیئًا صح عندنا بالْإجماع ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أتٰی بہ فقد کفر، وصح بالنص ان کل من استھزأ باللہ تعالٰی ۔۔۔ أو بنبی من الأنبیاء علیھم السلام أو بآیۃ من القرآن أو بفریضۃ من فرائض الدِّین ۔۔۔ فھو کافر۔ (إکفار الملحدین ص:۶۴)۔

