انبیائے کرام علیہم السلام
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ جنازہ کس نے پڑھائی تھی؟
سوال:۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ جنازہ ہوئی تھی یا نہیں؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ جنازہ کس نے پڑھائی تھی؟ براہِ کرم جواب عنایت فرمائیں، کیونکہ آج کل یہ مسئلہ ہمارے درمیان کافی بحث کا باعث بنا ہوا ہے۔ فقلنا: فمن یصلی علیک منا؟ فبکینا وبکی وقال ۔۔۔ إذا غسلتمونی ووضعتمونی علٰی سریری فی بیتی ھٰذا علٰی شفیر قبری فأخرجوا عنی ساعۃ فإن أوّل من یصلّی علیَّ خلیلی وجلیسی جبریل ۔۔۔ ثم الملائکۃ صلی اللہ علیھم، ثم ادخلوا علیَّ فوجًا فوجًا فصلّوا علیَّ وسلّموا تسلیمًا ۔۔۔ ولیبدأ بالصلاۃ علیَّ رجال أھل بیتی، ثم أنتم بعد ۔۔۔ رواہ البزار ۔۔۔ ورواہ الطبرانی فی الأوسط بنحوہ۔ (مجمع الزوائد ج؛۸ ص:۴۲۷، باب فی وداعہ صلی اللہ علیہ وسلم، طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت)۔
جواب:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ جنازہ عام دستور کے مطابق جماعت کے ساتھ نہیں ہوئی، اور نہ اس میں کوئی امام بنا۔ ابنِ اسحاق وغیرہ اہلِ سِیَر نے نقل کیا ہے کہ تجہیز و تکفین کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جنازہ مبارک حجرۂ شریف میں رکھا گیا، پہلے مردوں نے گروہ در گروہ نماز پڑھی، پھر عورتوں نے، پھر بچوں نے۔(۱) حکیم الاُمت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نشر الطیب میں لکھتے ہیں:
’’اور ابنِ ماجہ میں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: جب آپ کا جنازہ تیار کرکے رکھا گیا تو اوّل مردوں نے گروہ در گروہ ہوکر نماز پڑھی، پھر عورتیں آئیں، پھر بچے آئے، اور اس نماز میں کوئی امام نہیں ہوا۔‘‘
(نشر الطیب ص:۲۴۴ مطبوعہ تاج کمپنی)
علامہ سہیلیؒ ’’الروض الانف‘‘ (ج:۲ ص:۳۷۷ مطبوعہ ملتان) میں لکھتے ہیں:
’’یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی، اور ایسا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم ہی سے ہوسکتا تھا، ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وصیت فرمائی تھی۔‘‘(۲)
علامہ سہیلیؒ نے یہ روایت طبرانی اور بزار کے حوالے سے، حافظ نورالدین ہیثمیؒ نے مجمع الزوائد (ج:۸ ص:۴۲۷) میں بزار اور طبرانی کے حوالے سے(۳) اور حضرت تھانویؒ نے نشر الطیب میں واحدی کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں:
’’ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ پر نماز کون پڑھے گا؟ فرمایا: جب غسل کفن سے فارغ ہوں، میرا جنازہ قبر کے قریب رکھ کر ہٹ جانا، اوّل ملائکہ نماز پڑھیں گے، پھر تم گروہ در گروہ آتے جانا اور نماز پڑھتے جانا، اوّل اہلِ بیت کے مرد نماز پڑھیں، پھر ان کی عورتیں، پھر تم لوگ۔‘‘
(نشر الطیب ص:۲۰۲ طبع سہارنپور)
سیرۃ المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں طبقات ابنِ سعد کے حوالے سے حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا ایک گروہ کے ساتھ نماز پڑھنا نقل کیا ہے۔
- (۱) وقال محمد بن اسحاق ۔۔۔ لما مات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أدخل الرجال فصلّوا علیہ بغیر إمام ارسالًا حتّٰی فرغوا، ثم أدخل النساء فصلین علیہ، ثم أدخل الصبیان فصلّوا علیہ ۔۔۔ لم یؤمھم علٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أحد، وقال الواقدی: لمَّا ادرج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی اکفانہ وضع علٰی سریرہ ثم وضع علٰی شفیر حفرتہ، ثم کان الناس یدخلون علیہ رفقاء رفقاء لَا یؤمھم علیہ أحد۔ (البدایۃ والنھایۃ ج:۵ ص:۲۶۵ کیفیۃ الصلاۃ علیہ صلی اللہ علیہ وسلم، وأیضا فی الروض ج:۲ ص:۳۷۷)۔
- (۲) وذکر ابن اسحاق وغیرہ ان المسلمین صلّوا علیہ افذاذًا لَا یؤمھم أحد، کلما جاءت طائفۃ صلَّت علیہ، وھٰذا خصوص بہ صلی اللہ علیہ وسلم ولَا یکون ھٰذا الفعل إلّا عن توقیف وکذٰلک روی أنہ أوصٰی بذٰلک ذکرہ الطبری مسند ۔۔۔ وقد رواہ البزار أیضًا عن طریق مرۃ عن ابن مسعود ۔۔۔إلخ۔ (الروض الأنف ج:۲ ص:۳۷۷ کیف صلّی علٰی جنازتہ علیہ السلام، طبع ملتان)۔
- (۳) مجمع الزوائد کی عبارت یہ ہے:
- فقلنا: فمن یصلی علیک منا؟ فبکینا وبکی وقال ۔۔۔ إذا غسلتمونی ووضعتمونی علٰی سریری فی بیتی ھٰذا علٰی شفیر قبری فأخرجوا عنی ساعۃ فإن أوّل من یصلّی علیَّ خلیلی وجلیسی جبریل ۔۔۔ ثم الملائکۃ صلی اللہ علیھم، ثم ادخلوا علیَّ فوجًا فوجًا فصلّوا علیَّ وسلّموا تسلیمًا ۔۔۔ ولیبدأ بالصلاۃ علیَّ رجال أھل بیتی، ثم أنتم بعد ۔۔۔ رواہ البزار ۔۔۔ ورواہ الطبرانی فی الأوسط بنحوہ۔ (مجمع الزوائد ج؛۸ ص:۴۲۷، باب فی وداعہ صلی اللہ علیہ وسلم، طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت)۔

