انبیائے کرام علیہم السلام
رحمۃ للعالمین اور بددُعا
سوال:۔
روزنامہ ’’جنگ‘‘ کے اسلامی صفحے پر ایک مضمون نگار لکھتے ہیں کہ: ’’بئر معونہ‘‘ میں دھوکے سے شہید کئے جانے والے ۷۰ معلّم تمام کے تمام اَصحابِ صفہ تھے، ان کی جدائی کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس درجہ صدمہ ہوا کہ آپ متواتر ایک مہینے تک نمازِ فجر میں ان کے قاتلوں کے حق میں بددُعا فرماتے رہے۔‘‘
یہ تو وہ الفاظ ہیں جنھیں میں نے لفظ بہ لفظ آپ کے اخبار سے اُتار دیا ہے۔ آپ کے اور ہم سب کے علم میں یہ بات تو ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جنھیں اللہ تعالیٰ نے خاتم النبیّین اور رحمۃ للعالمین جیسے القاب سے قرآنِ کریم میں مخاطب کیا ہے، وہ کبھی کسی کے حق میں بددُعا کے لئے ہاتھ اُٹھاسکتے ہیں؟ کیا یہ بات کوئی ذی شعور باور کرسکتا ہے؟
میں سعودیہ گرلز کالج کی بی اے کی طالبہ ہوں، میری نظروں سے بھی مختلف اسلامی کتابیں گزری ہیں، میرا ذہن اس بات کو قبول نہیں کرسکتا، اور جو بات غلط ہو، اسے کسی کا ذہن قبول کر ہی نہیں سکتا کہ آنحضرت کبھی کسی کے حق میں بددُعا فرمائیں؟ آپ کے ساتھ لوگوں نے کیا کیا سلوک نہ کیا، آپ جس راستے سے گزرتے لوگ آپ پر غلاظت پھینکتے اور آپ کو طائف کی گلیوں میں گھسیٹتے، ایک دفعہ تو لوگوں نے یہاں تک کیا کہ آپ پر اتنے پتھر برسائے کہ آپ لہولہان ہوگئے اور آپ کے پاؤں مبارک جوتوں میں خون کے بھرجانے سے چپک گئے۔ جب بھی آپ نے بدبختوں کے حق میں بددُعا نہ کی، بلکہ جب بھی لوگ آپ کو تکلیف پہنچاتے، آپ فرماتے: ’’اے اللہ انہیں نیک راہ دِکھا اور بتا کہ میں کون ہوں۔‘‘
ایک طرف تو شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ ۷۰ معلّموں کو دھوکے سے شہید کیا گیا اور آگے کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قاتلوں کے حق میں بددُعا فرمائی۔ کیا ان کو یہ معلوم نہیں کہ جو لوگ شہید ہوتے ہیں وہ کبھی مرتے نہیں بلکہ زندہ جاوید ہوجاتے ہیں، تو جن کو شہادت کا درجہ ملا ہو ان کے قاتل تو خودبخود دوزخ کی آگ میں پھینکے جائیں گے، ان کے لئے بددُعا کیا ضروری؟ اور وہ بھی رحمۃللعالمین نے فجر کی نماز میں ایک مہینے تک کی۔ کیا شاہ صاحب نے (نعوذ باللہ) حضور کو نمازِ فجر کے بعد مسلسل ایک مہینے تک بددُعا کرتے دیکھا، یا کسی کتاب سے پڑھا؟ کون سی حدیث ان کی نظروں سے گزری؟ ذرا حوالہ تو دیں کہ میں خود بھی پڑھوں، میرا بھی مضمون اسلامیات ہے، میں نے کبھی ایسا نہیں پڑھا۔
جواب:۔
بئر معونہ میں ستر قراء کی شہادت کا واقعہ حدیث و تاریخ اور سیرت کی تمام کتابوں میں موجود ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مہینے تک فجر کی نماز میں قنوتِ نازلہ پڑھنا اور ان کافروں پر جنھوں نے ان حضرات کو دھوکے سے شہید کیا تھا، بددُعا کرنا صحیح بخاری، صحیح مسلم، ابوداؤد، نسائی اور حدیث کی دُوسری کتابوں میں موجود ہے۔(۱) اس لئے آپ کا انکار کرنا غلط ہے۔ رہا آپ کا یہ شبہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو رحمۃ للعالمین تھے، آپ کیسے بددُعا کرسکتے تھے؟ آپ کا یہ خیال بھی سطحی قیاس کی پیداوار ہے، کیا موذیوں کو قتل کرنا، ان کو سزا دینا اور ان کو سرزنش کرنا رحمت نہیں؟ کیا رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے رحیم و شفیق قلبِ مبارک کو ان مظلوم شہداء کی مظلومانہ شہادت پر صدمہ نہیں پہنچا ہوگا؟ آپ ما شاء اللہ بی اے کی طالبہ ہیں، آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ چوروں، ڈاکوؤں، غنڈوں اور بدمعاشوں پر سختی کرنا عین رحمت ہے، اور ان پر ترس کھانا خلافِ رحمت ہے، شیخ سعدیؒ کے بقول:
نیکوئی بابداں کردن چناں است
کہ بد کردن بجائے نیک مرداں
اور آپ کا یہ کہنا بھی عجیب ہے کہ شہداء کے قاتل خود ہی دوزخ میں جائیں گے، ان کے لئے بددُعا کی کیا ضرورت ہے؟ اس کے معنی تو یہ ہیں کہ قاتل کے خلاف کسی عدالت میں استغاثہ نہ کیا جائے، کیونکہ وہ بقول آپ کے خود ہی کیفرِ کردار کو پہنچے گا اور اگر آپ کے نزدیک کسی قاتل کے خلاف عدالت میں استغاثہ جائز اور یہ خلافِ رحمت نہیں، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اگر بارگاہِ اِلٰہی میں ان قاتلوں کے خلاف استغاثہ فرماتے ہیں تو یہ آپ کو کیوں غلط نظر آتا ہے؟ شہید بلاشبہ جنت میں زندہ ہیں اور مراتبِ عالیہ پر فائز ہیں، مگر اس کے یہ معنی تو نہیں کہ کسی شہید کی مظلومانہ شہادت پر ہمیں رنج و صدمہ بھی نہیں ہونا چاہئے۔ اس واقعے کا تو آپ اپنی ناواقفی کی وجہ سے انکار کر رہی ہیں، لیکن اس کا کیا کیا جائے گا کہ قرآنِ کریم میں حضرت نوح علیہ السلام،(۲) حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دیگر بعض انبیائے کرام علیہم السلام کی بددُعائیں نقل کی گئی ہیں۔ تمام انبیائے کرام علیہم السلام سراپا رحمت ہوتے ہیں، اس کے باوجود کافروں، بے ایمانوں اور موذیوں کے خلاف بارگاہِ اِلٰہی میں استغاثہ کرتے ہیں۔ آپ نے طائف کا واقعہ ذکر کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر برسائے گئے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بددُعا نہ فرمائی۔ آپ نے شاید حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حدیث پڑھی ہوگی کہ: ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنا ذاتی انتقام نہیں لیا، لیکن جب حدود اللہ کو توڑا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غصّے کی کوئی تاب نہ لاسکتا۔‘‘(۳) طائف کا واقعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے متعلق تھا، وہاں صبر کی مجسم تصویر بنے رہے اور بئر معونہ کا واقعہ حدود اللہ کو توڑنے، عہدشکنی کرنے اور مسلمانوں کو ظلماً شہید کرنے کا واقعہ تھا، اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بے چینی و بے قراری اور حق تعالیٰ شانہ‘ سے والہانہ استغاثہ و فریاد طلبی اپنی ذات کے لئے نہیں تھی کہ آپ اس کے لئے طائف کی مثال پیش کریں۔ یہاں جو کچھ تھا وہ دِینی غیرت اور ان مظلوموں پر شفقت کا اظہار تھا۔
الغرض بئر معونہ کا جو واقعہ ذکر کیا گیا ہے وہ صحیح ہے اور ایسے موذیوں کے لئے بددُعا کرنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ رحمۃ للعالمین کے خلاف نہیں، بلکہ اپنے رنگ میں یہ بھی رحمت و شفقت کا مظہر ہے۔
- (۱) عن انس قال: بعث النبی صلی اللہ علیہ وسلم سبعین رجلًا لحاجۃ یقال لھم ’’القراء‘‘ فعرض لھم حیان من بنی سلیم رِعلٌ وذکوان عند بئر یقال لھا ’’بئر معونۃ‘‘ فقال القوم: واللہ! ما إیاکم أردنا، إنما نحن مجتازون فی حاجۃٍ للنبی صلی اللہ علیہ وسلم فقتلوھم، فدعا النبی صلی اللہ علیہ وسلم علیھم شھرًا فی صلٰوۃِ الغداۃ ۔۔۔إلخ (صحیح بخاری ج:۲ ص:۵۸۶، باب غزوۃ الرجیع ورعل وذکوان وبئر معونۃ)۔
- (۲) ﵟ وَقَالَ نُوحٞ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى ٱلۡأَرۡضِ مِنَ ٱلۡكَٰفِرِينَ دَيَّارًا ٢٦ ﵞ نوح ٢٦۔ ﵟ رَبَّنَا ٱطۡمِسۡ عَلَىٰٓ أَمۡوَٰلِهِمۡ وَٱشۡدُدۡ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ فَلَا يُؤۡمِنُواْ حَتَّىٰ يَرَوُاْ ٱلۡعَذَابَ ٱلۡأَلِيمَ ٨٨ ﵞ يونس ٨٨۔
- (۳) عن عائشۃ قال: ما ضرب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شیئًا قطّ بیدہ ولَا امرأۃ ولَا خادمًا اِلّا ان یجاھد فی سبیل اللہ وما نیل منہ شیء قطُّ فینتقم من صاحبہ الّا ان ینتھک شئی من محارم اللہ فینتقم ﷲ۔ رواہ مسلم۔ (مشکوٰۃ ص:۵۱۹)۔

