بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

انبیائے کرام علیہم السلام

حضرت سودہؓ کو طلاق دینے کے اِرادے کی حکمت

سوال:۔

ایک آدمی اپنی بیوی کو اس لئے طلاق دے دے کہ وہ بوڑھی ہوگئی اور اس کے قابل نہیں رہی، اس بات کو کوئی بھی بنظرِ استحسان نہیں دیکھتا۔ ایک روایت میں ہے کہ حضور علیہ السلام نے حضرت سودہؓکو ان کے بڑھاپے کی وجہ سے طلاق دینا چاہی، پھر جب حضرت سودہؓ نے اپنی باری حضرت عائشہؓ کو دے دی تو آپ نے طلاق کا ارادہ بدل لیا۔ یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس سے بعید معلوم ہوتی ہے اور مخالفوں کے اس اعتراض کو کہ نعوذباللہ! تعدّدِ ازواج کی غرض شہوت رانی تھی، تقویت ملتی ہے، حالانکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یتیموں اور بیواؤں کا ملجا و ماویٰ قرار دیا جاتا ہے۔

جواب:۔

عرب میں طلاق معیوب نہیں سمجھی جاتی، جتنی کہ ہمارے ماحول میں اس کو قیامت سمجھا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ’’تُرۡجِي مَن تَشَآءُ مِنۡهُنَّ وَتُـٔۡوِيٓ إِلَيۡكَ‘‘ فرماکر آپ کو رکھنے نہ رکھنے کا اختیار دے دیا گیا تھا، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی کی علیحدگی کا فیصلہ کر لینا کسی طرح بھی محل اعتراض نہیں۔ اور ازدواجی زندگی صرف شہوت رانی کے لئے نہیں ہوتی، موانست اور موالفت اس کے اہم مقاصد میں سے ہے۔ بہت ممکن ہے کسی وقت کسی بی بی سے موانست نہ رہے اور طلاق کا فیصلہ کرلیا جائے اور حضرت عائشہؓ کو اپنی باری دے دینا اور اپنے تمام حقوق سے دستبردار ہوجانا حضرت اُمّ المؤمنین سودہؓ کا وہ ایثار تھا جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ تبدیل فرمالیا،(۱) اس پر اس سے زیادہ گفتگو کرتا لیکن یہاں اشارہ کافی ہے۔

  1. (۱) عن عائشۃ ان سودۃ لما کبرت قالت: یا رسول اللہ! قد جعلت یومی منک لعائشۃ، فکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقسم لعائشۃ یومین، یومھا ویوم سودۃ۔ متفق علیہ۔ (مشکٰوۃ ص:۲۷۹، باب القسم)۔