بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

انبیائے کرام علیہم السلام

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ جنازہ کس طرح پڑھی گئی؟

سوال:۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ کی امامت کس نے کرائی تھی؟ تفصیل سے لکھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ کس ترتیب سے پڑھی گئی تھی؟

جواب:۔

حاکم (ج:۳ ص:۶۰) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا یارسول اللہ! آپ کی نماز جنازہ کون پڑھے گا؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری تجہیز و تکفین سے فارغ ہوجائو تو تھوڑی دیر کے لئے حجرہ سے باہر نکل جانا، سب سے پہلے مجھ پر جبریل نماز پڑھیں گے، پھر میکائیل، پھر اِسرافیل، پھر ملک الموت، پھر باقی فرشتے، اس کے بعد میرے اہل بیت کے مرد نماز پڑھیں گے، پھر اہل بیت کی عورتیں، پھر گروہ در گروہ آکر تم سب مجھ پر صلوٰۃ و سلام پڑھنا۔(۱)

چنانچہ اسی وصیت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ پڑھی گئی، اس نماز میں کوئی امام نہیں تھا بلکہ صحابہ کرامؓ گروہ در گروہ حجرئہ شریفہ میں داخل ہوکر صلوٰۃ و سلام پڑھتے تھے، یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ تھی۔(۲) ابن سعد کی روایت میں ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما ایک گروہ کے ساتھ حجرۂ نبوی میں داخل ہوئے اور جنازہ پڑھا،(۳) اس طرح تیس ہزار مردوں اور عورتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ پڑھی، اس مسئلے کی تفصیل حضرت مولانا محمد ادریس کاندہلویؒ کی کتاب ’’سیرۃ المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ (جلد:۳ ص:۱۸۷ وما بعد) میں اور اس ناکارہ کی کتاب ’’عہدِ نبوت کے ماہ و سال‘‘ (ص: ۳۸۰) میں ملاحظہ کی جائے۔

  1. (۱) عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قال: لما ثقل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قلنا من یصلی علیک یا رسول اللہ؟ فبکٰی وبکینا، وقال: مھلا غفر اللہ لکم وجزاکم عن نبیکم خیرًا، إذا غسلتمونی وحنطتمونی وکفنتمونی فضعونی علٰی شفیر قبری ثم أخرجوا عنی ساعۃ فإن أوّل من یصلی علیَّ خلیلی وجلیسی جبریل ومیکائیل ثم إسرافیل ثم ملک الموت مع جنود من الملائکۃ، ثم لیبدأ بالصلاۃ علیَّ رجال أھل بیتی، ثم نساؤھم، ثم أدخلوا أفواجًا وفرادی ۔۔۔إلخ۔ (المستدرک للحاکم ج:۳ ص:۶۰ طبع دار الکتاب العربی، بیروت)۔
  2. (۲) لما توفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، وضع علٰی سریرہ فکان الناس یدخلون علیہ زمرًا زمرًا یصلّون علیہ ویخرجون ولم یؤمھم أحد۔ (طبقات ابن سعد ج:۲ ص:۲۸۸)۔ وأیضًا فوقع کما قال صلی اللہ علیہ وسلم، فصلّی علی صلی اللہ علیہ وسلم أوّلًا ۔۔۔ فصلوا کلھم افذاذًا منفردین لَا یؤمھم أحد۔ (بذل القوۃ ص:۲۹۹)۔
  3. (۳) لما کفن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، وضع علٰی سریرہ ودخل أبوبکر وعمر فقالَا: السلام علیک أیھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، ومعھما نفر من المھاجرین والأنصار قد ما یسع البیت فسلّموا کما سلَّم أبوبکر وعمر وصفوا صفوفًا لَا یؤمھم علیہ أحد ۔۔۔إلخ۔ (طبقات ابن سعد ج:۲ ص:۲۹۰)۔