بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

انبیائے کرام علیہم السلام

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کس کے لئے؟ اور حصول کا طریقہ

سوال:۔

ابھی پچھلے دنوں ٹی وی میں صبح کی نشریات میں کسی عالم نے جن کا مجھے نام یاد نہیں، شفاعت کے مسئلے پر تقریر کی تھی، یہی وہ عقیدہ ہے جسے آج کے مسلمان نے عمل سے عاری کردیا ہے کہ ہم جیسے بھی ہیں، جتنے بھی گناہگار سہی! ہیں تو نبی کی اُمت میں، ہماری شفاعت تو یقینی ہے۔ مولانا محترم نے بھی اپنی تقریر کا سارا زور اس بات پر ہی لگایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری اُمت کی شفاعت کا ذمہ لیا ہے۔ بے شک یہ صحیح ہے، لیکن کن لوگوں کے حق میں؟ کس حد تک؟ یہ نہیں بتایا۔ برائے کرم آپ شفاعت کے بارے میں تفصیل سے بتائیے کہ کیا واقعی اب مسلمان کو نیک عمل کرنے کی ضرورت نہیں رہی، کیونکہ ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری شفاعت کا ذمہ لیا ہے؟ پلیز آپ اس مسئلے کا حل ضرور دیجئے گا، یہ میرا ہی نہیں اور کتنے ہی لوگوں کا مسئلہ ہے۔

جواب:۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیائے کرام علیہم السلام، ملائکہ، صدیقین، شہداء اور صالحین کی شفاعت برحق ہے،(۱) اور یہ بھی صحیح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام اُمت (بلکہ تمام اُمتوں کی) شفاعت کا وعدہ فرمایا ہے اور اِن شاء اللہ یہ وعدہ پورا ہوگا۔ الغرض شفاعت کا عقیدہ صحیح ہے اور یہ اہلِ حق اہلِ سنت والجماعت کے قطعی عقائد میں شامل ہے۔ رہا آپ کا یہ خیال کہ اسی عقیدے نے مسلمانوں کو عمل سے عاری کردیا ہے، یہ خیال صحیح نہیں۔ صحابہ کرامؓ، اَئمہ دِین اور اکابرِ اُمت ہم سے بڑھ کر عقیدۂ شفاعت پر ایمان رکھتے تھے، مگر ان کے عمل پر کوئی سستی اور کمزوری نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب فرمائیں، مگر اس سلسلے میں چند اُمور پیشِ نظر رہنے چاہئیں۔

۱:۔ بعض گستاخانہ عمل ایسے ہیں جن میں مسلمان کثرت سے مبتلا ہیں، اور وہ شفاعت سے محروم کرنے والے ہیں، ان سے توبہ کئے بغیر شفاعت کی توقع رکھنا کارِ عبث اور شیطان کا دھوکا ہے۔

۲:۔ جو شخص اس خیال سے سنگین جرائم کا ارتکاب کرتا ہو کہ مجھے فلاں کی شفاعت جیل سے چھڑالے گی، ایسا شخص احمق خیال کیا جائے گا۔ اسی طرح جو شخص شفاعت کے بھروسے دھڑا دھڑ گناہ کئے جاتا ہے، اس کے احمق ہونے پر بھی کوئی شک نہیں۔

۳:۔ ایک صحابی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ’’مانگو کیا مانگتے ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’جنت میں آپ کی رفاقت!‘‘ فرمایا: ’’بس یہی؟ یا کچھ اور بھی؟‘‘ عرض کیا: ’’بس یہی!‘‘ فرمایا: ’’بہت اچھا! مگر کثرتِ سجود کے ساتھ میری مدد کرنا۔‘‘(۲) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شفاعت حاصل کرنے کے لئے بھی نیک اعمال کا اختیار کرنا ضروری ہے۔ جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و طریقے سے، آپ کی شکل و شباہت سے نفرت کرتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے دیدہ و دانستہ بغاوت کرتا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دُشمنوں سے دوستی رکھتا ہے، وہ آخر کس منہ سے شفاعت کی توقع رکھتا ہے۔۔۔؟

۴:۔ بہت سے لوگ ایسے ہوں گے جو نہ جانے کتنی مدّت جلنے کے بعد کوئلے ہوجائیں گے، تب کہیں ان کو شفاعت نصیب ہوگی۔(۳) کیا کوئی شخص تحمل رکھتا ہے کہ وہ ایک لمحے کے لئے جہنم کی آگ میں جھلسایا جائے؟ (اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے پناہ میں رکھیں) اب کون ہوگا جو کروڑوں برس جہنم میں جلنے اور جنت کی نعمتوں سے محروم رہنے کو پسند کرے۔۔۔؟

  1. (۱) والشفاعۃ التی ادخرھا ادخرھا لھم حق کما روی فی الأخبار ۔۔۔ الخ۔ (شرح عقیدۃ الطحاویۃ ص:۲۵۲ تا ۲۶۵، ابن ماجۃ ص:۳۲۰)۔
  2. (۲) عن ربیعۃ بن کعب قال: کنت أبیت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فأتیتہ بوضوئہ وحاجتہ فقال لی: سل! فقلت: اسئلک مرافقتک فی الجنّۃ۔ قال: أوَ غیر ذٰلک؟ قلت: ھو ذاک! قال: فأعنی علٰی نفسک بکثرۃ السجود۔ رواہ مسلم۔ (مشکوٰۃ ص:۸۴، باب السجود وفضلہ)۔
  3. (۳) النوع الثامن: شفاعتہ فی أھل الکبائر من اُمّتہ، ممن دخل النّار، فیخرجون منھا۔ (شرح عقیدۃ الطحاویۃ ص:۲۵۸)۔