انبیائے کرام علیہم السلام
منہ پر تعریف کرنا ہر ایک کے لئے ممنوع نہیں
سوال:۔
حدیث شریف میں ہے کہ منہ پر تعریف کرنے والے کے منہ میں مٹی ڈالدو، جب کہ حضور علیہ السلام نے خود اپنی شان میں قصیدے سنے ہیں۔ ایک قصیدے پر حضور علیہ السلام نے کعب بن زہیر کو خوش ہوکر اپنی چادر مبارک عطا فرمائی جو بعد میں حضرت معاویہؓ نے ان سے بیس ہزار درہم میں خرید لی۔
جواب:۔
ہر شخص کے احوال مختلف ہیں، منہ پر مٹی ڈالنے سے مراد یہ ہے کہ اپنا نفس نہ بگڑ جائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اس کا دُور دُور تک بھی احتمال نہیں،(۱) پھر ایک شخص جس کے قتل کا حکم فرمادیا وہ اظہار امان و عقیدت کے قصیدے پڑھتا ہے، بجاطور پر وہ انعام کا مستحق ہے۔
- (۱) عن المقداد بن الأسود قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إذا رأیتم المدّاحین فأحثوا فی وجوھھم التراب۔ رواہ مسلم۔ (مشکوٰۃ ص:۴۱۲)۔ وفی المرقاۃ: والمراد زجر المادح والحث علٰی منعہ من المدح لأنہ یجعل الشخص مغرورًا ومتکبّرًا۔ (مرقاۃ المفاتیح ج:۴ ص:۶۲۶ باب حفظ اللسان والغیبۃ والشتم)۔ وفی شرح المسلم للنووی: باب النھی عن المدح إذا کان فیہ إفراط وخیف منہ فتنتہ علی الممدوح ذکر مسلم فی ھٰذا الباب الأحادیث الواردۃ فی النھی عن المدح وقد جاءت أحادیث کثیرۃ فی الصحیحین بالمدح فی الوجہ، قال العلماء وطریق الجمع بینھما ان النھی محمول علی المجازفۃ فی المدح والزیادۃ فی الأوصاف أو علٰی من یخاف علیہ فتنۃ من إعجاب ونحوہ إذا سمع المدح وأما من لَا یخاف علیہ ذٰلک لکمال تقواہ ورسوخ عقلہ ومعرفتہ فلا نھی فی مدحہ فی وجھہ إذا لم یکن فیہ مجازفۃ بل إن کان یحصل بذٰلک مصلحۃ کنشطہ للخیر أو الْإزدیاد منہ أو الدوام علیہ أو الْإقتداء بہ کان مستحبًّا، واللہ أعلم۔ (شرح نووی علٰی مسلم ج:۲ ص:۴۱۴ طبع قدیمی کتب خانہ)۔ وفی فتح الباری: حاصل النھی أن من أفرط فی مدح آخر بما لیس فیہ لم یأمن علی الممدوح العجب لظنہ أنہ بتلک المنزلۃ، فربما ضیع العمل والْإزدیاد من الخیر اتکالًا علٰی ما وصف بہ، ولذٰلک تأوّل العلماء فی الحدیث الاخر: ’’احثوا فی وجوہ المداحین التراب‘‘ أن المراد من یمدح الناس فی وجوھھم بالباطل، وقال عمر: المدح ھو الذبح، قال وأما من مدح بما فیہ فلا یدخل فی النھی، فقد مدح صلی اللہ علیہ وسلم فی الشعر والخطب والمخاطبۃ ولم یحث فی وجہ مادحہ ترابًا۔ (فتح الباری ج:۱۰ ص:۴۷۷)۔

