بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

انبیائے کرام علیہم السلام

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ جنازہ اور تدفین کس طرح ہوئی اور خلافت کیسے طے ہوئی؟

سوال:۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان کی نمازِ جنازہ کس نے پڑھائی؟ اور آپ کی تدفین اور غسل میں کن کن حضرات نے حصہ لیا؟ اور آپ کے بعد خلافت کے منصب پر کس کو فائز کیا گیا اور کیا اس میں بالاتفاق فیصلہ کیا گیا؟

جواب:۔

۳۰؍صفر (آخری بدھ) کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوصال کی اِبتدا ہوئی،(۱)۸؍ربیع الاوّل کو بروز پنجشنبہ منبر پر بیٹھ کر خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں بہت سے اُمور کے بارے میں تاکید و نصیحت فرمائی۔(۲) ۹؍ربیع الاوّل شبِ جمعہ کو مرض نے شدّت اختیار کی، اور تین بار غشی کی نوبت آئی، اس لئے مسجد تشریف نہیں لے جاسکے، اور تین بار فرمایا کہ: ’’ابوبکر کو کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں!‘‘ چنانچہ یہ نماز حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پڑھائی اور باقی تین روز بھی وہی امام رہے، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سترہ نمازیں پڑھائیں، جن کا سلسلہ شبِ جمعہ کی نمازِ عشاء سے شروع ہوکر ۱۲؍ربیع الاوّل دوشنبہ کی نمازِ فجر پر ختم ہوتا ہے۔(۳)

علالت کے ایام میں ایک دن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں (جو بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری آرام گاہ بنی) اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم کو وصیت فرمائی:

’’انتقال کے بعد مجھے غسل دو اور کفن پہناؤ اور میری چارپائی میری قبر کے کنارے (جو اسی مکان میں ہوگی) رکھ کر تھوڑی دیر کے لئے نکل جاؤ، میرا جنازہ سب سے پہلے جبریلؑ پڑھیں گے، پھر میکائیلؑ، پھر اسرافیلؑ، پھر عزرائیلؑ، ہر ایک کے ہمراہ فرشتوں کے عظیم لشکر ہوں گے، پھر میرے اہلِ بیت کے مرد، پھر عورتیں بغیر امام کے (تنہا تنہا) پڑھیں، پھر تم لوگ گروہ در گروہ آکر (تنہا تنہا) نماز پڑھو۔‘‘

چنانچہ اسی کے مطابق عمل ہوا، اوّل ملائکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھی، پھر اہلِ بیت کے مردوں نے، پھر عورتوں نے، پھر مہاجرین نے، پھر انصار نے، پھر عورتوں نے، پھر بچوں نے، سب نے اکیلے اکیلے نماز پڑھی، کوئی شخص اِمام نہیں تھا۔(۴)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل حضرت علی کرّم اللہ وجہہ نے دیا، حضرت عباس اور ان کے صاحبزادے فضل اور قثم رضی اللہ عنہم ان کی مدد کر رہے تھے، نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو موالی حضرت اُسامہ بن زید اور حضرت شقران رضی اللہ عنہما بھی غسل میں شریک تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سحولی (موضع سحول کے بنے ہوئے) سفید کپڑوں میں کفن دیا گیا۔(۵)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے روز (۱۲؍ربیع الاوّل) کو سقیفہ بنی ساعدہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت ہوئی، اوّل اوّل مسئلۂ خلافت پر مختلف آراء پیش ہوئیں، لیکن معمولی بحث و تمحیص کے بعد بالآخر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے انتخاب پر اتفاق ہوگیا اور تمام اہلِ حل و عقد نے ان کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔(۶)

  1. (۱) فصل فی حوادث السَّنَۃ الحادیۃ عشرۃ من الھجرۃ ۔۔۔ وفیھا مرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی آخر الأربعاء من صفر، وکان ذٰلک الیوم ثلٰثین من شھر صفر المذکور، ۔۔۔ وکانت مدّۃ مرضہ صلی اللہ علیہ وسلم ثلاثۃ عشر یومًا علی القول المشہور الذی علیہ الأکثرون ۔ (بذل القوۃ فی حوادث سنی النبوۃ ص:۲۹۶ طبع جامعۃ السند، حیدرآباد پاکستان)۔
  2. (۲) وفیھا فی أیام ذٰلک المرض خرج إلی المنبر فخطب علیہ قاعدًا لعذر المرض وأخبر فیھا بأُمور کثیرۃ تحتاج إلیہ الاُمّۃ وکانت تلک الخطبۃ یوم الخمیس الثامن من شھر ربیع الأوّل۔ (بذل القوۃ ص:۲۹۸ طبع جامعۃ السند، حیدرآباد، پاکستان)۔
  3. (۳) وفیھا لما اشتد علیہ صلی اللہ علیہ وسلم المرض لیلۃ الجمعۃ التی ھی التاسعۃ من شھر ربیع الأوّل، فاغمی علیہ صلی اللہ علیہ وسلم ثلاث مرات، ولم یستطع الخروج إلٰی صلٰوۃ العشاء، قال ثلاث: مروا أبابکر فلیصل بالناس، فصلّٰی أبوبکر رضی اللہ عنہ مقام النبی صلی اللہ علیہ وسلم تلک العشاء، ثم لم یزل یصلی بھم الصلٰوۃ الخمیس فی تلک الأیام الثلاثۃ الباقیۃ، حتّٰی کانت صلٰوۃ أبی بکر رضی اللہ عنہ التی صلاھا بھم فی حیاتہ صلی اللہ علیہ وسلم سبع عشرۃ صلٰوۃ، مبدأھا صلٰوۃ العشاء من لیلۃ الجمعۃ، ومنتھاھا صلٰوۃ الفجر من یوم الْإثنین الثانی عشر من شھر ربیع الأوّل۔ (بذل القوۃ فی حوادث سنی النبوۃ ص:۳۰۰ طبع جامعۃ السند، حیدرآباد، پاکستان)۔
  4. (۴) وفیھا فی أیام مرضہ صلی اللہ علیہ وسلم وکونہ صلی اللہ علیہ وسلم فی بیت عائشۃ رضی اللہ عنھا، أوصٰی لأصحابہ فقال: إذا أنا مِتُّ فاغسلونی وکفنونی واجعلونی علٰی سریری ھٰذا، علٰی شفیر قبری فی بیتی ھٰذا ثم أخرجوا عنّی ساعۃ فأوّل من یصلّی علیَّ جبریل، ثم میکائیل، ثم إسرافیل، ثم ملک الموت، کل واحد منھم بجنودہ، ۔ثم یصلّی علیَّ رجال أھل بیتی، ثم نسائھم، ثم ادخلوا أنتم فوجًا فوجًا فصلّوا علیَّ، فوقع کما قال صلی اللہ علیہ وسلم، فصلّی علیہ صلی اللہ علیہ وسلم أوّلًا الملائکۃ علیھم السلام، ثم رجال أھل بیتہ، ثم نسائھم، ثم رجال المھاجرین، ثم الأنصار، ثم النساء، ثم الغلمان، فصلّوا کلھم افذاذًا منفردین لَا یؤمھم أحد۔ (بذل القوۃ ص:۲۹۹ وأیضًا الروض الأنف ج:۲ ص:۳۷۷)۔
  5. (۵) وفیھا وقع أنہ لما توفی صلی اللہ علیہ وسلم غسلہ عَلیٌّ وحضر معہ العباس وابناہ الفضل وقثم ومولیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ورضی عنھما اُسامۃ وشقران (بضم الشین المعجمۃ وسکون القاف) رضی اللہ عنھم، وکفن فی ثلاثۃ أثواب بیض سھولیۃ۔ (بذل القوۃ ص:۳۰۳)۔
  6. (۶) فلما مات (صلی اللہ علیہ وسلم) ۔۔۔ فجاء الصدیق من منزلہ حین بلغہ الخبر فدخل علٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منزلہ وکشف الغطاء عن وجھہ وقبّلہ وتحقق أنہ مات ۔۔۔ ورجع الناس کلھم إلیہ وبایعہ فی المسجد جماعۃ من الصحابۃ ووقعت شبھۃ لبعض الأنصار وقام فی أذھان بعضھم جواز إستخلاف خلیفۃ من الأنصار وتوسط بعضھم بین أن یکون أمیر من المھاجرین وأمیر من الأنصار، حتّٰی بیّن لھم الصدیق أن الخلافۃ لَا تکون إلّا فی قریش، فرجعوا إلیہ وأجمعوا علیہ کما سنبیّنہ وتنبّہ علیہ۔ (البدایۃ والنھایۃ ج:۵ ص:۲۴۴)۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: البدایۃ والنھایۃ ج:۵ ص:۲۴۵ تا ۲۵۰ قصۃ سقیفۃ بنی ساعدۃ۔